دورِ حاضر میں یزیدیوں کی پہچان | فلسطین، کربلا، عرب امارات اور پاکستانی محنت کشوں کی دردناک حقیقت

Image
  دور حاضر میں یزیدیوں کی پہنچان   تحریر:   بشارت موسوی     امام حسینؑ اور اہلِ بیتؑ کی عظیم قربانی  یہ تحریر سانحۂ کربلا، امام حسینؑ کی عظیم قربانی، فلسطین پر جاری مظالم، عرب امارات میں پاکستانی محنت کشوں کے خلاف کارروائیوں اور موجودہ دور میں یزیدی سوچ کے مختلف پہلوؤں پر مبنی ہے۔ میں نے اسلامی تاریخ اور موجودہ عالمی حالات کو جوڑتے ہوئے اپنے خیالات پیش کیے ہیں۔ امام حسین علیہ السلام اور انکے خاندان کو یزید نے کربلا کے مقام پر شہید کیا  امام علیہ السلام کو شہید کرنے کے بعد مختلف جگہوں پر جشن منایا گیا امام علیہ السلام         کے سر مبارک  کو پامال کیا گیا ، اس شہزادے کے سر کی بے حرمتی کی گئی جسے رسول ص اپنے کندھوں پر سوار کرتے  تھےاپنے شہزادوں کو گھوڑ سواری  کرواتے تھے،  امام حسین علیہ السلام کی اس عظییم الشان قربانی کو  تاریخ نے محفوظ کیا ہے، آج پوری دنیا امام حسین  علیہ السلام کی بچوں کے ساتھ دین محمدی ص کے لیے دی گئی عظیم قربانی کو یاد کرتی ہے۔   بیشک     " قتل حسین  ...

PTCL Corrupts Management

 پی۔ٹی۔سی۔ایل انتظامیہ یا  بدمعاش و کرپٹ افسران  


                                                                               تحریر: بشارت موسوی       
پی۔ٹی۔سی۔ایل  انتظامیہ مگرمچھوں کی آماجگاہ ہے 
 جہاں پر ظالم و معافیہ حکمرانی کرتے ہیں   

اس بد معاش انتظامیہ نے رانا ماجد شہید کے بعد ملازمین کے ساتھ بڑے بڑے فراڈ کیے ہیں اور انھیں تگنی کا ناچ نچایا ہے اور ابھی تک نچا رے ہیں۔ 
 
میری کہانی میری زبانی ملاحظہ فرمائیں۔ 

میں اگست 1993 میں 21 سال کی عمر میں بطور ڈیلی ویجز آئی۔ٹین۔تھری ٹیلی فون  ایکسچینج میں بھرتی ہوا تھا۔

 یہ سوچ کر اس محکمہ میں قدم رکھا تھا کہ آنے والا وقت  بہت اچھا ہو گا اور ترقی کی منازل طے ہوں گی، لیکن جب بھرتی ہوا تو میرے اور ساتھیوں کے ذہنوں کو  روزانہ کی بنیاد پر پریشان رکھا جاتا، انتظامیہ آپنے چمچوں اور کھڑچوں کی مدد سے تمام ڈیلی ویجز دوستوں کو روزانہ کی بنیاد پر پریشان کرتی رہتی کہ انقریب نوکری سے نکال دیئے جائیں گئے۔

 یہ وہ وقت تھا جب یہ محکمہ ایک سونے کی چڑیا کی مانند تھا اور محکمہ بہترین منافع میں تھا اور ملکی معیشت میں اپنا حصہ ڈال رہا تھا،  جہاں پرمننٹ  ملازمین بھی بہت خوش تھے، انھیں بہترین تنخواہ اور مراعات دستیاب تھیں، نقصان میں صرف میرے جیسے کچھ ملازمین تھے، جو 2،3 ماہ تک تنخواہ کے لیے ترستے رہتے تھے، اس وقت ہماری تنخواہ    -/1000 روپے سے -/1200 روپے تک رکھی گئی تھی، اور یہ تنخواہ بھی بمشکل ساتھیوں کو دستیاب تھی۔ 

 اس تھوڑی تنخواہ میں بھی انتظامیہ کی 2 نمبریاں شامل حال رہتی تھیں کیونکہ ان پیسوں میں سے دفتر میں موجود سپر وائزر، ایس۔ڈی۔او اور اسسٹنٹ انجینئرز ملی بھگت کے ساتھ  ڈیلی ویجز ملازمین کے پیسوں کی کٹوتی کرتے تھے اور انکا حق غصب کرتے تھے، یہ کھیل اگست 2004 تک اسی طرح جاری رہا۔ 

اسی دوران 1996 کا پیکج آیا اس پیکج سے کچھ ملازمین کو فائدہ ہوا،  من پسند ملازمین کو کرپٹ افسران نے بھرتی کروایا جنکی سروس بہت کم تھی اور جونئیر تھے لیکن انھیں بھی کرپٹ افسران نے ریگولر کروایا۔ 

میں اور میرے چند ساتھی اپنے افسران کا منہ دیکھتے رے کیونکہ انھوں نے اپنی فرعونیت کو قائم رکھا، میرے سمیت باقی  ساتھیوں کے مستقل آرڈر ہونا چاہیے تھے وہاں ظالم اسسٹنٹ انجینئر رانا محمد اکرم اور ظالم ڈویژنل انجینیر نے اپنی فرعونیت کو برقرار رکھا، مجھے اور میرے ساتھیوں کو ریگولر نہ کیا گیا جو ایک بہت بڑا ظلم و زیادتی تھی۔

اس وقت یہ ہمارے ساتھ بہت بڑی زیادتی تھی، لیکن ہم نے  صبر کیا اور سب کچھ اللہ پر چھوڑ دیا، بھر پور محنت اور ایمانداری سے کام کرتے رے لیکن ریگولر آرڈرز نہیں ہوے۔ 

وقت گزرتا گیا انیسویں صدی کا اختتام ہوا اور 2000 کی صدی کا آغاز ہوا، پریشانیوں میں مزید اضافہ ہوتا چلا گیا لیکن ریگولر آرڈرز کی امید برقرار رہی۔

اس وقت کی یونین بھی دو دھڑوں میں تقسیم تھی، ایک دھڑا انتظامیہ کا موہرا تھا اور دوسرا دھڑا ملازمین کے حق کی بات تو کرتا تھا لیکن یہ ایک کمزور دھڑا تھا جو ملازمین کے مسائل حل نہیں کروا سکتا تھا۔ 

ڈیلی ویجز کی کل تعداد 8000 کے قریب پہنچ گئی تھی، اسی دوران ڈیلی ویجز کے چند لیڈران نے اپنے ساتھیوں کو متعدد کرنا شروع کیا اور اپنے حق کے لیے ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا، ہڑتالیں کیں دفاتر سے بائیکاٹ کیا، وکیل ہائر کیے پیسے لگائے اپنے حق کے لیے  عدالتوں کے دروازے کھٹکائے، لیکن بے شرم انتظامیہ ٹس سے مس نہ ہوئی اور نتیجہ یہ نکلا کرپٹ انتظامیہ و معافیہ جیت گیا اور ہم جیسے کمزور لوگ اپنا مقدمہ ہار گئے، کیونکہ محکمہ کے پاس پیسے اور اثرو رسوخ تھا جو ہمارے ساتھیوں کے پاس نہ تھا۔ 

یہ دور مارشل لاء کا دور تھا اور  مشرف صاحب کا دور تھا، اس وقت ہمارے ڈیلی ویجز ساتھیوں نے ہیڈ کوارٹرز میں ایک ماہ سے زائد دھرنا دیا، لیکن  انتظامیہ ٹس سے مس نہ ہوئی اس وقت پرویز مشرف نے چوہدری شجاعت حسین کو وزیرآعظم کی سیٹ پر منتخب کیا، جب ہڑتال کی اواز چوہدری  شجاعت حسین تک پہنچی تو انھوں نے ارڈرز جاری کیے کہ تمام ڈیلی ویجز ملازمین کو ریگولر کیا جائے، انکے اس آرڈر  پر ہیڈ کوارٹرز سے دھرنا ختم ہوا لیکن بدمعاش انتظامیہ نے اپنی بدمعاشی برقرار رکھی اور اس وقت کے وزیراعظم چوہدری شجاعت حسین  کے حکم کو نہ مانا گیا حتی کہ عدلیہ کے حکم کو بھی نہ مانا گیا اور ڈیلی ویجز ملازمین کو ریگولر نہ کیا گیا۔ 

حالانکہ پی۔ٹی۔سی۔ایل کے قوانین کے مطابق جو بھی ڈیلی ویجز ملازم 90 دن ریگولر کام کرتا ہے اس کے مستقل بنیادوں پر آرڈر کر دیئے جاتے ہیں،لیکن یہاں پر کرپٹ معافیہ نے محکمے کے قوانین کی دھجیاں بکھیر دیں اور عمل درآمد نہ کیا۔  

ڈیلی ویجز کی ہڑتال کا فائدہ اٹھاتے ہوے یونین کا ایک دھڑا اور ڈیلی ویجز کے چند نمائندگان نے انتظامیہ سے مذاکرات کیے اور کچھ تجاویز دیں جنکے تحت یکم ستمبر 2004 کو ڈیلی ویجز ملازمین کے عجیب و غریب این۔سی۔پی۔جی آرڈرز ہوے جو کنٹریکٹ کی بنیاد پر تھے، یہ ایسے گھٹیا قسم کے آرڈرز تھے جنھیں نہ ریگولر سمجھا جائے اور نہ ہی ڈیلی ویجز سمجھا جائے۔

 یہ معافیہ کی ایک بڑی چال تھی جو اس وقت ڈیلی ویجز کو چپ کروانے کے لیے چلی گئی اور یہ چال کامیاب رہی اس چال کے تحت تمام ڈیلی ویجز دوستوں کی تنخواہ -/6600 روپے مقرر کی گئی لیکن کسی پے اسکیل کا ذکر نہیں تھا بس فرضی  پے اسکیل دیئے گئے تھے، ان گھٹیا قسم کے آرڈرز کے بارے میں نہ ہی دوستوں کو بتا سکتے تھے اور نہ ہی فیملی کو بتا سکتے تھے، کہ ہم کس عہدے پر فائزہیں اور ہماری ادارے میں کیا پوزیشن ہے۔  

ڈیلی ویجز ملازمین کو 11 سال طویل انتظار کے بعد یہ ایک انوکھا اور بھونڈا قسم کا تحفہ دیا گیا تھا، 11 سال کی سروس کو رائیگاں کر دیا گیا اس سروس کو شامل نہ کیا گیا ڈیلی ویجز ملازمین کے زندگی کے 11 سال ضائع کیے گئے، کوئی سینئرز شپ نہ دی گئی، جس کا تمام ڈیلی ویجز ملازمین کو تا حال بے حد افسوس و غم ہے۔ 

سابقہ حکومتوں کی غلط پلاننگ کے تحت ادارے کو فروخت کر دیا گیا، کیونکہ فائل ورک تیار ہونے کے باعث مشرف دور حکومت میں ادارے کے 26 فیصد حصے کو متحدہ عرب امارات کی ایک کمپنی اتعصلات کو فروخت کر دیے گئے۔

اتعصلات نے جب چارج سنبھالا تو اس نے سب سے پہلے تقریبن  60 ہزار ملازمین کی فہرست پر غور و فکر کیا، عرب کمپنی زیادہ ملازمین کے حق میں نہیں تھی۔  

عرب کمپنی نے پی۔ٹی۔سی۔ایل کی کرپٹ انتظامیہ و معافیہ سے پوچھ گچھ اور چھان بین کی اور ملازمین کو پیسے دیکر نکالنے کا پروگرام بنایا اور کہا فی ملازم کو 20 لاکھ روپے سے اسکیل کے مطابق ریٹائرڈ منٹ دیتے ہیں، لیکن پی۔ٹی۔سی۔ایل کی کرپٹ انتظامیہ و معافیہ نے کہا "نہیں جناب یہ آپ زیادہ پیسے دے رے ہیں"  ان ملازمین کو فی کس 7،8 لاکھ روپے سے شروع کریں یہ چلے جائیں گئے، اس کرپٹ انتظامیہ نے ملازمین کے بال بچوں اور خاندان کا نہیں سوچا انھوں نے عربوں کی بات کو رد کیا اور تھوڑا پیکج دیکر ملازمین کو محکمہ سے فارغ کروایا ملازمین کے مستقبل اور انکے خاندان والوں کے ساتھ بہت بڑا ظلم و زیادتی کی گئی۔ 

اس طرح 2008 میں ملازمین کو گھٹیا پیکج دیکر بے روزگار کیا گیا اور محکمہ سے نکالا گیا۔

ملازمین کو نکالنے کا یہ طریقہ بڑا ہی افسوسناک تھا ملازم کا پیکج بنا کر اسے ذہنی اذیت دی گئی لسٹیں مرتب کی گئیں اور  لکھا گیا کہ آپکی اب محکمہ کو ضرورت نہیں ہے یہ آپکا پیکج ہے،  پیکج لینا چائیں تو لے لیں ورنہ نہ لیں،  ملازم کو سوچ میں ڈال دیا اور ذہنی معذور بنا دیا، وہ سوچتا رہا پیکج بھی دیا اور محکمہ کہتا ہے ضرورت بھی نہیں ہے، لہذا ملازم نے پریشانی کے باعث  محکمہ چھوڑنے کا پلان بنایا اور اسطرح انتظامیہ نے 40 سے 45 ہزار ملازم کو گندے اور بھونڈے طریقے سے نکال بائر پھینکا اور انکے خاندان کو 7 سے 8 لاکھ روپے دیکر بے وقوف بنا ڈالا۔ 


     مزید 2012 میں رضاکارانہ اسکیم کا ایک اور پیکج دیا گیا جس میں، میں نے بھی تنگ آ کر محکمہ کو اللہ حافظ کہہ دیا، محکمہ نے کہا کہ پینشن دی جائیگی

 وہ بھی جب 60 سال تک عمر ہو گی جہاں پل کی خبر نہیں ہے، یہ بھی ایک لالی پاپ تھا اور پھر کہا اگر کوئی دوبارہ محکمہ جوائن کرنا چائے گا تو اسے دوبارہ نوکری دے دی جائیگی یہ بھی ایک لالی پاپ تھا، میں نے زندگی کے 19 سال اس پی۔ٹی۔سی۔ایل کے محکمہ کو دیئے، محنت و ایمانداری سے کام کیا، لیکن محکمہ کی کرپٹ انتظامیہ نے مایوس کیا، جسکا دکھ جب تک زندہ ہوں رے گا اور مجھ جیسے کئی ساتھی اس کرپٹ انتظامیہ کو بد دعائیں دیتے ہوے اس دنیا سے رخصت ہو گئے، آج انکا خاندان اس کرپٹ انتظامیہ کو بد دعائیں دے رہا ہے۔ 

اس کرپٹ انتظامیہ نے مزید ملازمین کو نکال بائر پھینکا ہے، آج 2021 میں محکمہ کے اندر  گنے چنے چند لوگ باقی ہیں جنکے ساتھ کرپٹ انتظامیہ و معافیہ کھیل، کھیل رہی ہے اور انھیں بے وقوف بنا رہی ہے۔ 

کرپٹ انتظامیہ و معافیہ کے اعلی عہداران نے اپنی علیحدہ سے تھرڈ پارٹی کے نام سے مختلف کمپنیاں بنائی ہوئی ہیں وہاں سے اپنے ہی محکمے کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رے ہیں، نئے ملازمین کو اپنی کمپنی کے تحت بھرتی کر کے پی۔ٹی۔سی۔ایل سے بہترین منافع حاصل کر رے ہیں،آسان لفظوں میں پی۔ٹی۔سی۔ایل کو کرپٹ افسران چونا لگا رے ہیں۔ 

لیکن پی۔ٹی۔سی۔ایل کے اصل محنت کشوں کو کچھ نہیں دے رے ہیں، کیونکہ اصل محنت کش محکمے کے لیے دن رات محنت کرتے ہیں اور کسٹمرز کو راضی رکھتے ہیں،  لیکن معافیہ ہیڈ کوارٹرز میں بیٹھے مزے لوٹ رہا ہے اور دونوں ہاتھوں سے پی۔ٹی۔سی۔ایل کو کھوکھلا کر رہا ہے، یہ معافیہ ملک کے بہترین ادارے کو کمزور کرنے کا
 باعث بنا ہوا ہے۔ 

آج بھی ملازمین محکمے سے اپنے 10فیصد شئیرز کے طلبگار ہیں، کیونکہ ملازمین بھی باقی اداروں کی طرح  اپنا جائز حق طلب کر رے ہیں، لیکن ہیڈ 
کوارٹر میں بیٹھا کرپٹ انتظامیہ و معافیہ ملازمین کے حق کو دبائے بیٹھا یے۔


PTCL Corrupts Management 

Please, Like / Comments / Share

Comments

Popular posts from this blog

سید محسن رضا کاظمی الحمیدی

تین بہن بھائیوں کی درد ناک داستان

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے لیے فرمایا