دورِ حاضر میں یزیدیوں کی پہچان | فلسطین، کربلا، عرب امارات اور پاکستانی محنت کشوں کی دردناک حقیقت

Image
  دور حاضر میں یزیدیوں کی پہنچان   تحریر:   بشارت موسوی     امام حسینؑ اور اہلِ بیتؑ کی عظیم قربانی  یہ تحریر سانحۂ کربلا، امام حسینؑ کی عظیم قربانی، فلسطین پر جاری مظالم، عرب امارات میں پاکستانی محنت کشوں کے خلاف کارروائیوں اور موجودہ دور میں یزیدی سوچ کے مختلف پہلوؤں پر مبنی ہے۔ میں نے اسلامی تاریخ اور موجودہ عالمی حالات کو جوڑتے ہوئے اپنے خیالات پیش کیے ہیں۔ امام حسین علیہ السلام اور انکے خاندان کو یزید نے کربلا کے مقام پر شہید کیا  امام علیہ السلام کو شہید کرنے کے بعد مختلف جگہوں پر جشن منایا گیا امام علیہ السلام         کے سر مبارک  کو پامال کیا گیا ، اس شہزادے کے سر کی بے حرمتی کی گئی جسے رسول ص اپنے کندھوں پر سوار کرتے  تھےاپنے شہزادوں کو گھوڑ سواری  کرواتے تھے،  امام حسین علیہ السلام کی اس عظییم الشان قربانی کو  تاریخ نے محفوظ کیا ہے، آج پوری دنیا امام حسین  علیہ السلام کی بچوں کے ساتھ دین محمدی ص کے لیے دی گئی عظیم قربانی کو یاد کرتی ہے۔   بیشک     " قتل حسین  ...

تین بہن بھائیوں کی درد ناک داستان


 

تین بہن بھائیوں کی درد ناک داستان

 بمطابق سید منظور حسین کاظمی و سید منیر حسین کاظمی کی (زبانی)


تحریر: بشارت موسوی

 تین بہن بھائیوں کی درد ناک داستان – ایک سبق آموز حقیقت

تین بہن بھائیوں کی  درد بھری  ایسی   داستان لکھنے کی کوشش کر رہا ہوں جو سن 1962-63 اور 1964'کی دہائی میں پیش آئی چونکہ یہ داستان میری پیدائش سے  بھی پہلے     کی ہے جسکے بارے میں والدین  اور  خاندان کے بڑے    سینئیرز بزرگوں سے معلومات حاصل کرنے کے بعد تحریر  کر رہا ہوں یہاں  میں اپنے پھوپھی زاد بڑے بھائی سید منظور حسین کاظمی اور سید منیر حسین کاظمی کا مشکور و ممنوں ہوں جنھوں نے اس درد بھری داستان کو لکھنے میں میری بھر پور مدد کی    ہے  ان دونوں بھائیوں نے بھی یہ داستان خود آپنی آنکھوں سے نہیں دیکھی  لیکن    اس وقت میرے    بڑے  بھائی   سید منظور حسین کاظمی موجود تھے  انکا بچپن تھا     انھوں نے اپنے والدین سے   اس   درد بھری داستان کے بارے میں سنا اس داستان کے  سب سے چھوٹے کریکٹر   سید نذیر حسین کاظمی نے بڑے بھائی سید منظور حسین کاظمی کو کافی معلومات دیں   کیونکہ  سید نذیر حسین کاظمی انکے بہنوئی تھے  بقول بڑے بھائی سید منظور حسین کاظمی    ، سید نذیر حسین کاظمی  یہ  تمام واقعات بیان کرتے ہوئے اکثر رو پڑتے تھے۔

 اس تحریر میں کمی بیشی ہو سکتی ہے کیونکہ آنکھوں دیکھا حال بیان کرنے  والی خاندان کی  تما م پرانی و بڑی شخصیات اس دنیا سے پردہ فرما چکی ہیں  جو حقیقی معلومات  کو اچھی طرح جانتی تھیں      مجھے   جو درست معلومات  ملی ہیں انکے   مطابق لکھ دیا ہے  اور  ساتھ یہ بھی واضع کر دیتا  ہوں اگر کسی کے پاس مزید معلومات ہوں تو وہ ضرور کمنٹس کرے یا مجھ ناچیز سے رابطہ کر سکتا ہے جو   بھی مزید  درست  معلومات ملیں گی انھیں اس آرٹیکل میں شامل کر دیا جاے گا / اس درد بھری داستان کو لکھنے کا مقصد کوئی انتقام لینا مقصود نہیں ہے کیونکہ ظلم کرنے والے  بھی اپنے انجام کو پہنچ چکے ہیں   اور جو زندہ  رہ گئے ہیں وہ بھی  آپنے منتقی انجام کو پہنچ جائیں گے  جن پر ظلم کیا گیا وہ بھی اس دنیا کو خیر باد کہہ چکے ہیں ۔

 جہلم ویلی کے ایک گاؤں  موہری سیداں جہاں کاظمی سادات رہتے تھے علم کے لحاظ سے سید گھرانوں کو علمی گھرانا سمجھا جاتا ہے جو صدیوں سے قرآن مجید و فرقان حمید سے استفادہ حاصل کرتے ہوئے پیری مریدی کو اپنانے ہوئے لوگوں کی بے لوث خدمت کرتے رے ہیں یہی سید کی پہچان ہے اور دوسری بڑی پہچان محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ و الہ وسلم  کی نسبت ہے پھر اولاد  علی علیہ السلام ہیں جب انسان وحشی و درندہ بن جاتا ہے تو اسکے اندر علم کی دولت  و روشنی ختم ہو جاتی ہے اسکی مثال ایک جائل انسان     و حیوان  جیسی ہوتی ہے اس وقت اگر کوئی صاحب علم انسان  اسے نصیحت    بھی  کرے  تو اس حیوان نما  انسان پر کسی قسم کا کوئی علمی  اثر نہیں پڑتا کیونکہ اس وقت وہ تمام حدیں پار کر چکا ہوتا ہے ایسے شخص کی  مثال ایک خونخوار جنگلی جانور جیسی ہوتی ہے جیسا کہ اس درد بھری داستان سے معلوم ہوتا ہے ان معصوم بہن بھائیوں پر ظلم کرتے وقت زرا بھی اللہ کے جلال سے نہیں ڈرے ۔ آفسوس  

تین بہن بھائیوں کی داستان بھی موہری سیداں میں پیش آئی یہ تینوں بہن بھائی سید صادق حسین شاہ کاظمی المشہدی بن سید عظیم شاہ کی اولاد تھی بالترتیب ان میں  سے عمر میں بہن  نذیر فاطمہ (عرف پاپی)  بڑی تھیں انکی عمر 13 سے 14 سال کے درمیان تھی ان سے چھوٹے بھائی سید محمد حسین شاہ تھے جنکی عمر 12 سال تھی ان سے چھوٹے بھائی سید نذیر حسین کاظمی تھے انکی عمر 8 سے 9 سال کے درمیان تھی۔  

یہ تینوں بہن بھائی گھر و زمین کے مالک تھے انکی اپنی ذاتی زمین تھی والدین کے انتقال کے بعد خونی رشتے ہونے کے باوجود بھی یہ تینوں بہن بھائی تنہا رہ گئے تھے  یہ اللہ کی دی ہوئی زندگی کو بہتر انداز میں گزارنے کی کوشش کر رے تھے لیکن انھیں جینے نہیں دیا گیا خونی رشتوں نے معصوم بچوں پر ظلم و ستم بڑھا دیا زمین پر قبضہ کرنے کے لیے خونی رشتہ داروں نے اپنے والدین کی مدد سے ان تینوں بہن بھائیوں کا جینا مشکل کر دیا ان سے جینے کی آس ختم کر دی  گئی یوں کہنا مناسب ہو گا تینوں بہن بھائیوں پر اتنا ظلم کیا گیا کہ انھیں اپنے ہی گھر میں موت نظر آنے لگی جہاں پر وہ اپنی زندگی کو غیر محفوظ سمجھنے لگے خاندان کے بڑے و چھوٹے سب تماشہ دیکھتے رے کسی نے بھی معصوم بچوں کے سر پر شفقت کا ہاتھ نہ رکھا، مجھے لکھتے ہوئے افسوس ہو رہا ہے اس زمانے میں موہری  سیداں کی بڑی علمی شخصیات بھی تھیں انھوں نے کیوں آواز حق   بلند نہیں کی ؟ کیو ں معصوم جانوں پر ظلم ہوتے ہوئے  دیکھتے رئے ؟ اس بات کا بھی آفسوس ہے موہری سیداں  اور کایاں آلیٹکی دونوں ہی ایک ہی دادا کی اولاد تھی کایاں آلیٹکی والے سید شیر شاہ کی اولاد تھی جبکہ موہری سیداں والے سید عظیم شاہ کی اولاد تھے یہ دونوں ہی سگے بھائی تھے خونی   رشتوں میں اتنی نفرتیں سمجھ سے بالا تر ہیں ؟ ہمارے بڑے آپنی آنے والی نسلوں کو کیا پیغام دیکر گئے؟  شاہد اس سوال کا جواب ہمیں کبھی بھی نہ ملے؟؟؟؟

انکے رشتے داروں میں انکے کزن سامو، طابو اور صگو نے ان تینوں بہن بھائیوں کا جینا حرام کر دیا    تھا زیادہ مار پیٹ میں سامو اور طابو سر فہرست رے انھوں نے ان


بچوں کا   دن،    رات جینا دوبھر کر دیا  تھا۔  

ایک دن سامو اور طابو نے معصوم بچی کو اتنا مارا اور ڈرایا جسکی وجہ سے معصوم بچی نے رات کے اندھیرے میں اپنے علاقے کو چھوڑ دیا اس مشکل علاقے میں جہاں پر خونخوار جنگلی جانور، سانپ ک زہریلے  کیڑے مکوڑے وافر مقدار میں پائے جاتے  تھے ہر قدم  پر موت ہی موت  نظر آ رہی تھی لیکن اس معصوم بچی نے ان تمام رکاوٹوں کو عبور کیا وہ سرحد پار کرتی ہوئی  مقبوضہ کشمیر کے علاقے دولانجہ  جا پہنچی جہاں کچھ رشتہ رہتے تھے لیکن ان رشتہ داروں نے  محدود وسائل کے باعث اس  بچی کے سر پر ہاتھ نہ رکھا اپنے گھر میں رہنے کی اجازت نہ دی وہ بچی وہاں کسی غیر سادات کے گھر گئی انھوں نے سید زادی ہونے کے ناتے  اسکی پرورش کی کچھ عرصہ اپنے گھر  میں رکھنے کے بعد بانڈی پورہ اووڑی ضلع فارمولا میں ایک سید گھرانے میں شادی کر دی گئی    شادی میں اسکا کوئی بھی اپنا رشتہ دار شریک نا ہوا  دونوں چھوٹے بھائی جنکی کوئی خبر نہ تھی شادی  میں شریک نہ ہو سکے  اور نا ہی کوئی رشتہ دار آیا ایک بے آسرا بہن غیر سادات کے گھر سے رخصت ہو کر    انجان سید گھرانے میں  بیاہ دی گئی  جسے اپنے مہکے کی کوئی امید نہ تھی اور نہ ہی یہ امید تھی کہ اسکے والدین  اسے ملنے آئیں گے کیونکہ انکا پہلے ہی انتقال ہو چکا تھا اور بھائی بچپن میں ہی  ظلم و ستم کے باعث بچھڑ گئے تھے   بس اللہ ہی کا آسرا تھا  یہاں اس سید برادری کا  بھی ضرور شکریہ ادا کرتا ہوں جنھوں اس بے آسرا عورت کو عزت بخشی اسے اپنے گھر عزت کے ساتھ رکھا مار پٹائی کی ہے یا خوش رکھا یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے یقینن اللہ نے اسے  اولاد کی نعمت سے نوازا ہوگا  بڑوں سے سننے میں آیا اسکی اولاد بھی تھی جو وہاں ہی مقبوضہ وادی میں رہائش  پذیر ہے  جنھیں شاہد اس نے بتایا ہو اس پار  آپکے رشتے دار بھی ہیں  سگے ماموں بھی ہیں  لیکن اب بہت دیر ہو گئی  وہ اپنے ماموں سے نہیں مل سکیں گے اگر کبھی زندگی میں ملاقات  کا وقت آیا    تو وہ صرف آپنے  ماموں  مرحوم کی تصاویر ہی دیکھ سکیں گے۔  

دوسری جانب موہری سیداں میں سامو، طابو اور صگو نے محمد حسین اور نذیر حسین پر ظلم و ستم کی انتہا کر دی دونوں بھائی موہری سیداں کو چھوڑنے پر   مجبور ہو گئے ایک بھائی محمد حسین 12 سال کی عمر میں ضلع مظفر آباد  پہنچ گیا جہاں اسے ایک قریشی فیملی نے پناہ دی اور روزگار دیا محمد حسین نے خوب محنت مزدوری کرتے ہوئے ایک مقام بنایا جوان ہونے تک قریشی فیملی نے پاس رکھا اور قریشی فیملی میں ہی اسکی شادی کر دی گئی جہاں اس نے محنت مزدوری کر کے مظفر آباد میں اپنا گھر تعمیر کیا اور وہاں ہی مستقل بنیادوں پر رہائش اختیار کر لی اللہ نے اولاد کی دولت سے نوازا اپنے بچوں کی اچھی  تعلیم و تربیت کے لیے انھیں پڑھایا لکھایا کسی کو ڈاکٹر بنایا کسی کو انجینئر بنایا ماضی کو بھول کر اپنی زندگی میں مصروف ہو گیا کسی بھی رشتہ دار سے رابطہ نہ رکھا وہ سمجھتا تھا جب اسے سہارے کی ضرورت تھی تو وہاں کسی بھی رشتے دار  نے اسکے سر پر ہاتھ نہ رکھا جسکی وجہ سے وہ در در کی ٹھوکریں کھاتا رہا  اس بات کا اسے بہت دکھ تھا ماضی کے ظلم و ستم کو یاد کرکے اسکی آنکھیں  اکثر نم ہو جاتی تھیں۔

چھوٹا معصوم بھائی سید نذیر حسین کاظمی 8 سے 9 سال کی عمر میں در رد کی ٹھوکریں کھاتا ہوا کشمیر کے شہر باغ پہنچا جہاں وہ ایک گھر میں بطور نوکر کام کرنے لگا لیکن وہاں پر ان لوگوں کے ظلم و ستم کے بعد اس نے اس علاقے کو بھی خیر باد کہہ دیا وہاں سے سفر کرتا ہوا راولپنڈی شہر کے ایک علاقے شمس آباد جا پہنچا وہاں موجود پیٹرول پمپ پر کھڑی ایک گاڑی والے کو کہا مجھے نوکری دے دیں میں پردیسی ہوں میرا کوئی سہارا و مددگار نہیں ہے اسکی قسمت جاگ گئی دراصل وہ گاڑی ایک کاروباری اور خدا ترس پٹھان کی تھی خان گاڑیوں کا کاروبار کرتا تھا وہ ملتان کا رہائشی تھا اور ایک مشہور کمپنی کا مالک بھی تھا ایک دن خان نے اپنی گاڑی کے ساتھ اس معصوم بچے کو دیکھا تو آپنے ڈرائیور سے پوچھا یہ بچہ کون ہے تو  ڈرائیور نے کہا ایک پردیسی ہے اس نے نوکری کا کہا تھا میں نے ساتھ رکھ لیا ہے کمپنی مالک خان نے کہا نہیں یہ معصوم بچہ گاڑی پر کام نہیں کر سکتا اسے میں اپنے ساتھ گھر لے جاونگا جہاں یہ گھر کا کام کریگا اس خدا ترس خان نے اس معصوم بچے کو اپنے ساتھ رکھا گھر لے گیا اب وہ بچہ محنت سے کام کرنے لگا پھر اس نے خان کی گاڑیوں پر ہی ڈرائیونگ سیکھ لی   یہ بچہ خان کی کمپنی میں بطور ڈرائیور کام کرنے لگا ٹرک چلانے لگا اللہ نے خوبصورت جوانی عطا فرمائی ایک دن راجہ بازار میں بیٹھا تھا اسکی نظر موہری سیداں کی جانی پہچانی سیاسی شخصیت سید صغیر حسین کاظمی پر پڑی سید صغیر حسین کاظمی اس بچے کو نہیں جانتے تھے کیونکہ یہ بچہ  چھوٹی عمر میں ظلم و ستم کے باعث موہری سیداں کو چھوڑ گیا تھا رشتے میں سید صغیر حسین کاظمی بچے کے چچا لگتے تھے اس نے صغیر حسین کاظمی کو پہنچاتے ہوئے سلام کیا اور تعارف کروایا تو انھوں پہنچان لیا اپنے ساتھ رکھا خاندان والوں سے ملاقات کروائی جن میں خاندان کی بڑی شخصیت پیر سید سائیں شاہ سے ملاقات کروائی گئی جو سید سخی حسین شاہ کے بڑے بھائی تھے کایاں آلیٹکی کے رہنے والے تھے،  بچے کو بچپن کے سارے ظلم و زیادتیوں کے واقعات اچھی طرح یاد تھے لیکن سید سائیں شاہ اور سید صغیر حسین کاظمی کی بات مانتے ہوئے ماضی کی تخلیوں  کو درگزر کیا کیونکہ اگر چچا صغیر حسین کاظمی اور سید  سائیں شاہ کاظمی نہ سمجھاتے تو جس طرح اللہ نے نذیر حسین کاظمی کو صحت وتندرستی عطا فرمائی تھی وہ اپنے دشمنوں سے اچھے انداز میں بدلا لے سکتا تھا لیکن ایک فرمانبردار بچہ ہونے کے ناتے بدلے کا نہ سوچا بلکہ خاندان کے بڑوں کی عزت کی خاندان میں اپنے آپ کو متعارف کروایا بیلہ سیداں میں سید عنایت حسین شاہ نے اپنی بیٹی کا رشتہ دیا یعنی منگنی کر دی گئی یہ منگنی پانچ سال تک قائم رہی لیکن جب شادی کا وقت آیا تو منگنی توڑ دی گئی یتیم بچے کا دل پھر سے ٹوٹ گیاوہ یہی سوچتا رہا  میں خاندان میں دوبارا کیوں شامل ہوا ہوں جنھوں نے ایک مرتبہ پھر مجھے ٹھکرا دیا ہے اور میرے بچپن کے دکھوں کو پھر سے تازہ دم کر دیا ہے۔ 

   خوبصورت جوانی کے باعث خاندان کا ہر  شخص گھبراتا و ڈرتا تھا اور سمجھتا تھا اگر اس نے ماضی کو یاد رکھا تو خون خرابے کا اندیشہ ہے لیکن سارا کریڈٹ علمی شخصیات،  سید سائیں شاہ کاظمی، سید سخی حسین کاظمی اور صغیر حسین کاظمی کو جاتا ہے جنھوں نے بچے کو سمجھایا خاندان کے ساتھ جڑے رہنے کا درس دیا جس  پر بچے نے عمل   کیا ۔



 

سید نذیر حسین کاظمی کی پانچ سال بعد منگنی ٹوٹنے کے بعد سید صغیر حسین کاظمی نے خاندانی بڑی شخصیت پیر سید سائیں شاہ سے رشتے کی بات کی تو سید سائیں شاہ نے سید نذیر حسین کاظمی سے دریافت کیا آپ پریشان نہ ہوں بتائیں آپ خاندان میں کہاں شادی کرنا چاہتے ہیں،  سید نذیر حسین کاظمی نے کہا مجھے چچا سید سخی حسین شاہ  کے گھر سے رشتہ لے دیں تو پیر سید سائیں شاہ کاظمی نے اسی وقت کہا میں نے تمھیں رشتہ دے دیا تم شادی کی تیاری کرو جب تیاری کر لو تو مجھ سے رابطہ کرو ساتھ ہی اپنے چھوٹے بھائی پیر سید سخی حسین کاظمی کو گاؤں موہری سیداں میں پیغام بھجوایا اور کہا فلاں بیٹی کا رشتہ کسی کو نہ دیں کیونکہ میں نے یہ رشتہ سید نذیر حسین کاظمی ولد سید صادق حسین کاظمی کو دے دیا ہے اور ساتھ ہی کہا خبر دار یہ رشتہ اب میری اجازت کے بغیر کسی کو بھی دیا، پیر سید سخی حسین کاظمی نے اپنے بڑے بھائی کے حکم کی تعمیل کی انکار نہ کیا رشتے کے لیے حامی بھر دی اس طرح سید سائیں شاہ کاظمی نے اپنی بھتیجی اور سید صغیر کاظمی نے  آپنی بھانجی  کی شادی کے لیے تیاریاں شروع کر دیں چونکہ پیر سید سائیں شاہ کاظمی اسلام آباد میں نوکری کے شعبے سے وابستہ تھے تو انھوں نے چھوٹے بھائی سید سخی حسین شاہ کاظمی کو پیغام بھجوایا شادی کی تیاری کریں ہم پہنچ رے ہیں شدید سردی اور برف باری کے باوجود سید سائیں شاہ کاظمی نے موہری سیداں کا رخ کیا شدید سردی و برف باری کے دوران گاؤں کے لوگوں نے  سید نذیر حسین کاظمی کی شادی کے لیے لکڑیوں کا بندوبست کیا جن میں ڈبراں کی اعوان برادری اور ترہیڑی کی سید برادری نے سید نذیر حسین کاظمی کی شادی کے لیے ضروری مالی و دیگر معاملات کو سنبھالا اور بھر پور تعاون کیا جسکی  بدولت سید نذیر حسین کاظمی کی شادی باخیریت طریقے سے انجام کو پہنچی، یہ لکھنا ضروری سمجھتا ہوں سید محمد حسین کاظمی اور سید نذیر حسین کاظمی جنھیں بچپن سے ہی مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا جب جوانی کی عمر کو پہنچے بچپن کی یادیں و تکلیفیں یاد آئیں تو انتقام کی آگ انکے سینوں جلنے لگی تو وہاں پر  پیر سید سائیں شاہ کاظمی،  پیر سید سخی حسین شاہ کاظمی اور علاقے کی جانی مانی سیاسی شخصیت سید صغیر حسین کاظمی نے سید محمد حسین کاظمی اور سید نزیر حسین کاظمی کو خاندان میں دوبارا شامل کیا انکے اندر جلنے والی انتقام کی آگ کو خوبصورتی سے ٹھنڈا کیا تاکہ خاندان میں پیار و محبت کا سلسلہ آگے بڑھتا رے مزید خون خرابہ نہ خاندان آپس میں جڑا رے۔  

تینوں بہن بھائی شادیاں کرنے کے بعد عملی زندگی میں داخل ہو گئے لیکن تینوں  اکٹھے نہ ہو سکے دوری برقرار رہی بڑی بہن میلوں دور مقبوضہ کشمیر دولانجہ میں رہائش پزیر تھی اور چھوٹا  بھائی سید محمد حسین کاظمی ضلع مظفر میں مستقل سکونت اختیار کیے ہوئے تھا تینوں ایک دوسرے کے گھروں کا راستہ نہیں جانتے تھے بہن بھائیوں کی مل بیٹھ کر گفتگو کرنا ایک دوسرے کے دکھوں کو بانٹنا ایک دوسرے کے چہروں کو دیکھنا ایک خواب بن گیا تھا تینوں بہن بھائی ایک دوسرے کی محبت میں تڑپتے رے۔

چھوٹے بھائی سید نذیر حسین کاظمی نے بھائی کی تلاش جاری رکھی وہ اپنے چچا سید صغیر حسین کاظمی کی کوششوں سے اپنے بڑے بھائی سید محمد حسین کاظمی کو تلاش کرنے میں کامیاب ہو گیا دونوں بھائی آپس میں مل گئے لیکن اپنی بہن کو نہ تلاش کر سکے اسکی جدائی دن بدن محسوس ہو رہی تھی دونوں بھائیوں میں بہن کے لیے بہت تڑپ موجود تھی۔

سن 70 کی دہائی میں سید نذیر حسین کاظمی نے محنت مزدوری کی خاطر ملک چھوڑنے کا پروگرام بنایا اور چچا سید صغیر حسین کاظمی کی مدد و رہنمائی سے سعودی عرب کے لیے اڑان بھری جہاں اپنے بچوں کے لیے محنت مزدوری کرتے ہوئے اسلام آباد کے سیکٹر آئی۔ٹین۔ون میں ایک گھر تعمیر کیا اور ساس سسر کو ساتھ رکھا زندگی گزارنے لگا طویل محنت مزدوری کرنے کے بعد سن 90 کی دہائی میں سعودی عرب کو خدا حافظ کہہ دیا واپس پاکستان پہنچ گیا جہاں بچے جوان ہو چکے تھے  بقایا زندگی کو بچوں کے ساتھ پاکستان میں ہی گزارنا پسند کیا مزید پردیس  جانے کا فیصلہ  نہ کیا۔

بھائیوں کی تڑپ نے بہن کو مقبوضہ وادی میں بہت ستایا تو اس نے کوشش کر کے مقبوضہ کشمیر سے بھائیوں کا پتہ لگوا لیا اب بہن بھائیوں میں خط و کتابت کا سلسلہ شروع ہوا تینوں بہن بھائیوں کی خوائش تھی ملاقات ہو جائے لیکن ملکی حالات و واقعات کے باعث ملاقات نہ ہو سکی چھوٹا بھائی مظفر آباد میں   دل میں بہن کی تڑپ لیے  اس دنیا کو چھوڑ گیا دوسری جانب کچھ عرصہ بعد مقبوضہ وادی میں بہن بھی بھائیوں کی ملنے کی آس لیے اس جہان فانی سے رخصت ہو گئی۔

چھوٹا بھائی سید نذیر حسین کاظمی شدید بیمار ہوا  ہر لمحہ اپنے بڑے بھائی سید محمد حسین کاظمی کو یاد کرتا رہا تڑپتا رہا ساتھ اپنی بڑی بہن کو بھی یاد کرتا رہا لیکن نظام قدرت تینوں بہن بھائیوں کی ملاقات نہ ہو سکی چھوٹا بھائی بہن کو یاد کرتے کرتے اس دنیا سے اوجھل ہو گیا تینوں بہن بھائیوں کی ملنے کی حسرتیں ہمیشہ کے لیے دم توڑ  گئیں۔

تینوں بہن بھائی اس دنیا سے یہ تمنا لیکر چلے گئے کاش ہم تینوں بہن بھائی اکٹھے مل بیٹھتے ایک دوسرے کی شکلوں میں اپنے والدین کو تلاش کرتے خوش گپیاں کرتے زندگی کے لمحات کو یاد کرتے کاش ایسا ممکن ہوتا؟

تینوں بہن بھائی اس دنیا میں تو نہ مل سکے دنیا والوں نے  بھی نہ ملنے دیا لیکن روز محشر ضرور ایک دوسرے سے ملاقات کرینگے اور اللہ سے ضرور ان ظالم رشتہ داروں کا شکوہ کرینگے جنھوں نے ان  معصوم بہن بھائیوں پر ظلم کی انتہا کر دی انھیں رات کے اندھیرے میں اپنا ہی گھر چھوڑنے پر مجبور کیا جسکی وجہ سے ان تینوں بہن بھائیوں کو در در کی ٹھوکریں کھانا پڑیں اور دنیا جہاں کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔

اے کاش اسوقت کوئی ایسا مسیحا ہوتا جو ان تینوں بہن بھائیوں کو آپس میں ملا دیتا انکی خوشیوں کو دوبارہ واپس لٹا دیتا انکے بچپن کے دن واپس کر دیتا انکی دوریوں کو ختم کر دیتا جو آپس میں ملاقات کی حسرتیں لیے اس بے رحم دنیا سے بے ہائیں بھرتے ہوئے رخصت  ہو گئے۔  (افسوس).

سوال تو یہ بھی ہے کاش وہ ظالم رشتہ دار  اس وقت ان تینوں بہن بھائیوں سے معافی مانگ لیتے اللہ سے ڈرتے انھیں اپنے گلے لگا لیتے انھیں اپنے پاس بلا لیتے انکو اکٹھا کرتے لیکن وہ  سارے ظالم رشتہ دار باری باری اس دینا کو چھوڑ گئے جو زندہ ہیں انھیں ابھی تک اپنی غلطی کا احساس نہ ہوا اور نا ہی کوئی پچھتاوا ہوا۔

ان ظالموں نے ان معصوموں کو بچپن میں اکٹھے کھیلنے نہ دیا، بہن بھائیوں میں ہونے والی چھوٹی چھوٹی شرارتوں کو دور کر دیا گیا، بہن بھائیوں کو ایک دوسرے کی خوشیوں میں شرکت کرنے میں رکاوٹ ڈال  دی گئی، لیکن اللہ کی لاٹھی بڑی بے آواز ہے روز محشر اللہ ضرور ان معصوم بچوں کے ساتھ انصاف کریگا وہ ان ظالم رشتہ داروں کو قرار واقعی سزا دیگا کیونکہ اللہ بہترین انصاف کرنے والا ہے۔

  دعا ہے میرا عظیم اللہ نذیر فاطمہ، سید محمد حسین کاظمی، سید نذیر حسین کاظمی و لد  سید  صادق حسین شاہ کاظمی کی مغفرت فرمائے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، پنجتن پاک کی شفاعت نصیب فرمائے اور وقت کے امام کا دیدار نصیب فرمائے۔

آمین بحق معصومین علیہ السّلام۔

کہانی کا سبق

یہ درد ناک داستان ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ 

  • رشتوں کی قدر کریں
  • مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ نہ چھوڑیں
  • دولت سے زیادہ اہم محبت اور خلوص ہے
  • وقت گزرنے سے پہلے اپنے پیاروں کو اہمیت دیں 

Please Comments , Share and Follow

Comments

Popular posts from this blog

سید محسن رضا کاظمی الحمیدی

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے لیے فرمایا