دورِ حاضر میں یزیدیوں کی پہچان | فلسطین، کربلا، عرب امارات اور پاکستانی محنت کشوں کی دردناک حقیقت
شاعرِ مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال
(Dr. Allama Muhammad Iqbal
– The Poet of the East)
تحریر: بشارت موسوی
ڈاکٹر علامہ محمد
اقبال برصغیر کے عظیم شاعر، مفکر اور فلسفی تھے جنہوں نے اپنی شاعری اور فکر کے ذریعے
مسلمانوں میں نئی روح اور بیداری پیدا کی۔ وہ نہ صرف اردو اور فارسی کے بڑے شاعر
تھے بلکہ ایک ایسے مفکر بھی تھے جن کے خیالات نے مسلمانوں کی سیاسی اور فکری سمت کو
بدلنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی وجہ سے انہیں شاعرِ مشرق کے لقب سے یاد کیا جاتا
ہے۔
ڈاکٹر علامہ محمد
اقبال 9 نومبر 1877 کو برصغیر کے شہر سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان مذہبی
اور روحانی اقدار کا حامل تھا۔ ان کے والد شیخ نور محمد ایک نہایت درویش صفت اور
روحانی مزاج کے انسان تھے۔ اگرچہ وہ زیادہ تعلیم یافتہ نہیں تھے لیکن علم اور تعلیم
کی اہمیت کو بخوبی سمجھتے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ ان کا بیٹا اعلیٰ تعلیم حاصل کرے
اور علم کے میدان میں نمایاں مقام حاصل کرے۔
اقبال کی والدہ امام بی بی نہایت نیک، ہمدرد اور رحم دل خاتون تھیں۔ گھر کے اس ماحول نے اقبال کی شخصیت پر گہرا اثر ڈالا اور بچپن ہی سے ان کے اندر علم اور روحانیت کا رجحان پیدا ہوا۔
تعلیم
اور علمی سفر
علامہ اقبال نے اپنی ابتدائی تعلیم سیالکوٹ کے ایک مقامی اسکول سے حاصل کی۔ بعد ازاں انہوں نے مرے کالج سیالکوٹ سے انٹرمیڈیٹ کا امتحان پاس کیا۔ اس کے بعد وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے لاہور چلے گئے جہاں انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور میں داخلہ لیا۔ یہاں انہوں نے فلسفہ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی اور اپنی غیر معمولی ذہانت اور صلاحیتوں کی وجہ سے اساتذہ اور طلبہ میں ممتاز مقام حاصل کیا۔
تعلیم مکمل کرنے
کے بعد انہیں گورنمنٹ کالج لاہور میں فلسفہ کے لیکچرر کے طور پر مقرر کیا گیا۔
تاہم علم کے شوق نے انہیں مزید تعلیم حاصل کرنے پر آمادہ کیا اور 1905 میں وہ اعلیٰ
تعلیم کے لیے یورپ روانہ ہوگئے۔
یورپ
میں تعلیم
یورپ میں قیام کے
دوران اقبال نے انگلینڈ کی کیمرج یونیورسٹی سے قانون کی تعلیم حاصل کی اور بار ایٹ
لاء کی ڈگری حاصل کی۔ اسی دوران انہوں نے فلسفہ اور اسلامی فکر پر گہری تحقیق بھی
کی۔
بعد ازاں انہوں نے جرمنی کی میونخ یونیورسٹی سے فارسی فلسفہ پر تحقیق پیش کی جس پر انہیں ڈاکٹریٹ کی ڈگری دی گئی۔ یورپ میں قیام کے دوران اقبال نے مغربی فلسفہ، سیاست اور تہذیب کا گہرا مطالعہ کیا، جس نے ان کی فکری سوچ کو مزید وسعت دی۔
شاعری
اور فکری خدمات
وطن واپسی کے بعد
اقبال نے وکالت کا پیشہ اختیار کیا، مگر ان کا دل اس پیشے میں زیادہ نہیں لگا۔
دراصل ان کی اصل دلچسپی ادب، فلسفہ اور شاعری میں تھی۔ یہی وجہ ہے کہ جلد ہی انہوں
نے اپنی توجہ مکمل طور پر شاعری اور فکری تحریروں کی طرف مبذول کر لی۔
اقبال کی شاعری کا بنیادی مقصد مسلمانوں میں خودی، خود اعتمادی اور بیداری پیدا کرنا تھا۔ انہوں نے اپنی شاعری میں اسلامی تعلیمات، روحانیت اور انسان کی عظمت کو اجاگر کیا۔
ان
کی مشہور تصانیف میں شامل ہیں
بانگِ درا
بالِ جبریل
اسرارِ خودی
رموزِ بے خودی
پیامِ مشرق
ضربِ کلیم
ان کتب میں اقبال
نے فلسفہ، روحانیت اور عملی زندگی کے موضوعات کو نہایت خوبصورت انداز میں پیش کیا۔
مسلمانوں کی بیداری میں کردار
علامہ اقبال کی
شاعری نے برصغیر کے مسلمانوں میں ایک نئی روح پیدا کی۔ ان کے کلام نے مسلمانوں کو
ان کی کھوئی ہوئی شناخت یاد دلائی اور انہیں ترقی، اتحاد اور خودداری کا پیغام دیا۔
ان کی شاعری میں امید، حوصلہ اور عمل کا درس ملتا ہے۔
سیاسی خدمات اور
تصورِ پاکستان
اقبال صرف شاعر
اور مفکر ہی نہیں بلکہ ایک فعال سیاسی شخصیت بھی تھے۔ انہوں نے مسلمانوں کے حقوق
کے تحفظ کے لیے سیاست میں بھی حصہ لیا۔
وہ پنجاب کی قانون
ساز اسمبلی کے رکن رہے اور لندن میں ہونے والی گول میز کانفرنس میں بھی شریک ہوئے۔
1930 میں آل انڈیا
مسلم لیگ کے الہ آباد اجلاس میں بطور صدر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے برصغیر کے
مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ ریاست کا تصور پیش کیا۔ بعد میں یہی تصور پاکستان کے قیام
کی بنیاد بنا۔
وفات
ڈاکٹر علامہ محمد
اقبال 21 اپریل 1938 کو لاہور میں وفات پا گئے۔ اس وقت ان کی عمر تقریباً 60 سال
تھی۔ اگرچہ وہ اپنی زندگی میں پاکستان کا قیام نہ دیکھ سکے، مگر ان کا خواب ان کی
وفات کے تقریباً نو سال بعد 1947 میں حقیقت بن گیا۔
آج بھی اقبال کو
پاکستان کے روحانی بانی کے طور پر یاد کیا جاتا ہے اور ان کے افکار نئی نسل کے لیے
رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔
علامہ
اقبال کا پیغام
اقبال کی شاعری
انسان کو خودی، محبت اور خدمتِ انسانیت کا درس دیتی ہے۔ ان کا پیغام آج بھی اتنا ہی
اہم ہے جتنا ان کے زمانے میں تھا۔
خدا
کے عاشق تو ہیں ہزاروں، بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے
میں
اس کا بندہ بنوں گا جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہوگا
Please Comments, Like, Share
Comments
Post a Comment
For More Information Please Comments.