دورِ حاضر میں یزیدیوں کی پہچان | فلسطین، کربلا، عرب امارات اور پاکستانی محنت کشوں کی دردناک حقیقت
دور
حاضر میں یزیدیوں کی پہنچان
تحریر: بشارت موسوی
امام حسینؑ اور اہلِ بیتؑ کی عظیم قربانی
یہ تحریر سانحۂ کربلا، امام حسینؑ کی عظیم قربانی، فلسطین پر جاری مظالم، عرب امارات میں پاکستانی محنت کشوں کے خلاف کارروائیوں اور موجودہ دور میں یزیدی سوچ کے مختلف پہلوؤں پر مبنی ہے۔ میں نے اسلامی تاریخ اور موجودہ عالمی حالات کو جوڑتے ہوئے اپنے خیالات پیش کیے ہیں۔
جوش ملیح ابادی نے
کیا خوب اشعار کہے ہیں "
کیا صرف مسلمان کے پیارے ہیں حسین ،
چراغ نوع بشر کے تارے ہیں
حسین
انسان کو بیدار تو ہو لینے دو ،
ہر قوم پکارے گی، ہمارے ہیں حسین
آج پوری دنیا میں غم حسین علیہ السلام عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جاتا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے نواسے کی عظیم قربانی کو یاد کیا جاتا ہے ۔
یزیدی
سوچ کا تسلسل
ایران اور فلسطین
کے معاملے پر عالمی سیاست
سال 2026 کے آغاز
میں اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر جنگ مسلط کی اس بنیاد پر کہ ایران فلسطینیوں کی
حمایت کر رہا ہے ایران حزب اللہ کی حمایت کرتا ہے ایران لبنان و عراق و شام میں
مداخلت کر کے پراکسی وار کر رہا ہے یہ ایسی من گھڑت باتیں ہیں جنھیں ہر علم و فہم
رکھنے والا شخص کسی صورت نہیں مان سکتا کیونکہ اگر ایران کے موقف کو دیکھیں تو
معلوم ہوتا ہے ایران نے اسرائیلی جارحیت کے خلاف
آواز بلند کی ہے بڑی وجہ اسرائیل کئی دہائیوں سے فلسطینیوں پر ظلم و ستم کر
رہا ہے معصوم فلسطینی بچے و بچیوں کو شہید کر رہا ہے عورتوں کی عزتوں کو پامال کر
رہا ہے جوانوں کو سر عام گولیوں سے چھلنی کر کے شہید کر رہا ہے اور ابھرتی ہوئی نئی
نوجوان نسل کو پکڑ کر جیلوں میں قید کر رہا ہے۔
عرب ممالک اور
اسرائیل کی حمایت
عرب ممالک نے ظالم
اسرائیل / یہود و نصارٰی کا بھر پور ساتھ دیا ہے اور تاحال ساتھ دے رہا ہے عربوں
نے امریکہ اور اسرائیل کو اپنے ملک میں
خوفیا جنگی اڈے دئیے ہوئے ہیں تاکہ اسرائیل
اور امریکہ بآسانی ایران کو ٹارگٹ کر سکیں عربوں کی یہ وہ غداری ہے جسکے بارے میں
قرآن مجید و فرقان حمید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ یہود و نصارٰی کبھی بھی
مسلمان کے دوست و خیر خواہ نہیں ہو سکتے لیکن یہاں عربوں نے اپنی عیاشیوں کے لیے ایک
ناجائز ریاست اسرائیل کا ساتھ دیا ہے مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ بڑی غداری کرتے
ہوئے یزیدی لشکر ہونے کا بڑا ثبوت دیا ہے
جسکی مثال آج دوبئی / عرب امارات کی شکل میں مل رہا ہے۔
مساجد و امام بارگاہوں کی بندش
پاکستانی محنت
کشوں کے خلاف کریک ڈاؤن
عرب امارات میں
پاکستانی محنت کشوں کی بڑے پیمانے پر پکڑ
دھکڑ شروع ہے انکی متعلقہ کمپنیوں سے رابط کر کے انکے ناموں کو چیک کیا جا رہا ہے جس کے بھی نام کے ساتھ اہل بیت علیہ السلام
کے نام شامل ہیں انکی رہائش گاہوں پر یا
ڈیوٹی پر موجودگی پر چھاپے مارے جا رہے ہیں انھیں پکڑ کر جیلوں میں ڈالا جا رہا ہے
جب محنت کش سوال کرتا ہے ہمارا جرم بتائیں جواب دینے کے بجائے انھیں زد و کوب کیا
جا رہا ہے حتی کہ انکے چہروں پر تھپڑ رسید کیے جا رے ہیں جیل کے اندر تیز آئر کینڈیش
چلا دیا جاتا ہے انھیں شدید ازیت دی جاتی ہے کھانے میں صرف ایک انڈہ دیا جاتا ہے کچھ دن جیل میں رکھنے کے
بعد انھیں اپنا سامان اٹھائے بغیر کمپنی سے لین دین کیے بغیر پاکستان ڈیپوٹ کیا
جاتا ہے جو ظلم کی انتہا ہے عرب اپنے باپ یزید کی حمایت میں بھر پور انداز میں نکل آئے ہیں۔
ناموں کی بنیاد پر
امتیازی سلوک
دوبئی و اماراتی حکومت کی جانب سے خاص موقف سامنے نہیں آیا انکے کے نزدیک جس بھی فرد کے نام کے ساتھ سید، علی، حسن، حسین اور عباس آیا ہے اسے فوری پکڑا جائے اور ڈیپوٹ کر دیا جائے وجہ یہی ہے یہ لوگ شیعہ ہیں اور ایران کے پیرو کار ہیں حالانکہ ایسا ہرگز نہیں ہے کیونکہ یہ لوگ خالصتاً پاکستانی شہریت رکھتے ہیں انکا دور دور تک ایران سے کوئی تعلق واسطہ نہیں ہے یہ لوگ صرف اپنے بچو
ں کے لیے رزق حلال کمانے ملک سے بائر ہیں۔
اہلِ بیتؑ سے محبت
رکھنے والوں کو نشانہ بنانا
عرب امارات میں
اکثریت میں پاکستانی موجود ہیں جن میں اہل سنت سے بھی تعلق رکھنے والے پاکستانی ہیں
یہ لوگ اہل بیت علیہ السلام سے عقیدہ و احترام رکھتے ہیں اس لیے انکے والدین نے
انکے ناموں کے ساتھ علی، حسن، حسین اور عباس
لکھا ہے یہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اولاد سے محبت رکھتے ہیں
یہ لوگ شیعہ نہیں ہیں صرف محمد و آل محمد ص سے محبت کرتے ہیں لیکن اماراتی یزیدی
لشکر انھیں بھی پکڑ کر انکے روزگار سے محروم کر رہا ہے انھیں اپنا سامان اٹھانے کا
موقع تک نہیں دے رہا ہے۔
پاکستانی حکومت کی
خاموشی
پاکستانی حکومت
وقت خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے دوسری جانب
اماراتی حکومت ہزاروں پاکستانیوں کو مسلکی بنیاد پر ملک سے نکال رہی ہے جس کی مثال
کسی بھی مہذب معاشرے میں نہیں ملتی۔
ایک پاکستانی محنت
کش کی دردناک داستان
آج مورخہ 5 مئی
2026 کو ہمارے ایک عزیز محنت کش کو ڈیوٹی کے دوران اٹھا کر لے گئے ہیں معلوم نہیں یزیدی
لشکر اسے کہاں لے گیا ہے ہمارا وہ عزیز ڈیوٹی پر تھا جب اسے کسی یزیدی ادارے سے
فون آیا وہ سمجھا گڑ بڑ ہے اس نے عقل مندی کرتے ہوئے پاکستان میں اپنے گھر پر اطلاع
دی کہ اسے پکڑ لیا جائیگا اسکا سازو سامان اسکے کمرے میں پڑا ہے ہمارے عزیز نے
اگلے ماہ کی یکم جولائی سے چھٹی لے رکھی تھی ایڈوانس میں ائیر ٹیکٹ بھی کر رکھا
تھا یزیدی لشکر نہ اسے ٹیکٹ کے پیسے دیگا اور نہ ہی اسے کمرے سے
سازو سامان اٹھانے کی اجازت دیگا؟ یہ لشکر مزید پاکستانیوں کو پکڑے گا انھیں ایک
ہی جہاز میں اکٹھا کر کے واپس پاکستان بھیج دیگا یہ ظلم کی انتہا ہے۔
خاندان کی پریشانی اور بچوں کے آنسو
پاکستان میں فیملی
بہت پریشان ہے بچے بڑے سبھی رو رہے ہیں سب فکر مند ہیں یزیدی لشکر محنت کش کے ساتھ
کیسا سلوک کر رہا ہو گا؟ بچے والد کے لیے رو رہے ہیں باپ کو شدت سے یاد کر رہے ہیں
بچوں کا کہنا ہے ہمارا باپ ہمارے لیے محنت مزدوری کر رہا تھا ہمیں پڑھانا چاہتا
تھا ہمارے خوابوں کی تکمیل چاہتا تھا لیکن ظالم یزیدی لشکر نے ہمارے خوابوں کو
چکنا چور کر دیا ہے، ہم سوال کرتے ہیں کیا ہمارا والد دہشت گرد تھا؟ ہمارا والد ایرانی
نہیں تھا وہ پاکستانی تھا اسکے پاس پاکستانی پاسپورٹ تھا وہ صرف ہمارے لیے رزق
حلال کمانے گیا ہوا تھا۔ افسوس
اماراتی حکومت کا
غیر انسانی رویہ
اگر یزیدی
لشکر و یہود و نصارٰی کے پیرو کاروں کو
پاکستانی پسند نہیں تھے انھیں چائیے تھا انکا ریکارڈ اکٹھا کرتے انھیں نوٹس دیتے
آپ ملک چھوڑ دیں تو یقیناً تمام پاکستانی اپنے سامان کو پیک کرتے ہوئے یہود و
نصارٰی کے ملک کو چھوڑ دیتے لیکن عیاش زنا کار اماراتی حکومت نے ایسا نہیں کیا
اماراتی حکومت نے یہود و نصارٰی کا ساتھ دیتے ہوئے انکے نقشے قدم پر چلتے ہوئے
محنت کش پاکستانی مزدوروں کو واپس وطن بھیجنا بہتر سمجھا جو مزدور کے ساتھ سرا سر
ظلم و زیادتی ہے اور
انسانیت کی تذلیل کی انتہا ہے، جسے دنیا اپنے کیمروں میں محفوظ کر رہی ہے وہ دن
دور نہیں جب ترقی یافتہ عرب امارات کی حقیقت ہر کسی کے کو دیکھنے کو ملے گی اور دنیا ایسی ترقی پر تھوکے گی۔
اللہ بہترین انصاف
کرنے والا ہے
آپکا ملک عرب
امارات ، آپکو بہت مبارک ہو لیکن مزدور کے
ساتھ ظلم و ستم نہ کریں مزدور کی آہ سات آسمانوں تک پہنچتی ہے اللہ مزدور کی آہ و پکار کو سنتا
ہے یقیناً اللہ بہترین انصاف کرنے والا ہے۔
حکومتِ پاکستان سے
مطالبہ
حکومت پاکستان کو
چائیے عرب امارات سے بلا جواز ملک دخل کیے
گئے پاکستانیوں کے لیے روزگار کا معقول بندوبست کرے انھیں پاکستان کے اندر کاروبار
کرنے کے لیے مدد کرے کیونکہ یہ وہ پاکستانی محنت کش تھے جنکے پاس اپنا ویزہ تھا یہ
لوگ بغیر ویزے کے کام نہیں کر رے تھے اور نہ ہی ایرانی تھے اور نہ ہی ایرانی فوجی
تھے یہ پاکستانی نیشنل تھے انکے ناموں کے ساتھ سید، علی حسن، حسین، کاظمی، موسوی
اور عباس لکھا ہوا تھا اس لیے لکھا تھا کیونکہ یہ لوگ محمد و آل محمد ص سے بے پناہ
محبت کرتے ہیں۔
ظالم حکمرانوں کا انجام
اماراتی ظالم یزیدی
حکومت کی طرف سے بے دخل کیے گئے پاکستانی اپنے ملک پہنچ جائیں گے یہاں وہ
اپنا گزر بسر کر لینگے لیکن ان ظالم یزیدی لشکر کا برا حال ہو گا یہ عیاش لیڈران
ضرور انجام کو پہنچیں گے کیونکہ انھوں نے یہود و نصارٰی کا ساتھ دیا ہے مظلوم فلسطینیوں
کے خون کے ساتھ بڑی غداری کی ہے، اللہ کی لاٹھی بڑی بے آواز ہے ایک دن ضرور اللہ
انصاف کرے گا کیونکہ اللہ بہترین انصاف کرنے والا ہے وہ
رحمن و رحیم ہے۔ انشاء اللہ
Please, Like , Comments & Share with friends

Comments
Post a Comment
For More Information Please Comments.