دورِ حاضر میں یزیدیوں کی پہچان | فلسطین، کربلا، عرب امارات اور پاکستانی محنت کشوں کی دردناک حقیقت

Image
  دور حاضر میں یزیدیوں کی پہنچان   تحریر:   بشارت موسوی     امام حسینؑ اور اہلِ بیتؑ کی عظیم قربانی  یہ تحریر سانحۂ کربلا، امام حسینؑ کی عظیم قربانی، فلسطین پر جاری مظالم، عرب امارات میں پاکستانی محنت کشوں کے خلاف کارروائیوں اور موجودہ دور میں یزیدی سوچ کے مختلف پہلوؤں پر مبنی ہے۔ میں نے اسلامی تاریخ اور موجودہ عالمی حالات کو جوڑتے ہوئے اپنے خیالات پیش کیے ہیں۔ امام حسین علیہ السلام اور انکے خاندان کو یزید نے کربلا کے مقام پر شہید کیا  امام علیہ السلام کو شہید کرنے کے بعد مختلف جگہوں پر جشن منایا گیا امام علیہ السلام         کے سر مبارک  کو پامال کیا گیا ، اس شہزادے کے سر کی بے حرمتی کی گئی جسے رسول ص اپنے کندھوں پر سوار کرتے  تھےاپنے شہزادوں کو گھوڑ سواری  کرواتے تھے،  امام حسین علیہ السلام کی اس عظییم الشان قربانی کو  تاریخ نے محفوظ کیا ہے، آج پوری دنیا امام حسین  علیہ السلام کی بچوں کے ساتھ دین محمدی ص کے لیے دی گئی عظیم قربانی کو یاد کرتی ہے۔   بیشک     " قتل حسین  ...

بری سرکار کی نگری میں غریب بستی مسمار | سی ڈی اے آپریشن | بری امام اسلام آباد

 

بری سر کار کی نگری   میں غریب کی بستی

 تحریر: بشارت موسوی

بری سرکار کی نگری میں غریبوں کی بستی مسمار: سی ڈی اے کے ایکشن پر سوالات

   کچھ ماہ قبل کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی اسلام آباد کی جانب سے لیے گئے ایکشن میں بری سرکار کے ساتھ  جڑی ایک چھوٹی سی بے گھر  غر یبوں کی بستی  تھی   جسے سی۔ڈی۔اے  نے وقت کی  حکومت کے ارڈر پر    مختصر نوٹس پر بلڈوزر کے ذریعے گرا دیا گیا  اس بستی میں مقیم اکثریت ان لوگوں کی تھی جو 2005 کے زلزلے میں پہاڑی علاقوں سے آئے تھے جن میں ضلع مظفرآباد آزاد کشمیر ، بالا کوٹ ایبٹ آباد ، گلگت بلتستان ، خیبر پختونخواہ کے  بے گھر لوگ شامل تھے اس بستی میں جب یہ لوگ آباد ہوئے تو پانی و بجلی  کی سہولت موجود تھی کسی بھی غیر قانونی بستی میں بجلی و پانی کی سہولت ہرگز نہیں فراہم کی جاتی کیونکہ وہ ایک غیر قانونی بستی ہوتی ہے ضرور یہ سوال پیدا ہوتا ہے بستی میں بجلی کی سہولت کس بنیاد پر دی گئی تھی اور یہ سہولت دینے کے احکامات کیوں دئیے تھے اگر بستی غیر قانونی تھی؟ لوگوں کو مکانات کیوں تعمیر کرنے کی اجازت کیوں  دی گئی تھی  اگر یہ سی۔ڈی۔اے   کی ملکیت تھی؟

اسلام آباد میں بری امام کے قریب غریب بستی کا انہدام: متاثرین انصاف کے منتظر

بری سرکار کی اس بستی میں ایسے لوگ بھی رہائش پذیر تھے جنکے گھر کا چوہلہ بری سرکار کے لنگر خانہ سے چلتا  تھا سرکار کی زیارت کرنے پاکستان بھر سے آئے زائرین چاولوں کی تیار دیگوں سے کرتے تھے جو بریانی، چنا پلاو اور میٹھے چاول کی دیگیں ہوتی تھیں  دربار کے آس پاس  نیاز لنگر تیار کرنے  والی دکانوں کو بھی  بڑی بے دردی سے گرا دیا گیا سرکار کی زیارت کرنے آئے زائرین اب دیگوں سے بھری چاولوں کی دیگیں کہاں سے لیکر دینگے؟       یہی لنگر غریب کھاتا تھا کیونکہ غریب کا پیٹ خالی تھا وہ  پیٹ بھر کر  یہاں ہی سے کھانا کھاتا تھا  انکے حق میں دعا  بھی کرتا تھاسی۔ڈی۔اے نے ان غریبوں کے کاروبار کو بھی تباہ و برباد کر دیا   جو اپنے   معصوم بچوں کے لیے رزق کما  رہے تھے،                  مزار کے آس پاس کچھ ایسے بچے بھی ملتے تھے جو پھول بیچ رہے ہوتے تھے کچھ نیاز لنگر کے لیے شاپنگ بیگ بیچتے تھے مزار کے پاس ایسی معصوم بچیاں بھی   نظر آتی تھیں جو میٹھائی کے پیکٹ لیے کھڑی ہوتی تھیں کوئی ان سے پیکٹ خرید لے تاکہ انکی بھی دیہاڑی   لگ جائے ، کچھ ایسے بچے اوازیں لگاتے تھے دیگ لے لیں ، چاولوں کی تیار دیگ یہ وہ  بچے تھے جو پورا دن  گرمی میں سڑک پر پھرتے تھے گاہک کو متعلقہ شاپ پر لے جاتے تھے  جسکی بدولت انھیں کچھ          مزدوری ملتی تھی یہ سب اسی بستی کے بچے بچیاں تھے جو گھر والوں کے لیے محنت مزدوری کرتے تھے۔

مزار کے گیٹ کے سامنے کچھ دکانیں بھی تھیں جو زائرین کے لیے  مختلف قسم کی میٹھائیاں، جیولری کی مختلف اقسام  بھی دستیاب تھی جنھیں عورتیں   عقیدت و احترام کے طور پر اپنے ساتھ لے جاتی تھیں  ان قائم شاپس پر بھی سی۔ڈی۔اے کا بے رحم ٹریکٹر چل گیا جس نے غریب کے بچے کی دال روٹی کو ملیا میٹ کر دیا سر کار کی نگری میں رزق کمانے والے یہ لوگ کہاں جائیں گے انکے بچے کیسے روٹی کھائیں گے "ہے کسی کے پاس جواب؟"

بری سرکار کی نگری میں بے گھر لوگ: سی ڈی اے آپریشن نے خواب چکنا چور کر دیے

مزار کے آس پاس غریبوں کی تمام دکانوں کو بلڈوزر سے مسمار کر دیا گیا کیونکہ غریب جائے بھاڑ میں۔

جتنی بھی دوکانیں تھیں جو بھی مالکان تھے انکی زیادہ تعداد بری سرکار کے مزار کے ساتھ چھوٹی سی بستی میں مقیم تھی  جو سارا دن  سردی  ہو یا گرمی   محنت مزدوری کرتے شام کو کچھ رزق بچوں کے لیے گھر  لے جاتے تھے  اب انکے پاس رزق کے کمانے کا کوئی بندوبست نہیں ہے  وہ اللہ کے انصاف کی طرف دیکھ رے ہیں بیشک اللہ بہترین انصاف کرنے والا ہے۔

بستی میں بسنے والے غریب لوگ معصوم بچوں کو لیکر در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور  ہو گئے ہیں ان میں   سے بہت کم لوگ ایسے تھے جو مالی لحاظ سے بہتر تھے لیکن %90 فیصد ایسے غریب لوگ تھے جنکا اس کالونی کے سوا کوئی سہارا نہیں تھا جنکے معصوم بچے بری سرکار کے آس پاس قائم گورنمنٹ سکولوں میں زیر تعلیم تھے اب جب انکی بستی گرا دی گئی ہے انکے گھروں پر بلڈوزر پھیر دیا گیا  ہے انکے خوابوں پر پانی پھیر دیا گیا  ہے وہ بچے جو تعلیم حاصل کر رے تھے انکے بھی خواب تھے لیکن سی۔ڈی۔اے نے انکے خوابوں کو   بھی چکنا چور کر دیا ہے۔

غریب کی بستی پر بلڈوزر: بری امام میں انسانی المیہ

بلا شبہ یہ جگہ حکومت کی ملکیت تھی لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے اس بستی کو کیوں آباد ہونے دیا  گیا ؟     یہ بستی ایک اندازے کے مطابق سن 1980 کو پلی سٹاپ سے شروع ہوتے ہوئے آباد ہوئی جہاں آج ایک مسجد بھی بنی ہوئی ہے، اس بستی کو تقریبن 46 سال کا طویل عرصہ ہ  گز چکا تھا، سی۔ڈی۔اے کو چائیے تھا اس بستی کو کسی صورت نہ پھیلنے دیتے لیکن سی۔ڈی۔اے کے اندر کچھ کالی بھیڑوں نے غریب سے پیسے لیے اسے رہنے کے لیے چھت بنانے  کی اجازت

دی۔

سی۔ڈی۔اے کے موقف کو اگر سنا جائے انکا کہنا ہے ان غریب افراد کو علی پور فراش سلطانہ فاؤنڈیشن میں سی۔ڈی۔اے کی جانب سے تین تین مرلے پلاٹ دئیے گئے تھے یہ لوگ پلاٹ لینے کے باوجود دوبارا             بری           امام      پہنچ گئے  ہیں کسی نے پلاٹ بیچ دیا کسی نے گھر بنا کر کرایہ پر لگا دیا خود بری امام بستی میں  رہائش پذیر ہو گیا اگر سی۔ڈی۔اے کی  اس بات کو مان بھی لیا جائے تو اس بات میں 5 فیصد صداقت ہو سکتی ہے لیکن %95 فیصد سچائی نہیں  ہے کیونکہ جن  لوگوں کو پلاٹ نہیں دئیے گئے تھے  ،        سی۔ڈی۔اے نے انکی رجسٹریشن کر رکھی تھی کہ انھیں متبادل  جگہ دی جائے گی  جو پلاٹ کے مالکان تھے   وہ آج بھی سلطانہ فاؤنڈیشن و فراش ٹاون  میں گھر بنا کر سکونت اختیار کیے ہوئے ہیں۔ لوگ

جب سی۔ڈی۔اے  نے دوبارا رجسٹریشن کی تھی ان مستحق اور بے گھر لوگوں کو کیوں پلاٹ نہیں دئیے گئے؟  جیسا کہ پہلے مرحلے میں لوگوں کو دئیے گئے تھے اگر بے گھر افراد کو پلاٹ دے دئیے گئے ہوتے یقیناً وہ لوگ بھی بری امام سے باعزت شفٹ  ہو کر  اپنے               اپنے گھروں میں باعزت اباد ہوتے  لیکن سی۔ڈی۔اے نے ایسا نہیں کیا سی۔ڈی۔اے  نے غریب کی چھت کو گرانا مناسب سمجھا۔

کچھ معلومات کے مطابق غریب غربا لوگوں نے محنت مزدوری کے زریعے کمیٹیاں ڈال کر اپنے گھروں پر لاکھوں روپے خرچ کیے  تھے جنھیں سی۔ڈی۔اے  نے منٹوں میں ملیا میٹ کر دیا غریب کا خرچ کیا گیا پیسہ اسے واپس نہ دیا گیا غریب نے اپنے تباہ حال مکان کا ملبہ کوڑیوں کے بھاؤ بیچ کر در در کی ٹھوکریں کھانے  پرمجبور ہو گیا  ہے۔

آج وہ غریب کس حال میں  ہے کچھ علم نہیں ہے اس کے معصوم بچے تعلیم حاصل کر رے ہیں یا نہیں کوئی خبر نہیں ہے اسکے گھر میں راشن ہے یا نہیں یہ اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے یقیناً اللہ اپنی مخلوق کی حفاظت کریگا وہی ان کو رزق دیگا کیونکہ وہ رحمن                         و                 رحیم ہے۔

سی ڈی اے کا آپریشن یا غریب دشمنی؟ بری سرکار کی بستی اجاڑ دی گئی

حکومت وقت کو چائیے تھا ان غریب غرباء لوگوں کے لیے کسی دوسری جگہ معقول بندوبست کرتے انھیں عارضی رہائش دیتے انھیں آپنا سامان اٹھانے کی اجازت دیتے کیونکہ بستی میں کچھ ایسے گھر بھی تھے جہاں بیوہ یتیم بچے رہتے تھے، جہاں کچھ بچیوں کی شادیوں کا جہز کا سامان  تیار پڑا تھا انکی شادیاں قریب تھیں یہ سب کچھ منٹوں میں ختم ہوگیا سوال یہ ہے کیا یہ غریب لوگ کسی دوسری دنیا سے آئے تھے؟   کیا یہ دشمن ملک سے آئے تھے ؟ نہیں یہ اسی ملک کے رہائشی تھے محنت مزدوری کرتے تھے ایک زمہ داری شہری ہونے کے ناتے ٹیکس بھی دیتے تھے ،              اگر انھی کا دیا ہوا ٹیکس کا پیسہ ان پر خرچ کر دیا جاتا اللہ بھی حکومت وقت سے خوش ہو جاتا لیکن ایسا نہیں کیا گیا غریب کو دھکے دے کر بستی سے نکال دیا گیا یہ بستی غریب کی بستی نہ تھی یہ بستی تو بری سرکار جناب سید عبد الطیف کاظمی المشہدی کی بستی تھی یہ لوگ سرکار کے مہمان تھے،   جہاں سرکار چار سو سال پہلے تشریف لائے  تھے جب ہر طرف ویرانہ تھا جنگل ہی جنگل تھا خونخوار جانوروں کا راج تھا لیکن سرکار اللہ کے ولی تھے انھوں نے (لوے دھندی )میں بسیرا             ڈالا چہلا کیا اللہ کی عبادت کی  عبادت میں مصروف رہے آخری آرامگاہ کے لیے 

بری امام نور پور شاہاں کا  انتخاب کیا جنکا روضہ مبارک آج بھی بری امام میں موجود ہے۔



 اجاڑی گئی بستی کے رہائشی سرکار کے مزار پر حاضری دیتے تھے اللہ کا شکر ادا کرتے تھے جنکی بدولت انھیں رزق مل رہا تھا اس رزق سے وہ اپنے بچوں کا پیٹ پال رے تھے جب بری سرکار کے آس پاس بسنے والی بستی پر بلڈوزر چلایا گیا ہو گا غریب کی آہ نکلی ہو گی   بری  سرکار  کی روح کو بھی ناراض کیا گیا ہے،   ضرور بری سرکار اللہ کے حضور غریب کا مقدمہ پیش کرینگے وہ دن ضرور ائیگا جس دن  اللہ بہترین انصاف کریگا۔ انشاءاللہ

Please, Like Comments & Share 

Comments

Popular posts from this blog

سید محسن رضا کاظمی الحمیدی

تین بہن بھائیوں کی درد ناک داستان

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے لیے فرمایا