دورِ حاضر میں یزیدیوں کی پہچان | فلسطین، کربلا، عرب امارات اور پاکستانی محنت کشوں کی دردناک حقیقت

Image
  دور حاضر میں یزیدیوں کی پہنچان   تحریر:   بشارت موسوی     امام حسینؑ اور اہلِ بیتؑ کی عظیم قربانی  یہ تحریر سانحۂ کربلا، امام حسینؑ کی عظیم قربانی، فلسطین پر جاری مظالم، عرب امارات میں پاکستانی محنت کشوں کے خلاف کارروائیوں اور موجودہ دور میں یزیدی سوچ کے مختلف پہلوؤں پر مبنی ہے۔ میں نے اسلامی تاریخ اور موجودہ عالمی حالات کو جوڑتے ہوئے اپنے خیالات پیش کیے ہیں۔ امام حسین علیہ السلام اور انکے خاندان کو یزید نے کربلا کے مقام پر شہید کیا  امام علیہ السلام کو شہید کرنے کے بعد مختلف جگہوں پر جشن منایا گیا امام علیہ السلام         کے سر مبارک  کو پامال کیا گیا ، اس شہزادے کے سر کی بے حرمتی کی گئی جسے رسول ص اپنے کندھوں پر سوار کرتے  تھےاپنے شہزادوں کو گھوڑ سواری  کرواتے تھے،  امام حسین علیہ السلام کی اس عظییم الشان قربانی کو  تاریخ نے محفوظ کیا ہے، آج پوری دنیا امام حسین  علیہ السلام کی بچوں کے ساتھ دین محمدی ص کے لیے دی گئی عظیم قربانی کو یاد کرتی ہے۔   بیشک     " قتل حسین  ...

سید محسن رضا کاظمی الحمیدی

  

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ

تحفہ یا علی علیہ السلام مدد

جو سب کے لیے لکھے ،کیوں ، اس پر    

   کوئی کچھ نہ لکھے، جو سب کے لیے لکھے، اس پر بھی کچھ لکھنا حق بنتا ہے

 

آج  مجھے خوشی ہے میرے  بلاگ پر ایک  علمی شخصیت  جنا ب سید تصدق حسین کاظمی صاحب  آف جھنگی سیداں اسلام اباد کی طرف سے نہایت ہی بڑا  اور خوبصورت نام ( سید محسن رضا  کاظمی المشہدی الحمیدی)  جو کاظمیہ سادات کے علاؤہ دیگر سادات کے شجروں کو  انتھک محنت و لگن اور تحقیق سے لکھ رہا ہے  جس کی بدولت  سادات کو  شجرہ نسب  کے احوالے سے  بہترین رہنمائی مل رہی ہے ، تمام سادات کو اس سید بادشاہ کا شکر یہ ادا کرنا چائیے اور  اپنی آنے والی نسلوں کو انکی خدمات کے متعلق ضرور بتانا چائیے، علم وہی ہے جو دوسروں تک پہنچایا جائے ۔

میں سید تصدق حسین کاظمی  صاحب کا مشکور و ممنوں ہوں جنھوں نے  اپنی تحریر کو  میرے سپرد کیا اور آج میں اسے اپنے بلاگ کا حصہ بنا رہا ہوں جس سے یقینا تمام کاظمیہ سادات کو  علمی  فائدہ ہو گا، میں اس  تحریر  کے درمیان  زیادہ  دیر حائل نہیں ہونا چاہتا  آپ سب  اس تحریر سے مستفید ہوں اور آخر میں  کمنٹس سیکشن میں   ضرور ہم سب کی آن ،شان سید محسن رضا کاظمی المشہدی الحمیدی صاحب  اور سید تصدق حسین کاظمی صاحب  جنھوں   اس تحریر کو لکھا،   لکھ کر  اظہار کریں۔ شکریہ

       بن سید اعتبار حسین کاظمی آف جھنگی سیداں سابقہ ڈنہ سیداں، ضلع اسلام اباد ۔    تحریر و تحقیق: سید تصدق  حسین کاظمی 

 

  





سید محسن رضا کاظمی صاحب

     موجودہ دور کے بہت بڑے محقق و نساب ہیں آپ کا شمار موجودہ دور کے محققین و نسابین میں سر فہرست  ہے آپ نے سادات بنو فاطمہ الزھرا سلام اللہ علیہا  کے نسب کو محفوظ کرنے کے لیے اپنی زندگی وقف کر رکھی ہے  میں چاہتا ہوں ان کی شخصیت کے بارے کچھ تحریر کروں کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ ایک ایسا انسان جو پورے پاک و ہند کے فاطمی سادات بلخصوص کاظمی مشہدی سادات کے نسب کو محفوظ کررہا ہے اور علم الانساب کے اصولوں کے مطابق بچھڑے ہوے خاندانوں کو آپس میں ملا رہا ہے، آپ کی انتھک محنت اور کاوشوں سے ایسے کئی خاندان جو اپنے   ہی خاندان یا شاخ سے بچھڑے ہوئے تھے وہ آپس       میں ملے ہیں، میں سمجھتا ہوں سادات کے اس محسن کا تذکرہ ضرور ہونا چاھیے۔

راقم تحریر کا خیال ہے۔      

   کہ اس عظیم انسان کی شخصیت جو کہ کاظمی مشہدی سادات کا محسن ہے اور تمام کاظمی سادات کا فخر ہیں اگر موجودہ دور میں اس عظیم انسان پر کچھ نہ لکھا گیا تو اس عظیم انسان  کے ساتھ انتہائی نا  انصافی ہوگی اور ان کی گراں قدر خدمات کو فراموش کرنا بھی یقیناً ان کے ساتھ نا انصافی تصور ہو گی اور تاریخ ہمیں کبھی بھی معاف نہ کرے گی اگر ہم نے اپنے اس عظیم محسن کے متعلق کچھ نہ لکھا تو  ۔

راقم تحریر کا خیال ہے۔    

اگر ہم سے کسی نے آپ کی خدمات پر کچھ نہ لکھا تو آنے والے دور کا مورخ و محقق اس عظیم انسان کی خدمات کو تو سراہے گا جس نے تحفظ انساب کے متعلق بے پناہ خدمات سر انجام دیں  جس کے ہم سب عینی شاہد ہیں اگر ہم نے ان کے متعلق کچھ نہ لکھا تو مستقبل کا مورخ و محقق یقیناُ ہمیں بُرا بھلا  کہے گا  اور کہے گا کہ جس نے سب پر لکھا اس پر کسی نے کیوں نہ لکھا آپ کو اور مجھے بھی معلوم راقم تحریر کا خیال ہے  کہ جب کوئی بھی اس عظیم انسان  کے کام کی تعریف کرے تو یہ اپنی تعریف کو پسند نہیں کرتا لیکن میں پھر بھی ان پر چند الفاظ لکھ کر اپنا حق ادا کرنے کی کوشش کروں گا، جو کہ ہر محسن انسان کے لیے ضروری ہے۔

 فخرِ سادات کاظمیہ  مشہدیہ سید محسن رضا کاظمی نے بہت زیادہ اولیا اللہ  بزرگ ہستیوں اور انکے مزارات و مشاہیر پر بہت زیادہ سینکڑوں تحریریں لکھی ہیں  جو کہ آپ سوشل میڈیا پر دیکھ اور  پڑھ چکے ہوں گے  آپ کی آئے روز کوئی  نہ کوئی تحقیق پر مبنی نئی سے نئی تحریر  آپ کو پڑھنے کے لیے ملتی ہے  میں سمجھتا ہوں   کہ آپ کی تحریروں کی وجہ سے ہی سادات عظام میں نسب کے سلسلوں میں آگاہی پھیلی اور لوگوں میں  شعور اجاگر ہوا، آپ کے کئی دوست احباب نے آپکی تحریروں کو زیادہ سے زیادہ سادات تک پہنچانے کے لیے فیس بک پیجز بنائے  ہوئے  ہیں  جس پر وہ آپ کی تحریریں شیئر کرتے رہتے ہیں اور یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے  اکثر لوگ آپ کی تحریروں کو کاپی کرکے اپنے نام سے شیئر کرتے رہتے ہیں لیکن آپ ہمیشہ کہتے ہیں یہ علم ہے اسے عام ہونا چاہیے خواہ جس نام سے بھی ہو۔

 سید محسن رضا کاظمی الحمیدی پر سرسری نظر   

آپ جدالاولیاء زین الاتقیاء حضرت سید زین العابدین موسوی المشہدی رح المعروف سید شاہ زین سرکار کے فرزند سید حمید شاہ کی اولاد نیک نہاد سے ہیں اور اسی  وجہ سے آپ اپنے نام کے ساتھ  الحمیدی لکھتے ہیں  آپ  سید شاہ زین سرکار رح کی اولاد کا فخر ہیں بلکہ پورے کاظمی سادات کی آن اور  شان  ہیں  آپ اپنے گاوںکی بھی ایک پہچان ہیں  آپ کی ولادت بستی سیدانوالہ میں انتہائی مذہبی و علمی گھرانے میں مولانا سید مختار حسین کاظمی بن سید شاہ مراد کاظمی کے ہاں  مورخہ 12 دسمبر 1982 بمطابق 25 صفرالمظفر 1403 ھجری بروز اتوار کو ہوئی ،  بہن بھائیوں کی ترتیب میں آپ کا پانچواں نمبر ہے کسی کو کیا معلوم تھا کہ بارہویں ماہ کی بارہ کو پانچویں نمبر پر پیدا ہونے والا انسان کتنا خوش بخت ہو گا اور کس کو کیا معلوم اس انسان کا ستارہ کتنا عروج پر ہو گا اور اس پر پانچ بارہ کی کتنی عنایات اور نوازشات ہوں گیں؟                     جو اپنی زندگی کو اپنے خاندان و قوم کے لیے وقف کر دے گا ۔ آپ کی تربیت انتہائی مذہبی ماحول میں ہوئی ظاہری تعلیم آپ نے سیدانوالہ اور پنڈی سید پور میں حاصل کرنے کے بعد پاک ڈیفینس کے ایک اہم شعبہ میں شمولیت اختیار فرمائی مصروف ترین جاب ہونے کے باوجود آپ نے ایسے کام کیے جو ایک بغیر مصروفیت والا بندہ بھی نہ کر سکتا تھا   آپ اپنے خاندان اور گاٶں میں بزرگوں سے ملنے والے قدیم فارسی و اردو قلمی مشجرات و تاریخی دستاویزات کے امین ہیں اس قدر ذاتی ریکارڈ ہونے کے باوجود  آپ نے مزید قلمی شجرات کے حصول کے لیے دور دراز کے سفر کیے اور کئی دشوار گزار مقامات پر پیدل بھی پہنچے۔ 

آپ کو اور مجھ کو بھی یہ معلوم ہے سید محسن رضا کاظمی صاحب کی ایک ہی خواہش  ہے کہ پاک و ہند میں سادات کی جامع تاریخ مرتب ہو جائے   آپ نے راقم کے سامنے اس بات کا کئی دفعہ اظہار بھی کیا  آپ کا کہنا  ہے کہ میں اپنی زندگی کا مقصد بندگی خدا کے بعد سادات کی خدمت کے کام کو سمجھتا ہوں اور ان کا مزید یہ بھی کہنا ہےاگر میں نے سادات کے نسب و تاریخ اور بزرگوں کے حالات زندگی کو محفوظ کر لیا تو میں یہی سجھوں گا کہ میں کامیاب ہو گیا ،  سید محسن رضا کاظمی صاحب کی اپنی کتاب تو ابھی تک زیور طباعت سے آراستہ نہیں ہو سکی تاہم دوسرے محققین و نسابین کی کئی کتب پر تعلیقات و نظر ثانی کی سعادت آپ کو مل چکی ہے   بہت سے محققین و مصنفین اپنی کتاب کی اشاعت کرانے   سے پہلے آپ کی رائے تبصرہ لکھوانے کے لیے رائے اظہار خواہش کرتے ہیں لیکن آپ عدیم الفرستی کے سبب اکثر ایسا نہیں کر سکتے، پاکستان میں کثیر الاشاعت علمی و تحقیقی  ماہنامہ پیام زینب ع میں جب آپ کی حضرت سید شاہ زین العابدین موسوی المشہدی المعروف شاہ زین سرکار پر پانچ قسطوں میں تحقیقی تحریر چھپی تو اس کو لوگوں نے بے حد  پسند فرمایا  مشہور محقق و مورخ  آغا سید پھول شاہ کاظمی مرحوم آف بھیکہ سیداں سکونت  پشاور  نے آپ کی تحریر کو بہت  پسند فرمایا اور انہوں نے  آپ کو بے پناہ دعاوں سے نوازتے ہوئے اس تحریر کی کاپیاں کروا کر لوگوں میں مفت تقسیم کیں۔   

آپ کے بارے ہمیں  معلوم ہوا کہ جب بھی آپ  گھر چھٹی آتے ہیں  تو ہمیشہ ذاتی کاموں پر اس قومی و خاندانی کام کو اہمیت دیتے ہیں   اپنی فیملی کو پورا وقت نہ دینے کے سبب کئی دفعہ پریشانی کا سامنا بھی کرنا پڑا لیکن پھر بھی اپنے کام سے پیچھے نہ ہٹے  آپ پر اللہ تعالیٰ اور محمد ص و آل محمد ص کی خصوصی نظر ہے  کیونکہ سادات میں  خاندانی روایات کے مطابق جو لوگ اپنا شجرہ کسی کو دیکھنے نہ دیتے تھے آپ کے پاس وہ بھی خود لے کر پہنچے ۔

امین انساب سادات اور انساب سادات کا کمپیوٹر

سید محسن رضا کاظمی صاحب کے بارے معلوم ہوا کہ مشہور محقق و شاعر ملک صفدر حسین ڈوگر مرحوم بہت حُسن ظن رکھتے تھے  اور آپ کی خدمات کے بہت قدر دان تھے  انہوں نے آپ کی انساب سادات پر امانت و دیانت پر بھروسہ کرتے ہوئے ماہنامہ پیام زینب میں آپ کو " امین انسابِ سادات " کے خطاب سے نوازا اور ایبٹ آباد کے ماہر انساب سید محمد نواز کاظمی صاحب نے ایک محفل میں فرمایا سید محسن کاظمی انساب سادات کا ایک کمپیوٹر ہیں۔

 جب بھی کسی کو انساب سادات کے متعلق کوئی معلومات درکار ہوں  تو وہ ان سے رجوع فرماتے ہیں  ہم نے دیکھا  ہے جب بھی کسی نے آپ سے  کوئی سوال کیا تو آپ نے فوری جواب دیا یا اس سے متعلقہ کتاب کی رہنمائی فرما ئی آپ کی کتب انساب پر المختار اسلامک لائبریری کے نام سے ایک وسیع لائبریری  ہے  جس میں ایران و عرب اور  پاک و ہند کی ہزاروں کتب انساب ہیں   مطبوعہ کتب کے علاوہ انساب سادات پر سینکڑوں نایاب قلمی مخطوطات بھی اس لائبریری کی زینت ہیں۔

مذکورہ لائبریری کا میں خود عینی شاہد ہوں ۔

 آپ کی انساب سادات پر درج ذیل کتب طباعت کے مراحل میں ہیں ۔

  ورود سادات در پاک و ہند

  2۔معراج الانساب فی السادات الاشراف (جلد اول )

  مشاہیر سادات مشہدیہ کاظمیہ

4۔ دانشنامہ شیعانِ پنجاب  

5۔ تاریخ سیدانوالہ

     جعلی سادات کا محاسبہ وغیرہ  

اللہ تعالیٰ بطفیل محمد ص و آل محمد ص  آپ کی زندگی دراز فرمائے تا کہ اپکی   علمی خواہشات کی تکمیل ہو سکے۔

آخر میں دیگر سادات عظام سے بھی درخواست کرتا ہوں کہ جو جو بھی اپنی تحقیق لکھ رہے ہیں اور کتاب لکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں وہ اپنی کتاب میں موجودہ دور کے نسابین بلخصوص  سید محسن رضا کاظمی صاحب ،  ابوزھرا سید فدا حسین موسوی صاحب آف مظفر آباد ، سید قمر عباس الاعرجی الہمدانی صاحب  اور دیگر نسابین  کا تذکرہ بھی اپنی کتب میں کریں تاکہ ان محسنین سادات کا ذکر بھی محفوظ ہو جائے ۔


اللًّهُمَ صَّلِ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّد و عَجِّلّ  فَّرَجَهُم

اپنی قیمتی  رائے کا اظہار کریں۔ 

Comments

Popular posts from this blog

تین بہن بھائیوں کی درد ناک داستان

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے لیے فرمایا