دورِ حاضر میں یزیدیوں کی پہچان | فلسطین، کربلا، عرب امارات اور پاکستانی محنت کشوں کی دردناک حقیقت
قدرت نے انسان کو ایک ایسا مکمل نظام عطا کیا ہے جو خود کو صحت مند رکھنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے، بشرطیکہ ہم اس کے اصولوں کو سمجھیں اور اپنی زندگی میں اپنائیں نامور ماہرِ طب حکیم سعید نے اپنی ایک سادہ مگر بامعنی نظم کے ذریعے یہی پیغام دیا کہ انسان کو حتیٰ الامکان بیماریوں کے علاج کے لیے دوا کے بجائے غذا پر انحصار کرنا چاہیے یہ نظم آج بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی دہائیوں پہلے تھی، کیونکہ اس میں بیان کیے گئے اصول نہ صرف روایتی حکمت بلکہ جدید سائنسی تحقیق سے بھی ہم آہنگ نظر آتے ہیں۔
نظم کا بنیادی پیغام
نظم کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ جب تک صحت کے مسائل کو متوازن غذا کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہو، تب تک ادویات کا سہارا نہیں لینا چاہیے اس سوچ کے پیچھے ایک گہری حکمت پوشیدہ ہے، کیونکہ قدرتی غذائیں نہ صرف بیماریوں کو دور کرتی ہیں بلکہ جسم کو اندر سے مضبوط بھی بناتی ہیں اس کے برعکس، ادویات اکثر فوری آرام تو دیتی ہیں مگر بعض اوقات ان کے مضر اثرات بھی سامنے آ سکتے ہیں اسی لیے حکیم سعید نے ہمیں سادہ اور قدرتی طرزِ زندگی اپنانے کی تلقین کی ہے۔
اگر ہم نظم کے مختلف اشعار کا جائزہ لیں تو ہمیں روزمرہ کے عام مسائل کے لیے نہایت آسان اور مؤثر حل ملتے ہیں مثال کے طور پر، خون کی کمی اور بلغم کی زیادتی کے لیے گاجر، چنے اور شلغم جیسی غذاؤں کا استعمال تجویز کیا گیا ہے یہ سبزیاں اور اناج نہ صرف غذائیت سے بھرپور ہوتے ہیں بلکہ جسم میں خون کی پیداوار کو بھی بہتر بناتے ہیں اسی طرح جگر کو انسانی صحت کا مرکز قرار دیتے ہوئے پپیتے کے استعمال پر زور دیا گیا ہے، جو جگر کی صفائی اور نظامِ ہاضمہ کی بہتری میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
جگر میں گرمی یا جلن کی صورت میں مربہ آملہ اور انناس جیسے قدرتی اجزاء کو مفید بتایا گیا ہے یہ غذائیں جسم میں ٹھنڈک پیدا کرتی ہیں اور وٹامن سی سے بھرپور ہونے کے باعث قوتِ مدافعت کو بھی مضبوط بناتی ہیں اسی طرح معدے کے مسائل جیسے بھاری پن، گیس یا بدہضمی کے لیے سونف اور ادرک کا پانی ایک بہترین قدرتی علاج ہے، جو صدیوں سے آزمودہ ہے اور آج بھی مؤثر سمجھا جاتا ہے۔
نظم میں جسمانی کمزوری اور تھکن کے لیے بھی نہایت سادہ حل پیش کیا گیا ہے اگر عضلات میں ڈھیلا پن یا تھکن محسوس ہو تو گرم دودھ پینے کا مشورہ دیا گیا ہے دودھ ایک مکمل غذا ہے جس میں کیلشیم، پروٹین اور دیگر ضروری اجزاء شامل ہوتے ہیں، جو جسم کو فوری توانائی فراہم کرتے ہیں اسی طرح نزلہ، زکام یا گلے کی تکلیف کے لیے نمکین پانی کے غرارے ایک نہایت آسان مگر مؤثر طریقہ ہیں، جو سوزش کو کم کرتے اور گلے کو سکون دیتے ہیں۔
دانتوں کے درد
دانتوں کے درد کے لیے نمک کا استعمال ایک قدیم مگر کارآمد نسخہ ہے، جو مسوڑھوں کو مضبوط بناتا اور جراثیم کا خاتمہ کرتا ہے اسی طرح جسمانی کمزوری کے لیے ملتانی مصری کا ذکر بھی دلچسپ ہے، جو فوری توانائی کا ذریعہ بنتی ہے کھانسی کے علاج کے لیے دودھ میں ہلدی ملا کر پینا ایک معروف گھریلو نسخہ ہے، جسے آج بھی دنیا بھر میں استعمال کیا جاتا ہے اور سائنسی طور پر بھی اس کے فوائد تسلیم کیے جا چکے ہیں۔
کان کے درد کے لیے
دمہ کے لیے
دمہ جیسے پیچیدہ مرض کے لیے بھی نظم میں سادہ ہدایات دی گئی ہیں، جیسے کھٹی چیزوں سے پرہیز اور مچھلی کا استعمال اسی طرح سردیوں میں جسم کو گرم رکھنے کے لیے انڈے کی زردی کا استعمال ایک مفید مشورہ ہے، جو جسم میں حرارت پیدا کرتا ہے اور قوتِ مدافعت کو بڑھاتا ہے بدہضمی کے لیے فاقہ کرنے کا مشورہ بھی نہایت اہم ہے، کیونکہ اس سے نظامِ ہاضمہ کو آرام ملتا ہے اور جسم خود کو بہتر انداز میں بحال کرتا ہے۔
یہ نظم ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ صحت صرف بیماری نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایک متوازن اور فعال زندگی گزارنے کا نام ہے اگر ہم اپنی خوراک پر توجہ دیں، قدرتی اشیاء کا استعمال بڑھائیں اور غیر ضروری ادویات سے پرہیز کریں، تو ہم نہ صرف بیماریوں سے بچ سکتے ہیں بلکہ ایک خوشحال اور متحرک زندگی بھی گزار سکتے ہیں۔
آخر میں یہ کہنا درست ہوگا کہ حکیم سعید کی یہ نظم محض ایک ادبی تخلیق نہیں بلکہ ایک مکمل طرزِ زندگی کا پیغام ہے
اگر ہم اس میں بیان کیے گئے اصولوں کو اپنائیں تو نہ صرف اپنی صحت کو بہتر بنا سکتے ہیں بلکہ دوسروں
کے لیے بھی ایک مثال قائم کر سکتے ہیں۔ یہ پیغام ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اصل شفا ہماری روزمرہ غذا میں ہی پوشیدہ ہے، بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اسے پہچانیں اور اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔
Comments
Post a Comment
For More Information Please Comments.