دورِ حاضر میں یزیدیوں کی پہچان | فلسطین، کربلا، عرب امارات اور پاکستانی محنت کشوں کی دردناک حقیقت

Image
  دور حاضر میں یزیدیوں کی پہنچان   تحریر:   بشارت موسوی     امام حسینؑ اور اہلِ بیتؑ کی عظیم قربانی  یہ تحریر سانحۂ کربلا، امام حسینؑ کی عظیم قربانی، فلسطین پر جاری مظالم، عرب امارات میں پاکستانی محنت کشوں کے خلاف کارروائیوں اور موجودہ دور میں یزیدی سوچ کے مختلف پہلوؤں پر مبنی ہے۔ میں نے اسلامی تاریخ اور موجودہ عالمی حالات کو جوڑتے ہوئے اپنے خیالات پیش کیے ہیں۔ امام حسین علیہ السلام اور انکے خاندان کو یزید نے کربلا کے مقام پر شہید کیا  امام علیہ السلام کو شہید کرنے کے بعد مختلف جگہوں پر جشن منایا گیا امام علیہ السلام         کے سر مبارک  کو پامال کیا گیا ، اس شہزادے کے سر کی بے حرمتی کی گئی جسے رسول ص اپنے کندھوں پر سوار کرتے  تھےاپنے شہزادوں کو گھوڑ سواری  کرواتے تھے،  امام حسین علیہ السلام کی اس عظییم الشان قربانی کو  تاریخ نے محفوظ کیا ہے، آج پوری دنیا امام حسین  علیہ السلام کی بچوں کے ساتھ دین محمدی ص کے لیے دی گئی عظیم قربانی کو یاد کرتی ہے۔   بیشک     " قتل حسین  ...

حکیم سعید / Hakeem Saeed

 

حکیم سعید کی نظم اور صحت کا سنہری اصول

  غذا ہی بہترین دوا

قدرت نے انسان کو ایک ایسا مکمل نظام عطا کیا ہے جو خود کو صحت مند رکھنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے، بشرطیکہ ہم اس کے اصولوں کو سمجھیں اور اپنی زندگی میں اپنائیں  نامور ماہرِ طب حکیم سعید نے اپنی ایک سادہ مگر بامعنی نظم کے ذریعے یہی پیغام دیا کہ انسان کو حتیٰ الامکان بیماریوں کے علاج کے لیے دوا کے بجائے غذا پر انحصار کرنا چاہیے  یہ نظم آج بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی دہائیوں پہلے تھی، کیونکہ اس میں بیان کیے گئے اصول نہ صرف روایتی حکمت بلکہ جدید سائنسی تحقیق سے بھی ہم آہنگ نظر آتے ہیں۔

نظم کا بنیادی پیغام

نظم کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ جب تک صحت کے مسائل کو متوازن غذا کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہو، تب تک ادویات کا سہارا نہیں لینا چاہیے   اس سوچ کے پیچھے ایک گہری حکمت پوشیدہ ہے، کیونکہ قدرتی غذائیں نہ صرف بیماریوں کو دور کرتی ہیں بلکہ جسم کو اندر سے مضبوط بھی بناتی ہیں  اس کے برعکس، ادویات اکثر فوری آرام تو دیتی ہیں مگر بعض اوقات ان کے مضر اثرات بھی سامنے آ سکتے ہیں  اسی لیے حکیم سعید نے ہمیں سادہ اور قدرتی طرزِ زندگی اپنانے کی تلقین کی ہے۔

اگر ہم نظم کے مختلف اشعار کا جائزہ لیں تو ہمیں روزمرہ کے عام مسائل کے لیے نہایت آسان اور مؤثر حل ملتے ہیں  مثال کے طور پر، خون کی کمی اور بلغم کی زیادتی کے لیے گاجر، چنے اور شلغم جیسی غذاؤں کا استعمال تجویز کیا گیا ہے  یہ سبزیاں اور اناج نہ صرف غذائیت سے بھرپور ہوتے ہیں بلکہ جسم میں خون کی پیداوار کو بھی بہتر بناتے ہیں  اسی طرح جگر کو انسانی صحت کا مرکز قرار دیتے ہوئے پپیتے کے استعمال پر زور دیا گیا ہے، جو جگر کی صفائی اور نظامِ ہاضمہ کی بہتری میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

جگر میں گرمی یا جلن کی صورت میں مربہ آملہ اور انناس جیسے قدرتی اجزاء کو مفید بتایا گیا ہے  یہ غذائیں جسم میں ٹھنڈک پیدا کرتی ہیں اور وٹامن سی سے بھرپور ہونے کے باعث قوتِ مدافعت کو بھی مضبوط بناتی ہیں اسی طرح معدے کے مسائل جیسے بھاری پن، گیس یا بدہضمی کے لیے سونف اور ادرک کا پانی ایک بہترین قدرتی علاج ہے، جو صدیوں سے آزمودہ ہے اور آج بھی مؤثر سمجھا جاتا ہے۔

نظم میں جسمانی کمزوری اور تھکن کے لیے بھی نہایت سادہ حل پیش کیا گیا ہے  اگر عضلات میں ڈھیلا پن یا تھکن محسوس ہو تو گرم دودھ پینے کا مشورہ دیا گیا ہے دودھ ایک مکمل غذا ہے جس میں کیلشیم، پروٹین اور دیگر ضروری اجزاء شامل ہوتے ہیں، جو جسم کو فوری توانائی فراہم کرتے ہیں اسی طرح نزلہ، زکام یا گلے کی تکلیف کے لیے نمکین پانی کے غرارے ایک نہایت آسان مگر مؤثر طریقہ ہیں، جو سوزش کو کم کرتے اور گلے کو سکون دیتے ہیں۔

دانتوں کے درد 

دانتوں کے درد کے لیے نمک کا استعمال ایک قدیم مگر کارآمد نسخہ ہے، جو مسوڑھوں کو مضبوط بناتا اور جراثیم کا خاتمہ کرتا ہے  اسی طرح جسمانی کمزوری کے لیے ملتانی مصری کا ذکر بھی دلچسپ ہے، جو فوری توانائی کا ذریعہ بنتی ہے  کھانسی کے علاج کے لیے دودھ میں ہلدی ملا کر پینا ایک معروف گھریلو نسخہ ہے، جسے آج بھی دنیا بھر میں استعمال کیا جاتا ہے اور سائنسی طور پر بھی اس کے فوائد تسلیم کیے جا چکے ہیں۔

کان کے درد کے لیے

کان کے درد کے لیے سرسوں کے تیل کا استعمال، آنکھوں کے مسائل کے لیے دیسی طریقے، اور دیگر چھوٹے موٹے امراض کے لیے گھریلو علاج اس نظم کا حصہ ہیں، جو اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ پرانے زمانے میں لوگ کس طرح قدرتی وسائل سے اپنی صحت کا خیال رکھتے تھے  یہ تمام نسخے اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ قدرت نے ہر بیماری کا علاج کسی نہ کسی شکل میں ہمارے اردگرد ہی رکھا ہے۔

دمہ کے لیے

دمہ جیسے پیچیدہ مرض کے لیے بھی نظم میں سادہ ہدایات دی گئی ہیں، جیسے کھٹی چیزوں سے پرہیز اور مچھلی کا استعمال  اسی طرح سردیوں میں جسم کو گرم رکھنے کے لیے انڈے کی زردی کا استعمال ایک مفید مشورہ ہے، جو جسم میں حرارت پیدا کرتا ہے اور قوتِ مدافعت  کو بڑھاتا ہے بدہضمی کے لیے فاقہ کرنے کا مشورہ بھی نہایت اہم ہے، کیونکہ اس سے نظامِ ہاضمہ کو آرام ملتا ہے اور جسم خود کو بہتر انداز میں بحال کرتا ہے۔

یہ نظم ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ صحت صرف بیماری نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایک متوازن اور فعال زندگی گزارنے کا نام ہے  اگر ہم اپنی خوراک پر توجہ دیں، قدرتی اشیاء کا استعمال بڑھائیں اور غیر ضروری ادویات سے پرہیز کریں، تو ہم نہ صرف بیماریوں سے بچ سکتے ہیں بلکہ ایک خوشحال اور متحرک زندگی بھی گزار سکتے ہیں۔

آج کے جدید دور میں جہاں فاسٹ فوڈ، مصنوعی اشیاء اور مصروف طرزِ زندگی نے ہماری صحت کو متاثر کیا ہے، وہاں حکیم سعید کا یہ پیغام ایک رہنما اصول کی حیثیت رکھتا ہے  ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی روزمرہ زندگی میں چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں لائیں، جیسے تازہ پھلوں اور سبزیوں کا استعمال، مناسب نیند، اور جسمانی سرگرمی، تاکہ ہم اپنی صحت کو بہتر بنا سکیں۔

یہ نتیجہ آخز ہوا

آخر میں یہ کہنا درست ہوگا کہ حکیم سعید کی یہ نظم محض ایک ادبی تخلیق نہیں بلکہ ایک مکمل طرزِ زندگی کا پیغام ہے 
اگر ہم اس میں بیان کیے گئے اصولوں کو اپنائیں تو نہ صرف اپنی صحت کو بہتر بنا سکتے ہیں بلکہ دوسروں
کے لیے بھی ایک مثال قائم کر سکتے ہیں۔ یہ پیغام ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اصل شفا ہماری روزمرہ غذا میں ہی پوشیدہ ہے، بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اسے پہچانیں اور اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔

Comments

Popular posts from this blog

سید محسن رضا کاظمی الحمیدی

تین بہن بھائیوں کی درد ناک داستان

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے لیے فرمایا