دورِ حاضر میں یزیدیوں کی پہچان | فلسطین، کربلا، عرب امارات اور پاکستانی محنت کشوں کی دردناک حقیقت

Image
  دور حاضر میں یزیدیوں کی پہنچان   تحریر:   بشارت موسوی     امام حسینؑ اور اہلِ بیتؑ کی عظیم قربانی  یہ تحریر سانحۂ کربلا، امام حسینؑ کی عظیم قربانی، فلسطین پر جاری مظالم، عرب امارات میں پاکستانی محنت کشوں کے خلاف کارروائیوں اور موجودہ دور میں یزیدی سوچ کے مختلف پہلوؤں پر مبنی ہے۔ میں نے اسلامی تاریخ اور موجودہ عالمی حالات کو جوڑتے ہوئے اپنے خیالات پیش کیے ہیں۔ امام حسین علیہ السلام اور انکے خاندان کو یزید نے کربلا کے مقام پر شہید کیا  امام علیہ السلام کو شہید کرنے کے بعد مختلف جگہوں پر جشن منایا گیا امام علیہ السلام         کے سر مبارک  کو پامال کیا گیا ، اس شہزادے کے سر کی بے حرمتی کی گئی جسے رسول ص اپنے کندھوں پر سوار کرتے  تھےاپنے شہزادوں کو گھوڑ سواری  کرواتے تھے،  امام حسین علیہ السلام کی اس عظییم الشان قربانی کو  تاریخ نے محفوظ کیا ہے، آج پوری دنیا امام حسین  علیہ السلام کی بچوں کے ساتھ دین محمدی ص کے لیے دی گئی عظیم قربانی کو یاد کرتی ہے۔   بیشک     " قتل حسین  ...

انسان کی زندگی کا سفر، غفلت سے بیداری تک ایک سبق آموز حقیقت

  

 انسان کی زندگی کا سفر ،           غفلت سے بیداری تک ایک سبق آموز حقیقت

تحریر: بشارت موسوی

پیدائش اور والدین کی محبت

اللہ تعالیٰ جب انسان کو ماں کے پیٹ میں تخلیق کرتا ہے اور وہ اس دنیا میں قدم رکھتا ہے تو اس کی آمد خوشیوں کا پیغام بن جاتی ہے والدین اس معصوم بچے کی صحت اور تندرستی کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں  اسے بہترین خوراک دی جاتی ہے، موسم کے مطابق لباس پہنایا جاتا ہے اور ہر طرح کی حفاظت فراہم کی جاتی ہے تاکہ وہ بیماریوں سے محفوظ رہے یہ محبت اور خیال 

ایک فطری عمل ہے جو ہر انسان اپنے بچوں کے لیے کرتا ہے۔



 
 بچپن سے جوانی تک تبدیلیاں

وقت کے ساتھ یہی بچہ بڑھتا ہے اور اس کی نشوونما جاری رہتی ہے تین سال، پانچ سال اور پھر دس سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے اس کی جسمانی اور ذہنی صلاحیتوں میں نمایاں تبدیلی آتی ہے بارہ سے پندرہ سال کی عمر میں وہ جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتا ہے، اس کی آواز میں تبدیلی آتی ہے اور چہرے پر ایک خاص رونق نمایاں ہو جاتی ہے۔

یہ وہ عمر ہوتی ہے جب انسان خود کو سب سے زیادہ طاقتور سمجھتا ہے دنیا اسے حسین لگتی ہے اور وہ اپنی سوچ کو ہی درست سمجھتا ہے اکثر نوجوان اس مرحلے پر بڑوں کی نصیحت کو نظر انداز کرتے ہیں اور اپنی مرضی سے فیصلے کرنے لگتے ہیں۔

  جوانی، خواب اور ذمہ داریاں

جوانی انسان کی زندگی کا سب سے قیمتی وقت ہوتا ہے اسی دور میں وہ تعلیم حاصل کرتا ہے، مستقبل کے خواب دیکھتا ہے اور پھر عملی زندگی میں قدم رکھتا ہے شادی، روزگار اور گھر کی ذمہ داریاں اس کی زندگی کا حصہ بن جاتی ہیں۔

ان ذمہ داریوں میں مصروف ہو کر انسان اکثر اپنی صحت اور روحانیت کو نظر انداز کر دیتا ہے وہ دنیاوی کامیابی کے پیچھے بھاگتا رہتا ہے اور وقت تیزی سے گزرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اسے احساس بھی نہیں ہوتا کہ زندگی کا بڑا حصہ گزر چکا ہے۔

  بڑھاپا اور صحت کی کمزوری

ایک وقت ایسا آتا ہے جب انسان بڑھاپے کی دہلیز پر پہنچ جاتا ہے جسم میں کمزوری آ جاتی ہے، قوت مدافعت کم ہو جاتی ہے اور مختلف بیماریاں اسے گھیر لیتی ہیں وہ اپنی صحت کی بحالی کے لیے ڈاکٹرز اور حکیموں کے پاس جاتا ہے مگر جوانی جیسی طاقت واپس نہیں آتی۔

اگر اولاد نیک ہو تو وہ اپنے والدین کی خدمت کرتی ہے، لیکن اس کے باوجود انسان کو اپنی کمزوری اور بے بسی کا احساس ہونے لگتا ہے۔

  ندامت اور اللہ کی طرف رجوع

بڑھاپے میں انسان کو اللہ تعالیٰ کی بہت یاد آتی ہے  وہ دعا کرتا ہے کہ کاش اسے دوبارہ جوانی مل جائے تاکہ وہ نیک اعمال کر سکے اور اپنی کوتاہیوں کی تلافی کر سکے مگر وقت گزر چکا ہوتا ہے اور یہ موقع واپس نہیں آتا        یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان کو اپنی غفلت کا احساس ہوتا ہے، مگر اس وقت عمل کا دائرہ محدود ہو جاتا ہے۔

  قرآن کی روشنی میں حقیقت (سورہ العصر)

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے ۔

"زمانے کی قسم! بے شک انسان خسارے میں ہے، سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے، نیک اعمال کیے، حق کی تلقین کی اور صبر کی نصیحت کی۔"

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ انسان کی کامیابی صرف دنیاوی ترقی میں نہیں بلکہ ایمان اور نیک اعمال میں ہے۔

 

  سورہ الماعون کی نصیحت

ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ سورہ الماعون میں فرماتا ہے کہ وہ لوگ تباہی کے مستحق ہیں جو دین کو جھٹلاتے ہیں، یتیموں کو دھکے دیتے ہیں اور مسکینوں کی مدد نہیں کرتے، اور اپنی نماز میں بھی غفلت برتتے ہیں۔

یہ آیات ہمیں سکھاتی ہیں کہ صرف عبادت کافی نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت اور اخلاص بھی ضروری ہے۔

  دنیا کی حقیقت اور آخرت کی تیاری

یہ دنیا عارضی ہے اور انسان یہاں ایک محدود وقت کے لیے آیا ہے۔ مال، دولت، عہدہ اور اولاد سب یہیں رہ جائیں گے، جبکہ انسان اکیلا اپنے اعمال کے ساتھ اللہ کے حضور پیش ہوگا۔

اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی زندگی کو متوازن بنائیں، دنیا کے ساتھ ساتھ آخرت کی بھی تیاری کریں اور ہر وقت اللہ کو یاد رکھیں۔

  اختتامیہ اور دعا

اللہ تعالیٰ نہایت مہربان اور رحم کرنے والا ہے۔ وہ اپنے بندوں کو بار بار موقع دیتا ہے کہ وہ اس کی طرف رجوع کریں، توبہ کریں اور اپنی اصلاح کریں۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی زندگی کو صحیح طریقے سے گزارنے کی توفیق عطا فرمائے، ہمارے گناہوں کو معاف کرے اور ہمیں نیک اعمال کی راہ پر چلنے والا بنا دے۔

آمین۔


Please, Like , Comments and Share 

Comments

Popular posts from this blog

سید محسن رضا کاظمی الحمیدی

تین بہن بھائیوں کی درد ناک داستان

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے لیے فرمایا