دورِ حاضر میں یزیدیوں کی پہچان | فلسطین، کربلا، عرب امارات اور پاکستانی محنت کشوں کی دردناک حقیقت
پانی کی نعمت - قدرتِ الٰہی کا عظیم انعام
تحریر: بشارت موسوی
اللہ تعالیٰ وہ
ذات ہے جس نے اس وسیع و عریض کائنات کو بے مثال حکمت اور حسن کے ساتھ تخلیق فرمایا زمین
و آسمان، چاند و ستارے، سورج کی روشنی اور ہوا کا نظام یہ سب اس کی قدرت کی نشانیاں ہیں۔ انہی
بے شمار نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت "پانی" ہے، جو زندگی کی بنیاد
اور ہر جاندار کی ضرورت ہے اگر انسان غور و فکر کرے تو اسے معلوم ہوگا کہ پانی کے
بغیر زندگی کا تصور بھی ممکن نہیں۔
چاند اور ستاروں کی
تخلیق
سورج کی روشنی اور اس کے فوائد
دن کی روشنی کے لیے اللہ تعالیٰ نے سورج جیسی عظیم نعمت عطا فرمائی سورج کی روشنی سے انسان صبح بیدار ہوتا ہے اور اپنے روزمرہ کے کاموں میں مصروف ہو جاتا ہے کسان کھیتوں میں کام کرتے ہیں مزدور محنت کرتے ہیں اور طلبہ علم حاصل کرتے ہیں یہ سب سورج کی روشنی کی بدولت ممکن ہوتا ہے سورج کی روشنی انسانی صحت کے لیے بھی بے حد ضروری ہے اس سے حاصل ہونے والی وٹامن ڈی ہڈیوں
کو مضبوط
بناتی ہے اور جسم کو توانائی فراہم کرتی ہے نومولود بچوں کے لیے بھی سورج کی روشنی نہایت
اہم ہے کیونکہ یہ ان کی نشوونما میں مدد دیتی ہے یوں سورج نہ صرف روشنی کا ذریعہ
ہے بلکہ زندگی کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، جدید دور حاضر میں انجئینیرز
نے سورج کی روشنی سے مزید فائدہ اٹھانا شروع کر دیا ہے بجلی کی کمی کو پورا
کرنے کے لیے سولر پلیٹیں بنا دی ہیں جن کی مدد سے بجلی حاصل کی جارہی ہے جو علمی لحاظ
سے انسان کی بہترین ترقی ہے۔ انسان کے لیے پانی
کی نعمت
اللہ تعالیٰ نے پانی کو انسان، حیوان، چرند و پرند اور نباتات سب کے لیے پیدا فرمایا پانی زندگی کی سب سے بنیادی ضرورت ہے انسان کی روزمرہ زندگی پانی کے بغیر ادھوری ہے۔ پینے، کھانا پکانے، صفائی، زراعت اور صنعت ہر شعبے میں پانی کا استعمال ہوتا ہے ، اگر زمین پر پانی نہ ہوتا تو نہ فصلیں اگتیں، نہ درخت ہرے بھرے ہوتے، اور نہ ہی کوئی جاندار زندہ رہ سکتا ہے اسی لیے پانی کو زندگی کی روح کہا جاتا ہے یہ اللہ تعالیٰ کی وہ نعمت ہے جس کے بغیر دنیا کا نظام درہم برہم ہو جائے، تاریخی لحاظ سے اگرمطالعہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے پانی کے حصول کے لیے کئی جنگیں لڑی گئیں۔
پانی کا نظام بھی
نہایت حیرت انگیز ہے سمندروں، دریاؤں اور جھیلوں کا پانی سورج کی حرارت سے بخارات
بن کر آسمان کی طرف اٹھتا ہے یہ بخارات
بادلوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں، جو ہوا کے ذریعے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل
ہوتے رہتے ہیں اور پھر اللہ کے حکم سے برستے ہیں۔
جب یہ بادل ٹھنڈے
ہوتے ہیں تو پانی بارش کی صورت میں زمین پر برستا ہے بارش زمین کو سیراب کرتی ہے،
فصلوں کو اگاتی ہے اور زندگی کو جاری رکھتی ہے بعض اوقات یہی پانی اولوں کی شکل میں
گرتا ہے، جو جمے ہوئے پانی کے ذرات ہوتے ہیں اسی طرح سرد علاقوں میں یہی پانی برف
بن کر زمین کو ڈھانپ لیتا ہے، بادلوں
کا بننا، ان کا چلنا، اور پھر بارش کا برسنا یہ سب اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کرشمہ
ہے انسان جتنا بھی علم حاصل کر لے وہ اس نظام کی مکمل حقیقت کو نہیں سمجھ سکتا۔
شبنم کی شکل میں
پانی
پانی کی ایک خوبصورت صورت شبنم ہے، جو صبح کے وقت گھاس اور پھولوں پر موتیوں کی طرح چمکتی ہے شبنم نہایت دلکش منظر پیش کرتی ہے اور دل کو سکون دیتی ہے اس میں قدرتی تازگی اور پاکیزگی پائی جاتی ہے بزرگوں کے مطابق صبح سویرے شبنم پر ننگے پاؤں چلنا صحت کے لیے مفید ہوتا ہے یہ آنکھوں کی روشنی کو بہتر
پانی سے عرقِ گلاب
اللہ تعالیٰ نے
پھولوں میں بھی پانی کو خاص انداز میں رکھا ہے گلاب کے پھول سے حاصل ہونے والا
عرقِ گلاب اس کی بہترین مثال ہے یہ خوشبو دار پانی نہ صرف دل کو بھاتا ہے بلکہ طبی
لحاظ سے بھی مفید ہے، عرقِ گلاب آنکھوں کی صفائی کے لیے استعمال
ہوتا ہے اور آنکھوں کی جلن کو کم کرتا ہے جلد کی خوبصورتی کے لیے بھی یہ فائدہ مند
ہے بعض روایات کے مطابق اگر اسے دیگر اجزاء کے ساتھ استعمال کیا جائے تو یہ خون کی
کمی کو بھی دور کرنے میں مدد دیتا ہے یہ
سب اللہ تعالیٰ کی قدرت کے حیرت انگیز نمونے ہیں۔
اسلامی نقطہ نظر
سے پانی کی اہمیت
اسلام میں پانی کو
بہت بڑی نعمت قرار دیا گیا ہے طہارت اور
پاکیزگی کے لیے پانی بنیادی حیثیت رکھتا ہے وضو اور غسل جیسے عبادات پانی کے بغیر ممکن نہیں ہیں۔
اسلامی تاریخ میں حضرت ہاجرہؑ اور حضرت اسماعیلؑ کا واقعہ پانی کی اہمیت کو واضح کرتا ہے جب حضرت ہاجرہؑ اپنے بیٹے کے لیے پانی کی تلاش میں صفا اور مروہ کی پہاڑیوں کے درمیان دوڑیں تو اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیلؑ کے قدموں کے نیچے سے پانی جاری کر دیا جسے آبِ زم زم کہا جاتا ہے ، یہ پانی آج بھی لاکھوں مسلمانوں کے لیے باعثِ برکت اور شفا ہے حجاج کرام اور عمرہ زائرین اسے اپنے ساتھ تبرک کے طور پر گھر لے جاتے ہیں اور اسے عقیدت سے استعمال کرتے ہیں یہ اللہ
پانی کی قدر اور
ہماری ذمہ داری
اگرچہ پانی ایک عظیم
نعمت ہے لیکن آج کے دور میں اس کا ضیاع ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے لوگ پانی کو بے
دریغ استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے کئی علاقوں میں پانی کی کمی پیدا ہو رہی ہے، ہمیں چاہیے کہ ہم پانی کی قدر کریں اسے
ضائع نہ کریں اور اس کے استعمال میں احتیاط برتیں اگر ہم آج اس نعمت کی حفاظت کریں
گے تو آنے والی نسلیں بھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں گی۔
اس تحریر سے ہم نتیجہ آخز کر سکتےہیں
پانی اللہ تعالیٰ
کی ایک بے مثال نعمت ہے جو زندگی کی بنیاد ہے یہ نہ صرف ہماری جسمانی ضروریات کو
پورا کرتا ہے بلکہ روحانی اور ماحولیاتی لحاظ سے بھی بہت اہم ہے ہمیں چاہیے کہ
ہم اس نعمت کا شکر ادا
کریں اس کی قدر کریں اور اسے محفوظ رکھیں، ہمیشہ یاد رکھنے کی بات ہے پانی ہے تو زندگی ہے اور زندگی اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی عطا ہے۔
Please, Like , Comments and share
Comments
Post a Comment
For More Information Please Comments.