دورِ حاضر میں یزیدیوں کی پہچان | فلسطین، کربلا، عرب امارات اور پاکستانی محنت کشوں کی دردناک حقیقت
قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے لیے فرمایا
اے علی وہ شخص بڑا بد بخت ہو گا جو میرے بعد آپ پر لعن طعن کریگا۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ پل صراط پر ایک
گھاٹی ہے وہی شخص عبور کریگا جس کے پاس علی کی سند ہو گی۔
اے ذات باری تعالٰی مجھے اس وقت تک موت نہ دے جب تک کہ آپ مجھے علی کی زیارت نہ کرا دے۔
اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں فاطمہ الزہراء کا عقد علی سے کر دوں۔
سب سے پہلے جنت میں داخل ہونے والے علی ہونگے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ علی ہی نے سب سے پہلے میرے ساتھ نمازپڑھی۔
مجھ پر ایمان لانے اور میری تصدیق کرنیوالے کو میں وصیت کرتا ہوں کہ وہ علی کی ولایت تسلیم کرے۔
.اسلام میں سب سے بڑی اور پہلی بدبختی یہ ہے کہ علی کی مخالفت کی جائے
آپ حوض کوثر میں سب سے پہلے میرے پاس آنیوالے سب میں سے سائق السلام علی ہیں۔
مسلمانو تم آپنی محفلوں کو علی کے ذکر سے سجایا کرو۔
مسجد نبوی کی جانب کھلنے والے تمام لوگوں کے دروازے بند کر دو سوائے علی کے دروازے کے۔
ہر مومن کے اعمال نامہ کا عنوان حب علی ہے۔
ذوالفقار میں ہی کامل تلوار کی خوبیاں میں اور علی ہی جوان کہلانے کے حقدار ہیں۔
اے لوگو میں تمھیں آپنے قریب ترین عزیز کے ساتھ محبت رکھنے کی وصیت کرتا ہوں اور وہ میرے بھائی اور چچا زاد علی ہیں۔
علی کے سوا دوسرا کوئی شخص میرا قرض نہیں اتارے گا۔
جنت میں وہی داخل ہو گا جس کے پاس علی کی محبت کی سند ہو گی۔
ہر نبی کا ایک دوست ہوا کرتا ہے اور میرے دوست علی ہیں۔
میرے بعد میری پوری امت میں سب سے زیادہ علم والے علی ہیں۔
.میری طرف سے کوئی پیغام نہیں پہنچا سکتا سوائے میرے یا علی کے
ہر نبی کا ایک راز دار ہوتا ہے اور
میرے راز دار علی ہیں۔
ہر نبی کا ایک وارث اور وصی ہوتا ہے میرے وارث اور وصی علی ہیں۔
جو شخص عرب کے جوانوں کے سردار کو دیکھنا چاہے وہ علی کو دیکھ لے۔
جس کا آقا اور سرپرست میں ہوں علی بھی اس کے آقا اور سرپرست ہیں۔
قیامت کے دن حضرت آدم اپنے بیٹے شیت پر فخر کریگا اور میں علی پر فخر کروں گا۔
اللہ تعالیٰ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسل کو علی علیہ السلام کے ذریعے قائم و دائم رکھے گا۔
دنیا اور آخرت میں میرے بھائی علی ہیں۔
جس شخص کو تمام لوگوں کی نسبت اللہ تعالیٰ کی زات و صفات کا زیادہ علم ہے وہ علی ہیں۔
مومنوں کے امیر اور مسلمانوں کے سردار علی ہیں۔
سب سے پہلے مجھ پر ایمان لانے اور میری تصدیق کرنے والے علی ہیں۔
استغفار کا دروازہ
علی ہیں جواس دروازے سے داخل ہو گا وہی مومن ہو گا۔
علی کی اطاعت میری اطاعت ہے اور ان کی نافرمانی میری نافرمانی ہے۔
ہدایت کا پرچم اور ایمان کا مینار علی ہیں۔
میرے بعد میرے علم کا دروازہ علی ہیں اور اللہ کا جو پیغام امت کے لیے مجھے دیا گیا ہے اسکے بیان کرنیوالے علی ہیں۔
جنت اور دوزخ کو تقسیم کرنیوالے علی ہیں۔
علی ہمیشہ حق کے ساتھ ہیں اور حق ہمیشہ علی کے ساتھ ہے۔علی ایمان کی دولت سے بھر پور ہیں۔
علی کو مجھ سے وہ تعلق ہے جو میرے سر (مبارک) کو میرے بدن مبارک سے ہے۔
علی کو مجھ سے وہی نسبت ہے جو حضرت ہارون کو حضرت موسیٰ سے تھی۔
علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں۔
علی مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں اور وہ میرے بعد ہر مومن کے سرپرست ہیں۔
جس کا سرپرست میں ہوں علی بھی اس کے سرپرست ہیں۔
علی ہی میرا قرض اتاریں گے اور وہی میرے عہد و پیماں پورے کریں گے۔
علی میری جان ہیں اور میں انکی جان ہوں۔علی اور ان کے محب ہی کامیاب ہونیوالے ہیں۔
علی صالحین کے امام اور بد معاشوں
کے قاتل ہیں۔
علی نسل نوع انسانی میں سب سے بہتر ہیں جو انکار کریگا وہ کافر ہے۔
علی کے پاس اللہ تعالیٰ کی ایک واضع سند ہے اور میں اس پر گواہ ہوں۔
جنتیوں کے لیے علی کی چمک دمک اس طرح ہوگی جس طرح دنیا والوں کے لیے صبح کے تارے کی چمک دمک ہوتی ہے۔
علی مومنوں کے سردار ہیں اللہ کے
رسول نے سچ فرمایا۔
Please, Share, Comments & Follow
Comments
Post a Comment
For More Information Please Comments.