دورِ حاضر میں یزیدیوں کی پہچان | فلسطین، کربلا، عرب امارات اور پاکستانی محنت کشوں کی دردناک حقیقت

Image
  دور حاضر میں یزیدیوں کی پہنچان   تحریر:   بشارت موسوی     امام حسینؑ اور اہلِ بیتؑ کی عظیم قربانی  یہ تحریر سانحۂ کربلا، امام حسینؑ کی عظیم قربانی، فلسطین پر جاری مظالم، عرب امارات میں پاکستانی محنت کشوں کے خلاف کارروائیوں اور موجودہ دور میں یزیدی سوچ کے مختلف پہلوؤں پر مبنی ہے۔ میں نے اسلامی تاریخ اور موجودہ عالمی حالات کو جوڑتے ہوئے اپنے خیالات پیش کیے ہیں۔ امام حسین علیہ السلام اور انکے خاندان کو یزید نے کربلا کے مقام پر شہید کیا  امام علیہ السلام کو شہید کرنے کے بعد مختلف جگہوں پر جشن منایا گیا امام علیہ السلام         کے سر مبارک  کو پامال کیا گیا ، اس شہزادے کے سر کی بے حرمتی کی گئی جسے رسول ص اپنے کندھوں پر سوار کرتے  تھےاپنے شہزادوں کو گھوڑ سواری  کرواتے تھے،  امام حسین علیہ السلام کی اس عظییم الشان قربانی کو  تاریخ نے محفوظ کیا ہے، آج پوری دنیا امام حسین  علیہ السلام کی بچوں کے ساتھ دین محمدی ص کے لیے دی گئی عظیم قربانی کو یاد کرتی ہے۔   بیشک     " قتل حسین  ...

Strait of Hormuz ابنائے ہرمز


Strait of Hormuz ابنائے ہرمز /

تحریر:                             بشارت موسوی

     ابنائے ہرمز،  

ابنائے ہرمز (Strait of Hormuz) – دنیا کی اہم ترین گزرگاہ

ابنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جو خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملاتی ہے  یہ تنگ مگر نہایت اہم راستہ عالمی تجارت، خاص طور پر تیل کی ترسیل میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔

 دنیا کے نقشے پر کچھ مقامات ایسے ہوتے ہیں جو بظاہر چھوٹے نظر آتے ہیں مگر ان کی اہمیت پوری دنیا کے نظام کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے آبنائے ہرمز بھی انہی میں سے ایک ہے  یہ ایک تنگ مگر نہایت اہم سمندری گزرگاہ ہے جو خلیج فارس کو خلیج عمان اور آگے بحرِ ہند سے ملاتی ہے  جغرافیائی لحاظ سے یہ راستہ ایران کے جنوبی ساحل اور عمان و متحدہ عرب امارات کے درمیان واقع ہے لیکن اس کی اصل اہمیت اس کے محل وقوع سے کہیں زیادہ ہے آج کے دور میں جب عالمی معیشت کا بڑا انحصار توانائی پر ہے آبنائے ہرمز ایک ایسی شہ رگ بن چکی ہے جس کے 

بغیر دنیا کی اقتصادی رفتار سست پڑ سکتی ہے۔

ہرمز کے معنی اور تاریخی اہمیت

لفظ "ہرمز" خود بھی ایک گہری تاریخی اور ثقافتی جڑ رکھتا ہے   یہ قدیم فارسی زبان سے ماخوذ ہے اور اس کا تعلق زرتشتی عقائد سے جوڑا جاتا ہے  جہاں اسے اہورا مزدا، یعنی روشنی اور سچائی کے خدا کے ساتھ منسوب کیا جاتا تھا  وقت کے ساتھ ساتھ یہ نام ساسانی دور کے حکمرانوں اور فوجی شخصیات کے لیے بھی استعمال ہوا جس سے اس کی سیاسی اہمیت میں اضافہ ہوا  اسی نام پر خلیج فارس میں ایک قدیم جزیرہ بھی موجود رہا جو ماضی 

میں تجارتی سرگرمیوں کا مرکز تھا اور بعد ازاں اسی نسبت سے اس تنگ سمندری راستے کو آبنائے ہرمز کہا جانے لگا۔

ابنائے ہرمز کی نمایاں خصوصیات 

آبنائے ہرمز کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کی اسٹریٹجک اہمیت ہے دنیا بھر میں پیدا ہونے والے خام تیل کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے روزانہ لاکھوں بیرل تیل اور قدرتی گیس اس گزرگاہ کے ذریعے ایشیا، یورپ اور دیگر خطوں تک پہنچتی ہے سعودی عرب، ایران، عراق، کویت اور متحدہ عرب امارات جیسے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک اپنی برآمدات کے لیے اسی ایک راستے پر انحصار کرتے ہیں  یہی وجہ ہے کہ اگر اس گزرگاہ میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ پیدا ہو جائے تو اس کا اثر فوری طور پر عالمی منڈیوں پر پڑتا ہے اور تیل کی قیمتیں بڑھنے لگتی ہیں۔ 

  سن 2026 میں یہ خطہ ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن چکا ہے  مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، خاص طور پر ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان تناؤ، نے اس علاقے کی حساسیت کو مزید بڑھا دیا ہے سیاسی بیانات، فوجی نقل و حرکت اور سفارتی دباؤ نے اس صورتحال کو نہایت پیچیدہ بنا دیا ہے  ایران، جو اس آبنائے کے شمالی کنارے پر واقع ہے، خود کو اس خطے کا اہم محافظ سمجھتا ہے اور اس نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی سمندری حدود کے دفاع میں کسی بھی حد تک جا سکتا ہے  دوسری طرف امریکہ نے بھی عالمی تجارت کے تحفظ کے نام پر اس خطے میں اپنی بحری


موجودگی بڑھا دی ہے  جس سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

اس صورتحال میں چین کا کردار بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے  چین دنیا کا ایک بڑا توانائی صارف ہے اور اس کی معیشت کا بڑا انحصار بیرونی تیل پر ہے جس کا ایک بڑا حصہ آبنائے ہرمز کے ذریعے آتا ہے  اسی لیے چین اس خطے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ کو اپنے مفادات کے خلاف سمجھتا ہے چین نے حالیہ بیانات میں اس بات پر زور دیا ہے کہ توانائی کی سپلائی کو ہر صورت برقرار رکھا جانا چاہیے اور کسی بھی قسم کی مداخلت یا رکاوٹ عالمی معیشت کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔

یورپی ممالک بھی اس صورتحال سے لاتعلق نہیں ہیں  اگرچہ ان کا براہ راست انحصار مشرق وسطیٰ کے تیل پر کچھ کم ہو چکا ہے، لیکن عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ کا اثر ان کی معیشت پر بھی پڑتا ہے  اسی لیے یورپ عمومی طور پر اس خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی حمایت کرتا ہے  یورپی قیادت کا مؤقف ہے کہ کسی بھی قسم کی جنگ یا تصادم نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

اگر ہم اس سوال پر غور کریں کہ آبنائے ہرمز بند ہونے کی صورت میں کیا ہو سکتا ہے  تو اس کا جواب خاصا تشویشناک ہے سب سے پہلا اثر تیل کی قیمتوں پر پڑے گا جو ممکنہ طور پر چند دنوں میں ہی کئی گنا بڑھ سکتی ہیں اس کے بعد عالمی معیشت میں سست روی ،صنعتی پیداوار میں کمی  اور توانائی کے بحران جیسے مسائل جنم لے سکتے ہیں ترقی پذیر ممالک جو پہلے ہی معاشی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔

ابنائے ہرمز ایران کا  اسٹریٹجک ہتھیار

ایران کے لیے آبنائے ہرمز صرف ایک جغرافیائی مقام نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک ہتھیار بھی ہے  جب بھی اس کے مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہوتے ہیں یہ گزرگاہ عالمی توجہ کا مرکز بن جاتی ہے  ایران اس بات سے بخوبی آگاہ ہے کہ اس راستے کی اہمیت اسے عالمی سیاست میں ایک مضبوط مقام فراہم کرتی ہے  اسی لیے وہ اس علاقے میں اپنی فوجی موجودگی کو مضبوط رکھتا ہے اور کسی بھی بیرونی دباؤ کا مقابلہ کرنے 

کے لیے تیار رہتا ہے۔


تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ آبنائے ہرمز کی سلامتی صرف ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک عالمی ذمہ داری ہے اس راستے سے گزرنے والی توانائی صرف چند ممالک تک محدود نہیں بلکہ پوری دنیا کی معیشت کو چلانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے یہی وجہ ہے کہ عالمی طاقتیں، چاہے وہ امریکہ ہو، چین ہو یا یورپی ممالک سب اس بات کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ راستہ کھلا اور محفوظ رہے۔

موجودہ حالات میں سب سے اہم ضرورت یہ ہے کہ کشیدگی کو کم کیا جائے اور سفارتی ذرائع کو ترجیح دی جائے  جنگ یا طاقت کے استعمال سے مسئلے حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں  دنیا پہلے ہی کئی معاشی اور ماحولیاتی چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے ایسے میں کسی بڑے تصادم کا خطرہ عالمی استحکام کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

نتیجہ حاصل کر سکتے ہیں

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ آبنائے ہرمز ایک ایسا مقام ہے جہاں جغرافیہ، تاریخ، سیاست اور معیشت سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں یہ صرف ایک سمندری راستہ نہیں بلکہ عالمی نظام کا ایک اہم ستون ہے  2026 کی موجودہ صورتحال نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ دنیا کے کچھ مقامات اپنی محدود جسامت کے باوجود غیر معمولی اثر رکھتے ہیں اگر اس خطے میں امن اور استحکام برقرار رکھا جائے تو یہ نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی خوشحالی کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔

  دعا ہے  عظیم اللہ دنیا کی بڑی معاشی طاقتوں کو توفیق دے کہ وہ خطے میں امن و امان اور غریب لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے دل و جان     کریں اور ترقی پذیر ممالک کی ترقی میں اپنا بھر پور کردار ادا کریں  جہاں غریب کی خوشی شامل ہو اور اللہ بھی راضی ہو۔سے کام 


آمین یا رب العالمین

Please , Comments, like and Share


Comments

Popular posts from this blog

سید محسن رضا کاظمی الحمیدی

تین بہن بھائیوں کی درد ناک داستان

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے لیے فرمایا