دورِ حاضر میں یزیدیوں کی پہچان | فلسطین، کربلا، عرب امارات اور پاکستانی محنت کشوں کی دردناک حقیقت
ایران کی اسرائیل اور امریکہ سے جنگ
تحریر: بشارت موسوی
ایران کی اسرائیل، امریکہ کے ساتھ ایسی جنگ ہے جو حق و باطل کی جنگ ہے اس جنگ میں اسرائیل کا ساتھ دینے کے لیے امریکہ سر فہرست رہا کیونکہ امریکہ نے ہر میدان میں اسرائیل کا بھر پور ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے اسرائیل کا ساتھ دینے کے لیے ہندوستان بھی پیچھے نہ رہا وہ خاموشی سے ڈبل گیم کرتے ہوئے اسرائیل کا حامی رہا اور دوسری جانب ایران کے ساتھ بھی تعلقات جوڑے رکھا جسکی بڑی وجہ چاہبار بندرگاہ جیسا بڑا منصوبہ شامل تھا بھارت ایک بت پرست چالاک ملک ہے جسکی زیادہ ابادی بت پرستی پر لگی ہوئی ہے جہاں اونچی زات اور نچلی زات کے ہندوؤں کا راج مانا جاتا ہے بھارت نے اسرائیل کے ساتھ مل کر خفیہ ڈپلومیسی کرتے ہوئے ایران کے ساتھ غداری کی جب ایران کے سیکورٹی اداروں نے تحقیقات کیں تو اسے سمجھ آئی بھارت ہی ہے جو اسرائیل کی پشت پناہی کر رہا ہے اور ایران کو نقصان پہنچا رہا ہے۔
ایران چونکہ شیعہ ملک ہے محمد و آل
محمد ص اور حیدر کرار کا خالصتاً ماننے والا بڑا شیعہ ملک ہے اور
شہادت کو ایک بڑا عظیم بلند رتبہ و مقام سمجھتا ہے یہی وجہ ہے اس نے اپنے بڑے بڑے لیڈروں کو کھو دیا ہے جن میں جنرل سلیمانی
اور 2025 میں نئے منتخب ہونےوالے صدر سید ابراھیم رئیسی شامل ہیں جنھیں شہادت جیسا عظیم مقام حاصل
ہوا۔
اسرائیل اور امریکہ نے ملکر ایران پر جنگ مسلط کر دی
لیکن ایران کے بہادر بزرگ عظیم لیڈر آیت اللہ العظمی سیدعلی خامنائی نے 86 سال عمر
ہونے کے باوجود ایرانی عوام کی صحیح معنوں میں نمائیندگی کرتے ہوئے اسرائیل و امریکہ
کو بھر پور جواب دیا اپنی بہادر فوج کی قیادت کی اور پیچھے نہ ہٹے ایک وقت آیا
دشمن نے کہا عارضی طور پر جنگ بند کرتے ہیں جنگ ضرور بند کی گئی لیکن
مکار و چالاک دشمن نے دھوکہ دیا خاموشی سے مزید جنگ کی پلاننگ کرتا رہا اور ایک
بڑا حملہ کر کے ایران کے بڑے لیڈر او ر رہبر 86 سالہ بزرگ شیعہ رہنما خامنہ کو شہید
کر دیا خامنہ نہ صرف ایران کے سپریم لیڈر تھے وہ دنیا جہاں کے بسنے والے شیعہ قوم
کے پسندیدہ لیڈر و جید عالم دین تھے جنکی شہادت دنیا میں بسنے والی شیعہ قوم کے لیے
ایک بڑا صدمہ تھا اور پوری دنیا میں بسنے والی شیعہ قوم کوبڑا دھچکا لگا اسکے جواب میں دنیا بھر کی شیعہ قوم نے جلسے جلسوں اور ریلیوں کے ذریعے
اقوام عالم کو بتایا کہ انکے ہردلعزیز لیڈر کو شہید کر کے انکے دلوں کو بہت زیادہ دکھی کیا گیا ہے۔
دشمن سمجھتا تھا وہ سپریم لیڈر کو
شہید کر کے ایران کو کمزور کر دیگا اسکی لیڈر شپ کو ختم کر دیگا کیونکہ سپریم لیڈر
کے ساتھ ساتھ کئی لیڈر شپ شہید ہو گئی تھی سپریم لیڈر کے خاندان کے لوگ بھی شہید
ہو گئے تھے لیکن ایرانی قوم اور ایرانی لیڈر شپ نے سپریم لیڈر کے شہید ہونے کے بعد
ایک بڑی بیٹھک سجھائی جہاں فیصلہ کیا گیا سپریم لیڈر کی جگہ نیا سپریم لیڈر منتخب
کیا جائے سب کے متفقہ فیصلے کے بعد شہید سپریم لیڈر آیت اللہ خامنائی کے صاحب زادے
سید مجتبیٰ خامنہ کو بھاری اکثریت سے ایران کا نیا سپریم لیڈر منتخب کرلیا گیا ایران
کے نئے سپریم لیڈر نے آتے ہی اعلان کیا کہ خون کا بدلہ خون ہو گا لہذا اسرائیل و
امریکہ پر زور دار حملے کیے جائیں گےشہید آیت اللہ خامنائی کے خون کا بدلہ لیا جائے گا ایران کی فوج پاسداران انقلاب نے سپریم لیڈر کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اسرائیل و
امریکہ کے اڈوں پر بھر پور حملے کیے اور جانی و مالی نقصان پہنچایا ساتھ ہی ایران
نے اپنے مسلمان ممالک یعنی خلیجی و گلف ممالک سے رابطہ کیا اور کہا ہم آپکے ملک پر
قائم امریکی اڈوں کو تباہ کر دینگے کیونکہ آپکے ملک سے امریکہ ایران پر حملہ کرتا
ہے لہذا آپ کسی صورت اپنی سر زمین ایران کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں لیکن ایران کی
بات نہ مانی گئی تو ایران نے نشاندھی ہونے پر سعودی عرب، قطر، کویت، بحرین اور
متحدہ عرب امارات میں قائم امریکی اڈوں کونشانہ بنایا اور اپنا حساب برابر کیا
اور دیگر عرب ممالک کو سمجھایا امریکیوں کی غلامی نہ کریں اور نہ ہی اپنی سر زمین
ایران کے خلاف استعمال ہونے دیں۔
ایران نے امریکہ کے عربوں میں قائم
تمام بڑے اڈوں کو نشانہ بنایا اور تاحال بنا رہا ہے کیونکہ عرب اسلامی ممالک کی سر
زمین سے ہی ایران کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جو ایک تشویشناک بات ہے کیونکہ قرآن
مجید فرقان حمید میں اللہ نے واضح طور پر ارشاد فرمایا ہے کہ یہود و نصارٰی کبھی
بھی مسلمان کے دوست نہیں بن سکتے اگر اللہ کے اس فرمان کی پیروی کریں تو صاف سمجھ
آتی ہے عرب ممالک یہود و نصارٰی کا ساتھ دیکر قرآن مجید کے احکامات کو ماننے سے انکاری ہیں اور اللہ کے مجرم بن رے ہیں۔
اب جبکہ ایران نے دنیا کے بزنس کو
آپنے کنٹرول میں لے لیا ہے جہاں آبنائے ہرمز ایران کا سرحدی علاقہ ہے جہاں سے دنیا
بھر کے بحری جہاز تجارت کی غرض سے گزرتے ہیں زیادہ تر تجارت تیل کی ہوتی ہے جو پوری
دنیا کی اولین ضرورت ہے اسے ایران نے اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے کیونکہ اگر ایران یہ
کام نہ کرتا تو تیل کے جہاز بآسانی گزر جاتے اور تیل دشمن تک پہنچتا جس سے ایران
کو نقصان پہنچ سکتا تھا ایران کے اس سمجھدارانہ اقدام سے دنیا کے ترقی یافتہ
ممالک نے امریکہ و اسرائیل کا ساتھ نہیں دیا انھوں نے فیصلہ کیا چونکہ یہ جنگ امریکہ
و اسرائیل کی ہے لہذا ہم امریکہ کا ساتھ نہیں دینگے بڑے یورپین ممالک نے امریکہ
سے اپنے راستے جدا کر لیےہیں۔
ایران نے واضح اعلان کیا جو مشکل
گھڑی میں ایران کے ساتھ کھڑا ہوا ہے اسے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت ہے جن میں
روس، چین اور پاکستان جیسے ممالک شامل ہیں باقی کسی کو گزرنے کی اجازت نہیں ہے۔
ادھر ایران نے جب امریکہ کی شہ رگ پر پاوں رکھا تو امریکہ نے تمام ممالک سے
آبنائے ہرمز کو اوپن کروانے کے لیے مختلف ممالک سے اپیل کی وہ امریکہ کا ساتھ دیں لیکن
کسی بھی ملک نے امریکہ کا ساتھ نہیں دیا
جسکی وجہ سے امریکہ کو بڑی شرمندگی اٹھانا پڑی امریکہ کو اپنے اتحادیوں کو کہنا
پڑا اپ ڈرپوک ہیں آپ نے میرا ساتھ نہیں دیا امریکہ نے اپنے بڑے اتحادی سعودی عرب
سے بھی کہا سعودی عرب نے بھی ساتھ دینے سے انکار کیا تو امریکی صدر سکتے میں چلے
گئے اور سعودی پرنس کو کھری کھری سنا دیں امریکی صدر کے اس بیان نے تمام اسلامی
ممالک کی آنکھیں کھول دیں جو سمجھتے تھے امریکہ انکی حفاظت کریگا انھیں آج پتہ چلا
امریکہ اپنی حفاظت نہیں کر سکا تو وہ ہماری کیا حفاظت کریگا۔
ایران ابھی تک اپنے سپریم لیڈر کے
خون کا بدلہ لے رہا ہے وہ اسرائیل کے شہر تل ابیب کو تقریباً تباہ کر چکا ہے اور
مزید تباہ کر رہا ہے اسرائیل کے تمام شہر ایران کے نشانے پر ہیں جہاں اسرائیل اپنی
دفاعی ٹیکنالوجی کے بارے میں پوری دنیا کو بتا رہا تھا کہ اسے کوئی نقصان نہیں
پہنچا سکتا اور نہ ہی اسرائیلی سرزمین پر کوئی اٹیک کر سکتا ہے لیکن ایران کی جدید
ٹیکنالوجی نے اسرائیل کے تمام دعووں کو روند کے رکھ دیا اسرائیل کے دفاعی نظام کو
تباہ کر دیا اسرائیلی فوج اور خفیہ ایجنسی کے سربراہان کو جہنم واصل کر دیا ہےایران
ابھی رکا نہیں مزید کاروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
امریکی صدر کا کہنا ہے اس نے اپنے
اہداف حاصل کر لیے ہیں وہ کسی بھی وقت جنگ سے بائر نکل سکتا ہے اور اپنی افواج کو
واپس بلا لیگالیکن ایران سمجھتا ہے یہ مکار و چالاک دشمن ہے جو پیٹھ پیچھے وار
کرتا ہے اسکی کسی بھی بات پر بھروسہ نہ کیا جائے اس لیے ایرانی لیڈر شپ نے اعلان
کیا ہے وہ خون کے آخری قطرے تک اسرائیل و امریکہ کے خلاف لڑیں گے کسی صورت پیچھے
نہیں ہٹیں گے دشمن کو ضرور سبق سکھائیں گے۔
دنیا بھر کے جید سنی و شیعہ عالم دین نے ایران
کی حمایت کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ہر صورت حق و سچ کا ساتھ دینگے اور ایران
کے ساتھ قدم ملا کر چلیں گے کیونکہ یہ جنگ اب شیعہ قوم کی نہیں ہے یہ جنگ اسلام
کی سر بلندی کی جنگ ہے۔
اللہ تعالیٰ کے حضور دعا ہے اللہ اس حق و باطل کی جنگ میں ایران اور عالم اسلام کو فتح و نصرت نصیب فرمائے اور باطل کو عبرت ناک شکست فاش سے دوچار کرے۔
Comments
Post a Comment
For More Information Please Comments.