دورِ حاضر میں یزیدیوں کی پہچان | فلسطین، کربلا، عرب امارات اور پاکستانی محنت کشوں کی دردناک حقیقت

Image
  دور حاضر میں یزیدیوں کی پہنچان   تحریر:   بشارت موسوی     امام حسینؑ اور اہلِ بیتؑ کی عظیم قربانی  یہ تحریر سانحۂ کربلا، امام حسینؑ کی عظیم قربانی، فلسطین پر جاری مظالم، عرب امارات میں پاکستانی محنت کشوں کے خلاف کارروائیوں اور موجودہ دور میں یزیدی سوچ کے مختلف پہلوؤں پر مبنی ہے۔ میں نے اسلامی تاریخ اور موجودہ عالمی حالات کو جوڑتے ہوئے اپنے خیالات پیش کیے ہیں۔ امام حسین علیہ السلام اور انکے خاندان کو یزید نے کربلا کے مقام پر شہید کیا  امام علیہ السلام کو شہید کرنے کے بعد مختلف جگہوں پر جشن منایا گیا امام علیہ السلام         کے سر مبارک  کو پامال کیا گیا ، اس شہزادے کے سر کی بے حرمتی کی گئی جسے رسول ص اپنے کندھوں پر سوار کرتے  تھےاپنے شہزادوں کو گھوڑ سواری  کرواتے تھے،  امام حسین علیہ السلام کی اس عظییم الشان قربانی کو  تاریخ نے محفوظ کیا ہے، آج پوری دنیا امام حسین  علیہ السلام کی بچوں کے ساتھ دین محمدی ص کے لیے دی گئی عظیم قربانی کو یاد کرتی ہے۔   بیشک     " قتل حسین  ...

Journey to Tariqabad Muzaffarabad Azad Kashmir / طارق آباد مظفر آباد آزاد کشمیر کے لیے سفر

 طارق آباد مظفر آباد آزاد  کشمیر کے لیے سفر

Journey to Tariqabad Muzaffarabad Azad Kashmir

تحریر: بشارت موسوی 

مورخہ 11 اگست 2021 بروز بدھ شام تقریبن ساڑھے چھ بجے فیض آباد سے ٹیوٹا ہائی ایس پر براستہ موٹر وے طارق آباد مظفر آباد آزاد کشمیر کے لیے سفر کا آغاز کیا، رات تقریبن ساڑھے گیارہ بجے منزل مقصود پر پہنچے۔

صبح سویرے بیداری کے بعد رشتہ داروں سے ملاقات ہوئی،بازار کی طرف نکلا دیکھا پہلی بار ضلع مظفر آباد میں کشمیر لیگ کرکٹ کا انعقاد ہوا راولا کوٹ ہاکس جسکی نمائندگی شائد خان آفریدی کر رے تھے ٹورنامنٹ جیت گئی، اس پورے ٹورنامنٹ میں ملک کے نامی گرامی کرکٹرز نے بھر پور شرکت کی اور ٹورنامنٹ کو کامیاب کروانے میں اپنا بھر پور کردار ادا کیا، کامیاب کرکٹ لیگ کا انعقاد کشمیر کے لیے خوش آئند ہے اور دنیا بھر کو کشمیر جیسے متنازع علاقے کا علم ہو گا اور پوری دینا کو ایک خوبصورت پیغام دیا گیا آزاد کشمیر میں امن و امان ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت نے کشمیریوں پر مظالم ڈھائے ہوے ہیں اور وادی میں کرفیو لگایا ہوا ہے جہاں پر کشمیریوں پر ظلم و ستم جاری ہے۔

  مزید بازار کی طرف نظر دوڑائی اور دیکھا جہاں چند روز قبل کشمیر میں الیکشن ہوے تھے جگہ،  جگہ پر مخلتف پارٹیوں کے رہنماوں کے پوسٹر دیواروں پر آویزاں تھے، محسوس ہو رہا تھا کشمیر  کے باسیوں نے الیکشن میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے اور من پسند رہنماوں کو ووٹ دیکر کامیاب کروایا ہے۔

الیکشن پراسس کے بعد پہلی مرتبہ تحریک انصاف نے آزاد کشمیر میں ہونے والے انتخاب میں کامیابی حاصل کی ہےاور حکومت بنا لی ہے، آزاد کشمیر میں کشمیری ہمیشہ اس جماعت کو ووٹ دیتے ہیں، جو جماعت وفاق میں برسر اقتدار ہوتی ہے، کیوں کہ کشمیری سمجھتے ہیں وہی جماعت انکی بہتر خدمت کر سکتی جو وفاق میں اقتدار سنبھالے ہوے ہو گی۔

پہلی دفعہ ازاد کشمیر میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے آزاد کشمیر الیکشن کو متنازع بنایا اور دھاندلی کا رونا رویا جو کہ غلط رویہ تھا کشمیر میں زیادہ تر لوگ پڑھے لکھے ہیں،  کشمیری ہمیشہ کیلکولیشن کے بعد ووٹ کا حق استعمال کرتے ہیں اور اپنے من پسند نمائندگان کو ووٹ دیکر کامیاب کرواتے ہیں۔

سن 2015 میں مسلم لیگ ن نے آزاد کشمیر میں پہلی بار حکومت بنائی اور پہلی بار ضلع مظفر آباد آزاد کشمیر سے راجہ فاروق حیدر ن لیگ کی طرف سے وزیرآعظم منتخب ہوے، وفاق میں ن لیگ کی حکومت تھی تو کشمیریوں نے ن لیگ کو ہی ووٹ دیا اور منتخب کیا۔

ن لیگ کی طرف سے بطور وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر نے 5 سال مکمل کیے لیکن کشمیریوں کی ترقی کے لیے  کوئی کام نہ کر سکے بلکہ ایسے لگا جیسے کام کرنے کے بجائے وہ کشمیریوں کو ڈانٹنا بہتر سمجھتے ہیں، کشمیریوں کے مسائل جوں کے توں رے اور راجہ فاروق حیدر کشمیریوں کو ڈانٹتے ہوے 5 سال مکمل کر گئے۔

سن 2021 میں بھی راجہ فاروق حیدر خیال کرتے رے کہ وہ دوبارہ حکومت بنائیں گے لیکن کشمیریوں نے ایسا نہ کیا کیوں کہ کشمیریوں نے سمجھا راجہ فاروق حیدر انکے کسی کام کے نہیں ہیں،  اس لیے انھوں نے اپنا ووٹ انکی پارٹی کو نہ دیا،  جبکہ فاروق حیدر نے 2 حلقوں سے الیکشن لڑا جس میں سے صرف ایک حلقہ برادری کی بنیاد پر جیت پائے جبکہ دوسرے حلقے سے شکست کھا گئے۔

تاریخ بدل سکتی تھی ن لیگ دوبارہ منتخب ہو سکتی تھی لیکن ن لیگ نے خوبصورت وادی کے لیے کوئی کام نہ کیا راجہ فاروق حیدر اپنے ہی حلقے کے لوگوں کے لیے کچھ نہ کر پائے لوگوں نے شکایات کے انبار لگا دیئے۔

کشمیر ایک سر سبز و پہاڑی علاقہ ہے، زیادہ ترعلاقہ بھارت کی بلا جواز گولہ باری کا شکار رہتا ہے، لائن آف کنٹرول پر بسنے والے لوگوں کے چھوٹے چھوٹے مسائل ہوتے ہیں، کسی کو سڑک چاہیے، کسی کو پینے کے صاف پانی کا مسلہ ہے، کسی کو سکول و کالج کا مسلہ ہے، کسی کو ٹرانسپورٹ کا مسلہ ہے اور کسی کو ہسپتال کا مسلہ ہے، ن لیگ نے 5 سال تو پورے کیے لیکن کشمیریوں کے چھوٹے چھوٹے مسائل حل کرنے میں بری طرح ناکام رے، حالانکہ ن لیگ کا کام ہی سڑکیں بنانا ہے لیکن یہ جماعت کشمیر میں کچھ بھی نہ کر سکی، زیادہ تر نوجوان ڈگریاں اٹھائے پھرتے رے اور انھیں نوکریاں تک نہ مل سکیں جو نوجوانوں کے ساتھ ایک بڑا ظلم تھا۔

راجہ فاروق حیدر نے 5 سال سونے کے سوا کچھ نہ کیا جس تقریب میں بھی گئے،  وہاں سوتے ہوئے پائے گئے، اسی طرح موصوف کے نکھٹو وزراء پیسے بنانے اور بائر ممالک کی سیر و تفریح کا مزہ لیتے رے۔

مظفر آباد شہر کو دیکھ کر انتہائی دکھ ہوا خوبصورت شہر کھنڈرات سے بھی بدتر ہے ٹوٹی پھوٹی سڑکیں اور لوگوں کے چھوٹے چھوٹے مسائل جوں کے توں نظر آئے۔

نیلم و جہلم پروجیکٹ کشمیر میں بن چکا لیکن کشمیر میں بسنے والے لوگوں کو 6 گھنٹے لوڈ شیڈنگ کا سامنا ہے،دوران قیام دیکھا گیا ہے، ہر 3 گھنٹے بعد لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے۔

سب سے زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ سرکاری  ہسپتال میں بہت ہی اہم شعبوں میں بھی بجلی کی مسلسل لوڈ شیڈنگ جاری ہے۔

مجھے بھی آزاد کشمیر کے سرکاری ہسپتال میں جانے کا اتفاق ہوا جوکہ مظفر آباد سے چند کلو میٹر دور امبور کے مقام پر واقع ہے، مجھے ایک مریض کے ساتھ گردوں کے ڈئلیسز کے سلسلہ میں جانا پڑا، دوران ڈئلیسز رات 9 بجکر 18 منٹ پر بجلی منقطہ ہوئی اور 10 بجکر 33 منٹ پر دوبارہ بحال ہوئی یہ ایک لمحہ فکریہ ہے، نیلم جہلم پروجیکٹ کے باوجود کشمیری بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا شکار ہیں، حالانکہ ایسا ہونا نہیں چاہیے تھا، کشمیر کے اندر بجلی کا استعمال بہت کم ہے لیکن اسکے باوجود بھی لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ بتدریج جاری و ساری ہے۔

ضلع مظفر آباد کے ایک علاقے طارق آباد اور دیگر علاقوں میں ہر 3 گھنٹے بعد لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے،  جبکہ مظفرآباد شہر میں بغیر کسی تعطل بجلی کی فراہمی جاری ہے، یہ کہنا درست ہو گا بانسبت مظفر آباد شہر کے دوسرے علاقوں میں غریب و غربا اور محنت کش لوگ رہایش پذیر ہیں، ان لوگوں کا ذریعہ معاش نہ ہونے کے برابر ہے لوگ محنت مزدوری یا نوکری کے لیے مظفر آباد شہر کا رخ کرتے ہیں، لیکن انھیں روزانہ کی بنیاد پر دیگر مسائل کا سامنا ہے۔

طارق آباد مظفر آباد کا ایسا علاقہ ہے جب  2005 میں زلزلہ آیا تو اس علاقے کو ریڈ زون میں شمار کیا گیا تھا، طارق آباد میں گرلز ہائی سکول قائم ہے اور سکول کے ساتھ ہی ایک بڑا سیوریج کا نالہ گزرتا ہے، یہ نالہ سکول کی بچیوں اور دیگر رہائش پذیر لوگوں کے لیے وبال جان بنا ہوا ہے، یہ نالہ طارق آباد مین سڑک کے اوپر والے علاقے سے آتا ہے اور بارش کے دوران شدید طغیانی کی شکل اختیار کر لیتا ہے، اس کا گندہ پانی لوگوں کے گھروں میں داخل ہو جاتا ہے اور لوگوں کے قیمتی سامان کو تباہ و برباد کر دیتا ہے۔

شدید بارش کے دوران رہائشی بازار تک نہیں جا سکتے اور بچیاں سکول نہیں پہنچ پاتیں، گھر میں بیماری و سستی کے دوران بھی بائر نکلنا محال ہو جاتا ہے، رہائشی اس نالے کی وجہ سے پریشانی میں مبتلا ہیں، نالے کی شدت کئی چھوٹے بچوں کو اپنے ساتھ بہا کر نہ لے جائے۔ 

کشمیر میں پہلی بار بننے والی تحریک انصاف کی حکومت کو چاہیے کہ وہ اس علاقے کی طرف خصوصی توجہ دے اور نالے کو کشادہ کرے،  اور اس خوفناک نالے کا بہترین  بندوبست کرے تاکہ رہائشی بلا خوف خطر معمول کی زندگی کو گزار سکیں۔

آزاد کشمیر اور دیگر پسماندہ  علاقوں میں زیادہ ترقیاتی کام پاک فوج اور مسلم کانفرنس نے کیے ہیں، شہر سے دور دراز کئی علاقوں میں بجلی پانی اور سڑکیں بنائی گئی ہیں۔

آزاد کشمیر میں مسلم کانفرنس کے علاوہ پیپلز پارٹی بھی کئی مرتبہ بر سر اقتدار رہی ہے لیکن اس جماعت نے کشمیریوں کےلیے کوئی کام نہیں کیا بس اقتدار کے مزے لیتے رے اور وقت گزارتے رے۔

سن 2015 تا 2021 تک  مسلم لیگ ن حکومت کرنے میں کامیاب رہی اور 5 سال حکومت کے مزے لیے کھایا پیا اور چلتے بنے۔

سن 2021 میں تحریک انصاف حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئی ہے،اب دیکھنا ہو گا "کیا باقی جماعتوں کی طرح تحریک انصاف بھی اقتدار کے مزے لیتی ہے یا عوام کے لیے اور کشمیر کی آزادی کی جنگ لڑتی ہے" یہ ساری چیزیں وقت کے ساتھ پتہ چلیں گی۔

آزاد کشمیر کے لیے بہتر کام کیا جا سکتا ہے، کیونکہ وادی نیلم اور وادی جہلم کے پاس سیرو تفریح کے لیے بے شمار خوبصورت علاقے ہیں جہاں خوبصورت ابشاریں،  صاف ستھرے چشمے، شور کرتے ندی نالے اور خوبصورت دریائے جہلم اور نیلم جو کشمیر کی خوبصورتی کو چار چاند لگاتے ہیں، کشمیر کے اندر خوبصورت سر سبز پہاڑیاں ہیں جو بہترین منظر پیش کرتی ہیں، اگر کشمیر میں حکومت ان سیاحتی مقامات پر توجہ دے تو سیاحت کے شعبے کو ترقی دی جا سکتی ہے،ایسا کرنے پر بے روزگار نوجوان نسل کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آ سکتے ہیں۔

اگر حکومت سنجیدگی سے کام کرے تو کشمیریوں کو بے پناہ ترقی کے مواقع مل سکتے ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان نے اقتدار سنبھالتے ہی بھارت کو کہا تھا کشمیر جیسے حل طلب مسئلے کو مل بیٹھ کر حل کر لیاجائے، لیکن بھارت نے مسلے کو حل کرنے کے بجائے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو لگا کر مظلوم کشمیریوں کو محصور کر دیا، لیکن وزیر اعظم عمران خان نے ہمت نہ ہاری، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے پوری دنیا کو بھارت کے کشمیریوں پر مظالم سے آگاہ کیا اور اسکے مکرو چہرے کو پوری دنیا کے سامنے پیش کیا۔ 

آزاد کشمیر میں بننے والی نئی حکومت تحریک انصاف کی ہے اور یہ حکومت عمران خان کی قیادت میں کشمیر کا مقدمہ بہتر انداز میں لڑ سکے گی، وزیر اعظم عمران خان خود کہہ چکے ہیں کہ وہ کشمیر کے سفیر کے طور پر کام کریں گئے اور  کشمیر پر ہونے والے بھارتی مظالم سے پوری دنیا کو آگاہ کریں گے، کشمیری پر امید ہیں عمران خان کشمیر کا مقدمہ بہتر انداز میں لڑیں گے اور کشمیر کو آزاد کروانے میں اپنا بھر پور کردار ادا کریں گے۔  انشاءاللہ

Journey to Tariqabad Muzaffarabad Azad Kashmir

Please, Like / Comments / Share

Comments

Popular posts from this blog

سید محسن رضا کاظمی الحمیدی

تین بہن بھائیوں کی درد ناک داستان

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے لیے فرمایا