دورِ حاضر میں یزیدیوں کی پہچان | فلسطین، کربلا، عرب امارات اور پاکستانی محنت کشوں کی دردناک حقیقت
انیسویں 1900ء صدی اور موجودہ دور میں نمایاں فرق
Significant Difference Between The 19th Century and the Present
تحریر: بشارت موسوی
www.lesson4everyone.com
موجودہ دور کا اگر انیسویں 1900 صدی کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے، پرانا دور موجودہ دور سے بہت زیادہ بہتر تھا، اس دور میں لوگ سادہ زندگی گزارتے تھے، سوشل میڈیا اور جدید موبائیل جیسے جھنجٹ سے بلکل آزاد6اور پرسکون زندگی گزار رے تھے، سوشل میڈیا کا دور دور تک نام و نشان نہیں تھا۔
اس وقت لوگ اخبارات کا سہارا لیتے تھے، لوگوں میں اخبارات، کتب رسالہ و کہانیاں پڑھنے کا بہت زیادہ رجحان پایا جاتا تھا۔
لوگوں کو محدود وسائل میسر تھے، کئی جگہوں پر اخبارات و خط کتابت کا سلسلہ تو تھا، لیکن کئی مقامات پر بمشکل پیغام رسانی کے ذرائع میسر تھے، لوگوں کو پیغام بھیجنے میں بہت زیادہ مشکلات تھیں، کیونکہ اس وقت ذراع آمد رفت نہ ہونے کے برابر تھے، لوگ دور دراز کے علاقوں میں پیدل سفر کیا کرتے تھے، کٹھن اور دشوار گزار راستوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔
اس دور میں صرف ایک سرکاری ٹی۔وی چینل موجود تھا جو صرف شہروں کے لوگوں کو میسر تھا بقایا لوگ سرکاری ریڈیو اسٹیشن کے ذریعے خبریں اور دیگر معلومات سنتے تھے، ریڈیو کے ذریعے لوگ نامور اداکاروں کی اواز میں ڈرامہ سنتے اور مشہور فنکاروں کے گائے قومی و تفریح بھرے نغمے بھی بہت شوق سے سنا کرتے تھے۔
اس دور کے لوگوں میں ایک دوسرے کے ساتھ بہت زیادہ ہمدردیاں اور پیار و محبت کا رشتہ تھا، لوگ ایکدوسرے کا احساس کیا کرتے تھے، اگر خاندان میں کوئی رشتہ دار یا دوست احباب غریب ہوتا تو سب فکر مند ہو جایا کرتے تھے اور مدد کو دوڑتے تھے، اس وقت لوگ کھیتی باڑی پر زیادہ توجہ دیتے تھے دیسی اور ہاتھ سے تیار کی گئی چیزوں کو اپناتے تھے جن میں کھانے پینے کی اشیاء دیسی گھی، لسی، دیسی ساگ،دیسی مرچ،ہلدی،ٹماٹر، مختلف سبزیاں پھل، ٹھوس نمک، چشموں کا صاف شفاف ستھرا پانی، تندور کی آگ کی پکی ہوئی روٹی جو انتہائی لذیذ اور عمدہ ہوتی تھی۔
اس وقت لوگوں میں بیماریوں کا تناسب انتہائی کم تھا بلکہ نہ ہونے کے برابر تھا، لوگ دیسی غذا کے استعمال کی وجہ سے زیادہ عمریں پاتے تھے اور صحت مند رہتے تھے، بہت کم بیمار ہوتے تھے، دیسی غزاوں کا بڑا فائدہ لوگوں کا حافظہ کمال کا ہوتا تھا۔
دیہاتوں اور گلی محلے میں کھیل کود کے مقابلے ہوا کرتے تھے جن میں کبڈی، پنجہ آزمائی، بھاری پتھر کو اٹھانا، بیت بازی کا مقابلہ کرنا، مویشیوں کے مقابلے کروانا، شادی بیاہ پر بہترین علاقائی رقص و کھیل پیش کرنا، شادی بیاہ کے موقع پر پورے علاقے کے و گاوں کے لوگوں کو مدھو کرنا اور خاص کر شادی بیاہ پر ایک دوسرے کی مدد کرنا، لوگوں کی اپس میں ہمدردیاں اس قدر ہوا کرتی تھیں، اگر کوئی زیادہ مویشی رکھتا تھا، تو وہ دودھ دہی کا بندوبست کرتا اور شادی والے گھر میں ولیمہ سے قبل بھیج دیتا، کیونکہ اس وقت لوگ دیسی دودھ دہی کا بہت زیادہ استعمال کرتے تھے۔
شادی کے موقع پر جب لوگوں کو کھانا کھلایا جاتا 4، 4 بندے ایک ہی تھالی میں اکٹھے کھانا کھاتے، ایک شخص کی ڈیوٹی ہوتی وہ سالن لیکر پھرتا اور ایک شخص چاول و روٹی تقسیم کرتا، کچھ لوگ پانی کی بالٹی اٹھائے پھرتے، تاکہ جسے پانی کی ضرورت ہو اسے پانی پہنچایا جائے۔
کھانا کھانے کے بعد لوگ اپنی استطاعت کے مطابق کچھ پیسے رجسٹر کرواتے، کیونکہ اس وقت گاوں کا رواج تھا، جو بھی شادی والے گھر جاتا وہ دلہا کے والد کو پیسے دیتا تھا، پیسے اکٹھے کرنے کے لیے وہاں پر ایک دو بندوں کی ڈیوٹی لگ جاتی تھی، جو پیسے اکٹھے کرتے اور ایک کاپی میں رجسٹر کرتے جاتے، یہ بھائی چارے کا بہترین نظام تھا، لوگوں کے ایسا کرنے سے شادی والے خاندان کی کچھ مالی مدد ہو جاتی تھی اور اسکے شادی کے اخراجات میں کچھ مدد ملتی تھی، لوگوں کا اسطرح سے ایکدوسرے کے ساتھ تعاون کرنا پیار و محبت کی بنیاد کو مضبوط کرنا ہوتا تھا۔
شادی کے بارے میں بتانے کے لیے ایک دو بندوں کی ڈیوٹی لگ جاتی، جو پورے گاوں اور دیگر جگہوں پر جا کر شادی کی تاریخ سے لوگوں کو آگاہ کرتے تھے اور تاریخ کا بتاتے تھے۔
شادی کے لیے چند نوجوانوں کو کہا جاتا آپ شہر سے شادی کا سامان لیکر آئیں اور کچھ کو کہا جاتا آپ کھانا پکانے کے لیے جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر لائیں، ہر کوئی ان احکامات پر عمل کرتا اور دیا گیا کام بر وقت انجام دیتا۔
پیار و محبت کی ایک بڑی مثال اس وقت دیکھنے کو ملتی، جب علاقے میں کوئی جھگڑا وغیرہ ہو جاتا تو علاقے کی بڑی اور بزرگ شخصیات کو جرگوں میں مدھو کیا جاتا اور وہ بزرگ شخصیات دونوں فریقین کی باتیں بغور سنتے اور اپنا فیصلہ سنا دیتے جو دونوں فریقین کے لیے قابل قبول ہوتا تھا، اور ایک صلح کی فضا قائم ہو جاتی۔
یہ وہ دور تھا جب پیار و محبت کا سلسلہ تھا ایکدوسرے کے ساتھ بے پناہ محبتیں تھیں، ایک دوسرے کے درد کو سمجھا جاتا تھا، رشتوں میں قربت تھی، رشتے نبھائے جاتے تھے، رشتوں کی دوریاں مٹائی جاتی تھیں، کاش وہ دور واپس آ جائے لیکن اب ایسا ممکن نہیں ہے۔
اگر موجودہ دور کو دیکھا جائے، وہ پچاس 50 سال والی پیار و محبت والی زندگی کئی بھی نظر نہیں آتی، اسکا کوئی نام و نشان تک نہیں ہے، لوگ بے حرص اور خود غرض نظر آتے ہیں، ایک دوسرے سے نفرت کرتے نظر آتے ہیں، اپنی رسومات میں بس گنے چنے لوگوں و رشتہ داروں کو بلانا پسند کرتے ہیں، اگر کسی نے دلہا کو تھوڑے پیسے دیئے تو پورے خاندان میں مشہوری کر دی جاتی ہے فلاں، فلاں نے کچھ نہیں دیا، بہت ہی کنجوس ہے ہمارا بہترین کھانا کھا کر گیا ہے لیکن ہمارے بچے کو کچھ نہیں دیا ہے، بہت تھوڑے پیسے دیئے ہیں۔
موجودہ دور میں سوشل میڈیا کی بھر مار ہے، لوگ سوشل میڈیا میں کھوئے ہوئے ہیں، کتب پڑھنا چھوڑ دی ہیں، کھیل کود کو چھوڑ دیا ہے، باقی جسمانی و ذہنی کھیل چھوڑ کر بے حیاء اور گندی گیمز کی طرف راغب ہو گئے ہیں، جو نسلوں کی تبائی کا سبب ہیں، سوشل میڈیا کے ذریعے پرائیوٹ ٹی۔وی چینلز پر مختلف ڈرامے دکھائے جا رے ہیں، جو رشتوں کو خراب کرنے کا باعث ہیں، جن میں مغربی و غیر مذہب تہذیب کو معاشرے میں دکھایا جا رہا ہے، اس غیر اخلاقی تہذیب کے باعث رشتوں میں دراڑیں پڑتی دکھائی دے رہی ہیں، جو کسی بھی معاشرے کی تبائی کی نشاندہی کرتی ہیں۔
موجودہ دور میں ہر کوئی اپنے آپ کو سمجھدار اور اعلی سمجھتا ہے، دوسروں کی نصحیتیں سننے سے کتراتا یے، اگر کوئی بزرگ شخصیت کوئی عقل کی بات بتائے تو انھیں برا سمجھا جاتا ہے ساتھ ہی کہا جاتا ہے، یہ بزرگ پرانے دور کی باتیں کرتے ہیں، کہاں پرانا دور اور کہاں یہ نیاء ٹیکنالوجی کا جدید دور۔
بزرگ شخصیات کی اور والدین کی نصحیتیں نہ سننے سے ایک کہانی یاد آ گئی، جو آپ کے ساتھ شئیر کرنا مناسب سمجھتا ہوں۔
ایک بادشاہ نے دربار لگایا، وزیروں اور مشیروں کو حکم دیا ہر کوئی لوگوں کے درمیان جائے اور انھیں میرا پیغام پہنچائے کہ ہر کوئی اپنے بوڑھے والدین کا قتل کرکے میرے دربار میں حاضر ہو جائے، جب لوگوں نے بادشاہ سلامت کی یہ بات سنی تو انھوں نے حکم کی تعمیل کی والدین کو قتل کرنے کے بعد بادشاہ کے دربار میں پیش ہو گئے، بادشاہ نے دربار میں کھڑے سبھی لوگوں کو مختلف نوعیت کے کام سپرد کیے، بادشاہ نے دربار میں کھڑے ایک گھبرائے ہوئے شخص کو دیکھا اور اسے بادشاہ نے کہا آپکوایک کام دے رہا ہوں، مجھے ایک عدد "ریت کا رسہ بنا کر لا دیں" آپکے پاس پانچ دن کا وقت ہے اور پانچویں دن مجھے رسہ دربار میں پیش کیا جائے، وہ شخص بادشاہ کی بات سنتے ہی اپنے گھر پہنچ گیا،یہ واحد شخص تھا جس نے بادشاہ کے حکم کو نہیں مانا تھا، اپنے بوڑھے والدین کو قتل کرنے کے بجائے گھر کے اندر چھپا دیا تھا۔
جب یہ شخص والد کے سامنے گیا تو پریشان دکھائی دیا، والد نے سبب پوچھا تو بادشاہ کا فرمان بتایا کہ ریت کا رسہ تیار کرنا ہے، والد نے کہا تم کام پر جاو میں رسہ خود تیار کر لونگا، وہ شخص خوش ہوا اور کام پر چلا گیا، جب شام کو واپس آیا تو والد سے پوچھا رسہ تیار ہوا؟
والد نے بتایا کل دن کو بنا دونگا ابھی وقت ہے، اسی طرح دوسرا دن بھی گزر گیا، تیسرے دن بھی والد نے بیٹے کو ٹال دیا، چوتھے دن جب بیٹا کام سے شام کو گھر واپس آیا تو باپ سے سوال کیا رسہ تیار ہوا؟ "تو باپ نے خوبصورت جواب دیا اور کہا کل بادشاہ کے دربار میں جانا اسے کہنا کہ میں تو رسہ بنا رہا تھا لیکن سمجھ نہیں آ رہا تھا کس ڈیزائن کا رسہ بناوں، بادشاہ سلامت اگر آپکے پاس کوئی پرانے ڈیزائن والا رسہ ہو تو مجھے عنایت فرمائیں تاکہ میں اسے دیکھتے ہوے آپکے لیے بہترین رسہ بناوں"
بادشاہ نے اس شخص کی یہ بات سنی بہت ہی حیران ہوا، اور اٹھ کھڑا ہوا کہا کہ تم اتنی سمجھدار بات کیسے کر سکتے ہو کیونکہ تم لوگ تو جائل و جلاد ہو میرے غلط فیصلے پر آپ سب نے اپنے بوڑھے والدین کا قتل کر دیاہے، سوچا تک نہیں کہ وہ آپکے والدین ہیں، جنھوں نے آپ سب کو پال کر بڑا کیا آپکے اوپر شفقت کا ہاتھ رکھا۔
آپ سب لوگوں کو میرے حکم کے خلاف جانا چاہیے تھا، بلکہ میری حکومت کے خلاف بغاوت کرنی چاہیے تھی، کسی صورت میرے حکم کو نہیں ماننا چاہیے تھا، یقینن تم سمجھدار نہیں ہو سکتے، یہاں پر یہ سمجھداری کی بات تمھیں ضرور کسی اور نے بتائی ہو گی، مجھے بتایا جائے تم نے اپنے والدین کا قتل کیا تھا یا نہیں؟ وہ شخص بہت پریشان ہوا، اس نے گھبراتے ہوے سچ بول دیا کہا بادشاہ سلامت میں نے اپنے والد کا قتل نہیں کیا بلکہ میں نے انھیں گھر میں چھپا دیا تھا، اس لیے جب آپ نے مجھے رسہ بنانے کا حکم دیا تو میں بہت پریشان ہو گیا تھا، میرے والد نے میری پریشانی کا سبب پوچھا تو میں نے آپکا حکم بتایا تھا، اسکے بعد میرے والد نے مجھے سہارا دیا اور کہا کہ رسہ میں بنا دونگا اور چوتھے دن کی رات کو میرے والد نے آپ کے لیےکہا میں آپ سے ریت کے رسے کا ڈیزائن و سائز معلوم کروں تاکہ بہتر رسہ بنایا جائے۔
بادشاہ اس شخص کی اپنے باپ سے وفاداری پر بہت خوش ہوا،بادشاہ نے حکم دیا اس شخص کو انعامات و تحفے دیئے جائیں۔
بادشاہ نے درباریوں کو مخاطب کرتے ہوے کہا، جو لوگ اپنے بوڑھے والدین کی قدر و عزت کرتے ہیں وہ ہمیشہ ہر جگہ پر کامیاب و سرخرو رہتے ہیں۔
اس ساری کہانی سے یہی نتیجہ نکلتا ہے، جو لوگ اپنے والدین کی قدر وعزت کرتے ہیں وہ اپنی جانوں کو خطرے میں تو ڈال سکتے ہیں لیکن والدین کی عزت و عظمت کی خاطر اپنے سروں کو جھکا لیتے ہیں، اور موت کو گلے لگا لیتے ہیں، کیونکہ سب سے زیادہ مخلص و پیار بھرا اور خالص رشتہ صرف اور صرف والدین کا ہوتا ہے۔
اللہ کے حضور دعا ہے، اللہ سب کے والدین کو سلامت رکھے، انھیں صحت و تندرستی عطاء فرمائے اور جنکے والدین اس دنیا میں نہیں ہیں اللہ انکی مغفرت فرمائے۔
آمین یا رب العالمین
Significant Difference Between the 19th Century & Present
Please, Like / Comments / Share
Comments
Post a Comment
For More Information Please Comments.