دورِ حاضر میں یزیدیوں کی پہچان | فلسطین، کربلا، عرب امارات اور پاکستانی محنت کشوں کی دردناک حقیقت

Image
  دور حاضر میں یزیدیوں کی پہنچان   تحریر:   بشارت موسوی     امام حسینؑ اور اہلِ بیتؑ کی عظیم قربانی  یہ تحریر سانحۂ کربلا، امام حسینؑ کی عظیم قربانی، فلسطین پر جاری مظالم، عرب امارات میں پاکستانی محنت کشوں کے خلاف کارروائیوں اور موجودہ دور میں یزیدی سوچ کے مختلف پہلوؤں پر مبنی ہے۔ میں نے اسلامی تاریخ اور موجودہ عالمی حالات کو جوڑتے ہوئے اپنے خیالات پیش کیے ہیں۔ امام حسین علیہ السلام اور انکے خاندان کو یزید نے کربلا کے مقام پر شہید کیا  امام علیہ السلام کو شہید کرنے کے بعد مختلف جگہوں پر جشن منایا گیا امام علیہ السلام         کے سر مبارک  کو پامال کیا گیا ، اس شہزادے کے سر کی بے حرمتی کی گئی جسے رسول ص اپنے کندھوں پر سوار کرتے  تھےاپنے شہزادوں کو گھوڑ سواری  کرواتے تھے،  امام حسین علیہ السلام کی اس عظییم الشان قربانی کو  تاریخ نے محفوظ کیا ہے، آج پوری دنیا امام حسین  علیہ السلام کی بچوں کے ساتھ دین محمدی ص کے لیے دی گئی عظیم قربانی کو یاد کرتی ہے۔   بیشک     " قتل حسین  ...

Muftis who squandered Rs.600 billion of poor people in Madaraba Scandal Case have so far fled the Country / مضاربہ اسکینڈل کیس میں غریب عوام کے 600 ارب روپے ہڑپ کرنے والے مفتی تا حال ملک سے فرار ہیں

 مضاربہ اسکینڈل کیس میں غریب عوام کے 600 ارب روپے ہڑپ کرنے والے مفتی تا حال ملک سے فرار ہیں

Muftis who squandered Rs.600 billion of poor people in Madaraba Scandal Case have so far fled the Country

تحریر: بشارت موسوی 

مضاربہ اسکینڈل کیس میں 50 مفتیوں نے 200 علما کی مدد سے عوام کی جمع پونجی کے ساتھ بہت بڑا بلنڈر کیا ہے اور ملک سے فرار ہو گئے ہیں، 9 سال گزرنے کے بعد بھی ادارے عوام کے پیسے واپس کروانے میں ناکام نظر آتےہیں، ملزمان بیرون ملک فرار ہیں، جن مفتیان کو پکڑا گیا تھا ان سے تاحال پیسے وصول نہیں کیے جا سکے،  بلکہ انھیں عدالتوں کی طرف سے ضمانتیں مل چکی ہیں اور وہ آزاد گھوم پھر رے ہیں لیکن عوام اپنی جمع پونجی کے حصول کے لیے نیب اور مختلف اداروں کے چکر لگا رے ہیں۔

مضاربہ / مشارکہ سود سے پاک شرعی کاروبار کے نام کو استعمال کرتے ہوے غیر رجسٹرڈ شدہ "الیگزر  گروپ آف کمپنیز"کے پچاس 50 سے زائد  مفتیوں نے200 علما کے ساتھ ملی بھگت کر کے پاکستانی عوام کے 600 ارب روپے کوہضم کر گئے ہیں،  9 سال گزر جانے کے باوجود نیب اور دیگر تحقیقاتی اداروں  نے تا حال کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کی۔

چند ملزمان کو پکڑا گیا،  لیکن ان سے پیسے برآمد نہ ہو سکے بلکہ انھیں ضمانتوں پر رہائی مل گئی، اور وہ آزاد گھوم پھر رے ہیں لیکن عوام اپنے پیسوں کے اصول کے لیے نیب کے دفاتر کے دھکے کھا رے ہیں۔

ایسے لگتا ہے مضاربہ اسکینڈل کیس میں ملوث تمام افراد کو بااثر شخصیات کی سرپرستی و تحفظ حاصل ہے۔

پاکستان میں مضاربہ کے نام پر بہت بڑا فراڈ ہوا ہے، لیکن اداروں کی بے بسی اور خاموشی متاثرین کے دکھوں میں اضافے کا باعث ہے، اداروں کو چاہیے تھا وہ تمام مفتیوں اور انکے کے چمچے کھڑچوں کو پکڑتےاور لوگوں کی رقم کو برآمد کروانے میں سنجیدگی سے کام لیتے اور متاثرہن کو لوٹی گئی رقم واپس کرنے میں مدد کرتے،  لیکن ایسا ہوتا ہوا دکھائی نہیں دیا، فراڈی مفتی و قاری بآسانی ملک سے فرار ہوے انھیں ائر پورٹ پر بھی نہیں پکڑا گیا اور نہ ہی انکا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالا گیا، اگر انھیں روکنے کے اقدام بر وقت کر لیے جاتے،تو یقینن عوام کو انکے  پیسے مل سکتے تھے۔

ایک اندازے کے مطابق مشارکہ و مضاربہ سکینڈل چھ (600) سو ارب روپے سے زائد کا فراڈ ہے۔

مضاربہ کی کچھ تفصیل پر نظر دوڑائی جائے تو پتہ چلتا ہے ضلع اٹک کی پانچ 5 تحصیلوں سے تقریبن اٹھارہ 18 ارب روپے جمع کیے گئے، اس سکینڈل میں مفتی احسان ضیاء،  مفتی اسامہ، مفتی عبدالخالق، مفتی عبدالرافع اور مفتی بشیر جیسے لوگ شامل ہیں، باقی اہم شخصیات میں سے ناصر لالیکا اور دیگر شخصیات بھی ملوث ہیں۔

الیگزر گروپ آف کمپنیز کے نام پر کام کرنے والی کمپنی میں بڑے مفتیان نے اپنے تعلقات کو استعمال کرتے ہوے اپنے چمچے کھڑچھے مفتی، نو عمر حافظ، شاگرد اور دیگر مولویوں کے ذریعے ایک خاص  مسلک کے لوگوں کو ٹارگٹ کیا اور انھیں  لالچ دیکر قابو کیا گیا اور خطیر رقم حاصل کی گئی، مفتیان نے اپنے چمچوں کڑچھوں کو لالچ دی اور انھیں کہا کہ آپ سب لوگوں کو بزنس کا بتائیں اور پیسے اکٹھے کرتے ہوے انکے ساتھ قوائد و ضوابط کا معاہدہ بھی کریں اور دی گئی شرائط کو اسٹام پیپر پر درج کروائیں، اور لوگوں سے سائن کروا لیں، ساتھ یہ شرط بھی لکھ دی گئی کہ" کاروبار میں نفع و نقصان کی صورت میں دونوں فریقین ذمہ دار ہونگے" آخر میں مضاربہ کی تمام شرائط بھی تحریر کی جائیں گی"۔

یہاں پر ایک بات غور طلب ہے، جو بھی مفتیان کے نمائیندے تھے انھوں نے لوگوں کے ساتھ معاہدے میں لکھا کہ دی گئی رقم پر انھیں 55 فی صد نفع دیا جائیگا، لیکن یہاں مفتیان کے کارندوں نے متاثرین کو دھوکہ دیا، بجائے 55 فی صد نفع دینے کے انھوں نے 45 فی صد نفع لوگوں تک پہنچایا اور 10 فی حصہ اپنی جیب میں ڈالا،  مفتیان کے کارندے ڈبل کمائی کرتے رے، مفتیان سے بھی اپنا حصہ وصول کرتے رے۔

یہ بات متاثرین کو ہرگز معلوم  نہیں تھی، لوگ اپنی انویسٹ شدہ رقم کا منافع لیکر خوش ہوتے تھے اور سمجھتے تھے یہ حافظ و مفتی تو بہت نیک و پرہیز گار لوگ ہیں، کیونکہ ہمیں پورا منافع مل رہا ہے، لیکن سادہ و شریف متاثرین کو علم نہیں تھا کہ جو بندہ انھیں پیسے دینے آتا ہے وہ خاموشی سے اپنا کمیشن بھی کھا رہا ہے، یہاں پر بھی لوگوں کے ساتھ ظلم و زیادتی ہوئی اور انھیں یہ بات ہرگز نہیں بتائی گئی کہ انھی کے  پیسوں سے مفتیان کے کارندے اپنا حصہ وصول کریں گئے، لوگوں کا خیال تھا ہمارے پیسے بزنس میں لگے ہوے ہیں اور وہاں سے ہی ہمیں منافع آ رہا ہے۔ 

شرائط میں مزید یہ بھی لکھا گیا تھا کہ اگر کسی کو اپنی رقم واپس چاہیے تو وہ شخص دو ماہ قبل آگاہ کرے گا تاکہ رقم کاروبار میں سے نکالی جائے اور متعلقہ شخص کو واپس کر دی جائے، لیکن یہاں پر بھی وعدہ خلافی کی گئی، جن لوگوں کو رقم کی ضرورت پڑی، انھوں نے شرائط کے مطابق دوماہ قبل مفتیان کے کارندوں کو بتایا، لیکن بروقت بتانے کے باوجود انکی رقم سے کٹوتی کر کے انھیں رقم واپس کی گئی، یہ کارنامہ بھی مفتیوں کے چہتے کارندوں نے سر انجام دیا۔

حالانکہ شرائط کے مطابق رقم پوری کی پوری ملنی چاہیے تھی لیکن یہاں بھی ڈنڈی ماری گئی، اور لوگوں کے حقوق پر بھر پور ڈاکہ ڈالا گیا۔

الیگزر گروپ آف کمپنیز کے کرتے دھرتے مفتی احسان ضیاء، مفتی اسامہ ضیاء اور انکا برادر نسبتی ناصر لالیکا تھے، مفتی احسان ضیاء اور مفتی اسامہ کا تعلق راولپنڈی میں قائم تبلیغی مرکز "زکریا مسجد" سے جڑا ہوا تھا، یہ دونوں مفتی حضرات زکریا مسجد کے بڑے تبلیغی مرکز کے سربراہ مفتی ضیاء کے صاحبزادے تھے، ان مفتیوں نے اپنے قریبی دوستوں جن میں (تحصیل حضرو ضلع اٹک) سے تعلق رکھنے والے مفتی بشیر ولد میں اسحاق کو اپنے ساتھ شامل کیا، اور اس علاقے کا سربراہ بنایا، کیونکہ انکی علاقے تک رسائی تھی، تاکہ مزید لوگوں کو بے وقوف بنایا جائے اور ان سے بھی رقم اکٹھی کی جائے۔

(شکر درہ سے) احمد نواز ولد محمد نواز نے بھی لوگوں کو بے وقوف بناتے ہوے 23 کروڑ 26 لاکھ روپے بآسانی اکٹھے کیے۔

مفتی عبدالخالق اور مفتی عبدالرافع جن کا تعلق و واسطہ اٹک سے تھا، اپنے تعلق والے نمائیندے حاجی عبدالغفور اور اسکے بھتیجے عبدالستار اور اسکے بیٹے عبدالراوف کے ذریعے خطیر رقم جمع کی اور اچانک غائب و رفو چکر ہو گئے۔

ان میں زیادہ تر مفتیوں اور انکے ایجنٹوں و شاگردوں کا تعلق کالعدم تنظیموں کے ساتھ جڑا ہوا تھا، انھوں نے اپنے اصلی ناموں کے بجائے جہادی تنظیموں کے ناموں کو استعمال کرتے ہوے فراڈ کیا۔

متاثرین مضاربہ عرصہ دراز سے نیب کے دفاتر کے چکر لگا رے ہیں اور اپنی ڈوبی ہوئی رقم کا پتہ کرتے رہتے ہیں، لیکن نیب کو عوام سے لوٹے گئے 600 ارب روپے نظر نہیں آتے، نیب صرف سیاسی لوگوں کے پیچھے پڑی ہوئی ہے، نیب کی جانب سے برابری کی بنیاد پر غریب کو اس کا حق تاحال نہیں دیا جا سکا۔

ملزمان 9 سال سے لوگوں کے ساتھ فراڈ کر کے بیرون ملک فرار ہیں، جہاں پر وہ اپنے خاندان کے ساتھ قیام پذیر ہیں،  اور غریب پاکستانیوں سے لوٹی گئی رقم پر اپنا کاروبار سجائے بیٹھے ہیں۔

مضاربہ سکینڈل کیس کچھ سال قبل سوشل میڈیا کی زینت بنا رہا لیکن ابھی سوشل میڈیا بلکل خاموش ہے، ایسے محسوس ہوتا ہے، جیسے مفتیوں نے کچھ رقم سوشل میڈیا کو بطور تحفہ دی ہو،  جسکے باعث ان کے منہ بند ہو گئے ہیں۔

مضاربہ تقریبن 600 ارب روپے کا ایک بہت بڑا سکینڈل ہے، جسے میڈیا کو بار بار دکھانا چاہیے تھا اور غریب کو اس کا حق دلوانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تھا، لیکن میڈیا ایسا  کیوں کرے گا، کیونکہ اسکا اس کیس سے کیا لینا دینا، یہاں پر غریب پاکستانیوں کی جمع پونجی ڈوبی ہوئی ہے، میڈیا کو غریب سے کیا لینا دینا، اسے علم ہے غریب اسے اسکی فیس ادا نہیں کر سکتا۔

 کئی سالوں سے لوگ اپنی ڈوبی ہوئی رقم کا درد لیے اس جہان فانی کو چھوڑ گئے ہیں، کچھ لوگ اپنی ڈوبی ہوئی رقم کی آس میں بیٹھے ہیں کہ شائد انھیں رقم مل جائے جس سے وہ اپنی بیٹی و بیٹے کی شادی کر سکیں، اپنے بچوں کا سکول و کالج میں داخلہ کروا سکیں، اپنے لیے کوئی گھر و پلاٹ خرید سکیں، اپنے بال بچوں کی دال روٹی کے لیے کوئی کاروبارکر سکیں، لیکن یہ سب امیدیں ہیں، جو معصوم لوگ نیب و ذمہ دار اداروں سے لگائے بیٹھے ہیں، کاش کوئی مسیحا آئے اور انکی فریاد کو سنے، انکا درد سمجھے اور انھیں ان کا حق دلوائے۔

 متاثرین کی جناب چیف جسٹس آف پاکستان، وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان اور آئی۔ایس۔آئی کے چیف سے التجا ہے، وہ اپنا اثرو رسوخ کا استعمال کرتے ہوے تمام ملزمان کو پکڑیں اور متاثرین کی لوٹی گئی رقم انھیں واپس کرنے میں اپنا بھر پور کردار ادا کریں۔

کچھ لوگوں کا کہنا ہے، جب مفتیان پر چھاپہ مارا گیا تو متاثرین کی بہت زیادہ رقم گاڑیوں میں موجود تھی اور گاڑیوں کے اندر موجود مفتیان کے سیکیورٹی گارڈ اور ڈرائیورز تھے، دوران چھاپہ یہ لوگ پیسے سے بھری گاڑیاں لیکر فرار ہو گئے تھے اور پیسے کسی گھر میں محفوظ جگہ ہر زمین کھود کر دفنا دیئے گئے تھے اور خود کچھ عرصہ کے لیے روپوش ہو گئے تھے، کچھ سال گزرنے کے بعد جب معاملہ ٹھنڈا ہوا تو ان لوگوں نے وہ پیسے زمین سے نکالے اور پنڈی و اسلام آباد میں مہنگے، مہنگے گھر اور زمینیں خریدی لیں، اور لوٹے گئے پیسے کی انویسٹمنٹ کر دی اور آج پراسائش زندگی گزار رے ہیں، اسی انویسٹ شدہ پیسے سے انھوں نے مزید اربوں روپیہ دوبارہ بنا لیا ہے، مفتیان کے گارڈز اور ڈرائیورز کا شمار اب بڑے لوگوں میں ہونے لگا ہے، جہاں ادارے انھیں پکڑنے میں کتراتے ہیں

مزے کی بات یہ ہے مفتیان جیلوں میں چلے گئے اور انھوں نے پوچھ گچھ کے دوران پولیس کو کچھ بھی نہیں. بتایا، وہ اس لیے کہ جب جیل سے بائر نکلیں گئے تو اپنے ملازمین سے پیسے واپس لے لیں گئے اور دوبارہ مزے کریں گے، لیکن ملازمین ان سے بھی تیز نکلے، مفتیان نے جو پیسے لوگوں سے لوٹے تھے، وہ پیسے ملازمین نے استعمال کیے اور آج تمام ملازمین پراسائش زندگی گزار رے ہیں جبکہ مفتی جیلوں میں قید ہیں اور کچھ آزاد ہیں، لیکن زبان بند ہے، اور خاموشی اختیار کیے ہوے ہیں۔

یہاں پر ایک معاورہ فٹ آتا ہے۔

" چوروں کو پڑ گے مور"

اگر ادارے سنجیدگی سے مفتیان کے ملازمین سے تحقیقات کریں تو رقم حاصل کی جا سکتی ہے اور تحقیقات میں کافی مدد مل سکتی ہے۔

میری اس تحریر کا مقصد صرف یہی ہے کہ میرے بھائی اس وقت پریشان حال ہیں، بس چھوٹی سی ان کے لیے کوشش کی ہے، یہ میری تحریر ہر کوئی پڑھے گا اور اسے فارورڈ کریگا تاکہ شائد کوئی ادارہ اس تحریر کے ذریعے ان لوگوں پر ہاتھ ڈال دے جن کے متعلق اس تحریر میں اشارے کیے گیے ہیں۔

مضاربہ فراڈ کی چند شرائط پیش خدمت ہیں جو ایک حافظ کے ساتھ طے پائیں تھیں اور یہ حافظ مفتیوں کے لیے کام کرتا تھا اور انکا خاص آدمی تھا۔ 

"مضاربت نامہ"                                                        


ا۔ یہ کہ فریق دوئم نے مبلغ تین (3) لاکھ روپے بطور مضاربت فریق اول کو دیئے ہیں۔ 

ب۔ یہ کہ فریق اول فریق دوئم کو ماہانہ منافع میں سے پچپن 55 فیصد ہر ماہ کی 05 تاریخ تک ادا کرنے کا پابند ہو گا۔ 

ت۔ فریق اول کو اختیار حاصل ہوگا، کہ وہ مذکورہ بالا رقم جہاں چائے، جس کاروبار میں لگائے، فریق دوئم کو کوئی اعتراض نہ ہو گا۔ 

ٹ۔ معاہدہ ہذا کی مدت (3) سال تک ہے، اسکے بعد حالات کے مطابق تجدید معاہدہ ہو گا۔ 

ث۔ اگر قبل اختتام مدت معاہدہ فریق دوئم اپنی رقم واپس لینا چائے تو اس صورت میں فریق اول کو دو (02) ماہ قبل آگاہ کریگا۔ 

ج۔ یہ کہ رقم کی واپسی کے لیے نوٹس دینے پر اس دوران فریق اول پر مذکورہ رقم بصورت قرض ہو گی، قرض پر منافع سود ہے، لہذا فریق دوئم اس دوران منافع کا بلکل حقدار نہ ہو گا، اور فریق اول سے منافع کا مطالبہ نہ کریگا۔ 

د۔ یہ کہ معاہدہ ہذا میں دونوں  فریقین نفع و نقصان میں برابر کے حصہ دار ہوں گئے۔

لہذا معاہدہ ہذا بقائمی ہوش و حواس خمسہ برضا ورغبت تحریر کردیا ہے، تاکہ سند رے اور بوقت ضرورت کام آ سکے۔

المرقوم مورخہ 14 جنوری 2013

ان تمام شرائط کو دیکھتے ہوے ہر انسان یہ سمجھتا ہے، یہ لوگ کتنے اچھے اور اسلام پسند ہیں اور اسلامی احکامات پر عمل پیرہ ہیں لیکن انھی لوگوں میں لالچ اور حرص اور فراڈ چھپا ہوا تھا، جو معصوم لوگ نہ سمجھ سکے اور اپنی جمع پونجی ان دھوکے بازوں کے سپرد کر دی، یہ مال و دولت یہاں ہی رہ جائیگی اور اللہ کے حضور بہت سخت پکڑ ہو گی۔

جن لوگوں نے اس مختصر زندگی کے لیے معصوم لوگوں کی جمع پونجی کے ساتھ کھلواڑ کیا ہے، انکا انجام انتہائی درد ناک ہو گا، انھوں نےاس مختصر زندگی کو خوش کرنے کے لیے فراڈ کیا ہے، جب روز محشر کا میدان لگے گا، طویل لمبے دن اور راتیں ہونگی تو ان لوگوں سے جب حقوق العباد کا سوال ہو گا تو انکے پاس کیا جواب ہو گا؟ اس بات کا احساس انھیں اسی وقت ہو گا، پھر بھاگ دوڑ کریں گے لیکن بہت دیر ہو گئی ہوگی اور اللہ کا امتحان بہت سخت ہوگا۔

ان لوگوں کے لیے ابھی وقت ہے جنھوں نے فراڈ کا پیسہ اپنے پاس رکھا ہوا ہے، توبہ کریں، استغفار کریں اور رضاکارانہ طور پر غریبوں کا پیسہ واپس کر دیں، ورنہ اللہ کی لاٹھی بڑی بے آواز ہے، ظالم نے ہمیشہ ختم ہونا ہوتا ہے اور اسکا انجام بہت درد ناک ہوا کرتا ہے، ایسے واقعات سے تاریخ بھری پڑی ہے، ایسے لوگ ہمیشہ تباہ و برباد ہوے ہیں اور عبرت کا نشان بنے ہیں۔

میری عظیم اللہ سے دعا ہے، اللہ تمام متاثرین کی مدد کرے اور انکی فریاد کو سن لے اور اپنے بندوں پر اپنا خاص کرم فرما  دے۔

آمین یا رب العالمین

Muftis Fraud in Mudaraba Scandal

Please, Like / Comments / Share

Comments

Post a Comment

For More Information Please Comments.

Popular posts from this blog

سید محسن رضا کاظمی الحمیدی

تین بہن بھائیوں کی درد ناک داستان

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے لیے فرمایا