بیرون ملک پاکستانیوں کی مشکلات اور بے رحم انسانیت کے دشمن ایجنٹ
Agents Hostile to the Plight of Pakistanis Abroad and ruthless Humanity
تحریر: بشارت موسوی
کسی بھی ملک کے باشندوں کے رہن سہن کے طور طریقے اور ثقافت دوسرے ممالک سے ہمیشہ مختلف ہوتی ہے، ہر ملک کا باشندہ اپنی ثقافت کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے، کیونکہ اگر وہ باشندہ مذہب اسلام کے دائرے میں ہے تو وہ نماز روزہ اور باقی اسلامی تعلیمات پر عمل کرتا ہوا نظر آتا ہے اور اپنے مذہب میں رہتے ہوے اجنبی ملک میں خاندان والوں کے رزق کے حصول کے لیے محنت کرنا چاہتا ہے، جہاں پر وہ کام کرتا ہے اور اسکی رہائش ہے وہاں پر دوسرے مذہب کے لوگ بھی رہتے ہیں، لیکن وہ خاندان والوں کی خاطر غیر مذہب لوگوں کے درمیان اپنے مذہب کے مطابق رہنا پسند کرتا ہے اور کوشش کرتا ہے، حرام حلال میں بھی تمیز کی جائے۔
کوئی بھی شخص جب روزگار کے سلسلے میں کسی دوسرے ملک میں پہنچتا ہے، تو یقینن اسے اس ملک کے طور طریقے سمجھنے میں وقت لگتا ہے، کیوں کہ ایک انسان جب اپنی ثقافت و طور طریقوں کو چھوڑتا ہے اور دوسرے ممالک کا رخ کرتا ہے یا رزق حلال کمانے کی غرض سے اس ملک میں پہنچتا ہے تو اسے اس ملک کے رہن سہن کے طور طریقے، اور قانون پر سختی سے عمل کرنا پڑتا ہے، اس ملک کی زبان سیکھنا پڑتی ہے، کیوں کہ بغیر زبان سیکھے وہ شخص کسی صورت میں اپنے مقاصد کو حاصل نہیں کر سکتا، اس شخص کے لیے ضروری ہے وہ اس ملک کی زبان پر عبور حاصل کرے تاکہ کام کاج کرنے اور وہاں پر بسنے والے باشندوں کی باتوں کو سمجھنے میں آسانی پیدا ہو اور انہی کی زبان میں بات کرتے ہوے مقصد کو حل کر لیا جائے، یہ اسی صورت ممکن ہو گا جب زبان حاصل کر لی جائے گی۔
دیکھا گیا ہے دوسرے ممالک کا رخ کرنے والے اکثر لوگ زبان نہ آنے کی وجہ سے اپنے مقاصد کو حاصل نہیں کر پاتے اور بمشکل روزگار ملتا ہے، کیونکہ روزگار حاصل کرنے کے لیے زبان کا ہونا ضروری ہے، اگر اس ملک کی زبان سمجھ نہیں آ رہی تو انٹر نیشنل زبان انگلش کا آنا ضروری ہے، تاکہ انگریزی زبان کا سہارا لیتے ہوے دوسرے باشندے کو بات سمجھائی جا سکے کہ وہ کیا کہنا چاہتا ہے۔
پاکستان ایک ترقی پذیر اور غریب ملک ہے جہاں بے روزگاری عروج پر ہے، پاکستانی روزگار حاصل کرنے کے لیے غلط راستے بھی اختیار کرتے ہیں، جہاں وہ انسانیت کے دشمن ایجنٹوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں اور اپنا پیسہ ضائع کر دیتے ہیں، اپنی جانوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، کیونکہ ایجنٹ ناجائز راستہ اختیار کرتے ہیں وہ راستہ موت کا راستہ ہوتا ہے، پہلے ملک کی سرحدوں سے بچ بچا کر نکلنا پڑتا ہے، پھر سمندر پر موجود غیر ملکی ایجنٹ جو پاکستانی ایجنٹوں سے پیسہ پکڑتے ہیں اور لوگوں کو ناقص کشتیوں پر سوار کرتے ہیں، پاکستانی ایجنٹ اپنے پاکستانی مجبور ہم وطنوں کو غیر ملکی ایجنٹوں کے احوالے کر کے واپس لوٹ آتے ہیں، غیر ملکی ایجنٹ پاکستانیو کو لیکر سمندر میں دن رات لمبا سفر کرتے ہیں، جہاں موسم کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا، سمندر کی مست موجوں کا کوئی بھروسہ نہیں ہوتا، سمندر میں موجود آبی خوفناک جانوروں کا کوئی علم نہیں ہوتا، غذا و پانی کا کوئی بندوبست نہیں ہوتا، کئی ماہ سمندر میں سفر کیا جاتا ہے، خوش قسمتی ہوتی ہے کوئی منزل مقصود پر پہنچ جائے، زیادہ تر غیر ملکی ایجنٹ دھوکہ دے جاتے ہیں لوگوں کو سمندر میں پھینک دیتے ہیں اور خود دوبارہ پاکستانی ایجنٹوں سے رابطہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں ہم نے آپکے لوگ منزل مقصود پر پہنچا دیئے ہیں حالانکہ ایسا ہوتا نہیں ہے۔
خوش قسمتی سے جو تاریک وطن بچ گئے ہیں اور منزل مقصود پر پہنچنے کے قریب ہوتے ہیں وہاں پر اس ملک کے سرحدی محافظ ان تاریک وطن کو پکڑ لیتے ہیں اور انھیں موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں، کیونکہ انکے پاس کوئی اور طریقہ نہیں ہوتا، انھیں اپنی حکومت کی طرف سے ہدایات ہوتی ہیں، کہ تاریک وطن کو کسی صورت سرحد پار نہ کرنے دی جائے، مزاحمت کرنے پر گولی مار دی جائے یا انھیں کشتیوں میں ڈال کر بیچ سمندر مگر مچھوں اور شارک مچھلیوں کی غذا بنا دیا جائے، 95 فیصد تاریک وطن کو اسی طریقے سے ختم کر دیا جاتا یے، جو گھر سے ایک خواب لیکر چلے تھے لیکن وہ ایجنٹوں کے ہتھے چڑھ کر اپنی زندگی کا خاتمہ کروا دیتے ہیں۔
پاکستانی پوری دنیا میں پھیلے ہوے ہیں، زیادہ تر پاکستانی خلیجی ممالک میں روزگار کی خاطر قیام پذیر ہیں، پاکستانی پیسہ خرچ کرکے وزٹ ویزے پر خلیجی ممالک میں جب پہنچتے ہیں تو انھیں اس وقت مشکل پیش آتی ہے جب وہ روزگار کے لیے موسمی اعتبار سے گرم ترین عرب میں نوکری تلاش کرتے ہیں، جہاں وہ شہر، شہر گلی، گلی مارے مارے پھرتے ہیں، لیکن انھیں نوکریاں نہیں ملتیں وہ در در کی ٹھوکریں کھا کر اپنا پیسہ ضائع کر دیتے ہیں اور ویزا ختم ہونے کے بعد خالی ہاتھ اپنے ملک لوٹتے ہیں، اپنے عزیزوں اور دوستوں سے لیا گیا پیسہ اپنے ہی ملک میں محنت مزدوری کر کے واپس کرتے ہیں، یہ ایک تکلیف دہ عمل ہوتا ہے، جس میں خاندان والے کافی پریشانی کا سامنا کرتے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو پیسہ خرچ کر کے خلیجی ممالک گئے تھے لیکن انھیں نوکری نہ مل سکی خالی ہاتھ اپنے ملک لوٹنا پڑا۔
اب ان لوگوں کی بات کرتے ہیں جنھیں نوکری تو مل جاتی ہے لیکن کمپنی کی شرائط بہت سخت ہوتی ہیں، یہ ایسی شرائط ہوتی ہیں، جن میں ملازم کا پاسپورٹ کمپنی آپنے پاس رکھ لیتی ہے، اور 12 سو سے 2 ہزار درہم و ریال تنخواہ کا کنٹریکٹ دیتی ہے اور گدوں جیسا کام لیتی ہے، کمپنی کنٹریکٹ میں رہائش تو دیتی ہے، یہ ایسی رہائش ہوتی ہے، جہاں ایک روم میں 10 سے 20 لوگ رہتے ہیں، جیسے ایک اسطبل میں گھوڑوں و گدوں کو باندھ دیا جاتا ہے۔
رہائش اتنی گندی ہوتی ہے جہاں پر غیر مذہب کے لوگ بھی موجود ہوتے ہیں، یہ لوگ اپنی ثقافت کے مطابق رہنا چاہتے ہیں ،لیکن پاکستانی ملازم مسلمان ہونے کے ناتے انکے ساتھ گزارہ نہیں کر سکتا، کیونکہ غیر مذہب لوگ حرام کھاتے ہیں، لیکن مسلمان نہیں کھاتا، مجبورن پاکستانیوں کو غیر مذہب باشندوں کے ساتھ رہنا پڑتا ہے۔
عرب ممالک کے مقامی لوگ بہت سخت طبعیت کے ہوتے ہیں، جن کا رویہ ملازمین کے ساتھ آچھا نہیں ہوتا وہ ملازم کو تنگ نظر سے دیکھتے ہیں اور وقت پر ملازمین کو تنخواہ نہیں دیتے، بلکہ ملازمین کو ڈانٹتے نظر آتے ہیں، جو ایک تکلیف دہ بات ہے۔
ملازمین کی تنخواہیں پہلے ہی بہت کم ہوتی ہیں لیکن مالکان ملازمین کو تنگ کرتے ہوے دو سے تین ماہ تنخواہ دینے میں لگا دیتے ہیں اور تنخواہیں بھی ادھوری ہوتی ہے۔
ایمبرجینسی کی صورت میں چھٹی بھی بمشکل ملتی ہے، اگر چھٹی مل بھی جائے تو تنخواہ و بقایا جات نہیں دیئے جاتے، ملازم بغیر پیسے لیے گھر پہنچ جاتا ہے، یا ساتھ کام کرنے والے ساتھیوں سے ادھار لے لیتا ہے، اور اپنے ملک واپس پہنچ جاتا ہے۔
ملک میں پہنچتے ہی بے شمار مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جب بے پناہ مسائل کو دیکھتا ہے پھر دوبارہ واپسی کا رخ کر لیتا ہے، جہاں پر گرمی و مشکلات کا سامنا کرتے ہوے نوکری کو جاری رکھتا ہے۔
خاندان والوں کو پیسے بھیجتا رہتا ہے، بچوں کی فرمائشیں پوری کرتے کرتے جوانی میں ہی بوڑھا ہو جاتا ہے، سر کے بال سفید ہو جاتے ہیں اور جڑ چکے ہیں، عربوں کی سخت گرمی میں مزدوری کی جاتی ہے، دن بھر تھکاوٹ کے بعد جب واپس کمرے کا رخ کیا جاتا ہے تو گرم پانی سے غسل کرنا پڑتا ہے، دن بھر کے پسینے سے بدبودار کپڑوں کو دھویا جاتا ہے، روم سے نکل کر ہوٹل کا کھانا، کھانا پڑتا ہے بس پردیسی کی یہی زندگی ہے۔
ملازمین کو تنگ کرنا اور پیسے نہ دینا ایک پاکستانی پٹھان بھائی کا واقع یاد آ گیا جو چند سال قبل میری شاپ پر آئے، گفتگو شروع ہوئی تو کہنے لگے میں بھی سعودی عرب محنت مزدوری کرنے گیا تھا۔
کہنے لگے ایک دفع میں مزدوری تلاش کر رہا تھا تو ایک جگہ پہنچا جہاں ایک مکان زیر تعمیر تھا ایک عربی بھائی ملا کہنے لگا یہ سامان چھت پر پہنچانا ہے، میں نے کہا مشکل نہیں میں پہنچا دیتا ہوں میرے ساتھ ٹھیکہ کر لو، عربی کہنے لگا کتنے پیسے لو گئے میں نے کہا 500 سو ریال لونگا اور سارا سامان چھت پر پہنچا دونگا، عربی نے انکار کیا کہا پیسے زیادہ ہیں، لیکن میں نے اسے بتایا یہ کام بہت زیادہ ہے اس اعتبار سے پیسے بھی تھوڑے مانگے ہیں، تو عربی نے کہا ٹھیک ہے شروع ہو جاو۔
خان بھائی نے بتایا کہ شام تک میں نے سارا سامان شفٹ کر دیا، اب جب میری مزدوری کی بات آئی تو عربی نے کہا جاو میرے پاس پیسے نہیں ہیں، میں صبح سے محنت کر رہا تھا، میں نے حاجزی سے دوبارہ کہا تو اس نے پھر انکار کیا کافی پریشان ہوا کیوں کہ انکے ملک کچھ کر نہیں سکتا تھا تو آخری بار عربی کو کہا میری مزدوری دے دو اس نے انکار کیا۔
میں نے سوچا اس عربی سے لڑائی کا کوئی فائدہ نہیں، میں نے اس سے مخاطب کرتے ہوے کہا کہ چلو ٹھیک ہے تم میری مزدوری نہیں دے رے ہو، پھر جاو میں بھی جا رہا ہوں روز محشر تمھارا گریبان پکڑوں گا اور اپنا حساب لونگا، ابھی تھوڑا ہی دور گیا تھا کہ عربی نے بلند آواز دی اور کہا کہ او اپنی مزدوری لے جاو، میری اس استدعا نے عربی کا دل نرم کیا اس نے میری حق حلال کی مزدوری مجھے دی، خان بھائی نے کہا اگر میں عربی نہ جانتا ہوتا تو میں اس سے یہ استدعا نہ کر سکتا اور عربی مجھے میری مزدوری نہ دیتا کیوں کہ عربی صرف عربی سمجھتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ آپکو اس ملک کی زبان آتی ہو تو آپ کبھی بھی مار نہیں کھائیں گے۔
Agent Hostile to the plight of Pakistanis
Please, Like / Comments / Share
Comments
Post a Comment
For More Information Please Comments.