دورِ حاضر میں یزیدیوں کی پہچان | فلسطین، کربلا، عرب امارات اور پاکستانی محنت کشوں کی دردناک حقیقت
پاکستان میں مہنگائی اور سیاسی پارٹیوں کی سیاست
Inflation and the Politics of Political Parties in Pakistan
تحریر: بشارت موسوی
مہنگائی ایسا لفظ ہے، جسے سن کر امیر و غریب دونوں ہی پریشان ہو جاتے ہیں، پوری دنیا میں مہنگائی ہے، لیکن پاکستان کی مہنگائی میں اور دینا کی مہنگائی میں بہت زیادہ فرق پایا جاتا ہے، دینا کی معیشت مضبوط ہے اور وہ ترقی یافتہ ممالک ہیں جبکہ پاکستان غریب اور ترقی پذیر ملک ہے، ترقی یافتہ ممالک اپنی عوام کو ریلیف دے کر انھیں خوشحال اور خوش کرنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ پاکستان میں ایسا ہونا ناممکن ہے، پاکستان میں جتنی بھی سیاسی جماعتیں اقتدار میں آتی رئیں سبھی اپنی جیبوں کو بھرتی رئیں اور اپنے خاندانوں کو مختلف انداز میں نوازتی رئیں۔
بر سر اقتدار جماعتوں کا سب سے بڑا المیہ یہ رہا بیرون ممالک اور ائی۔اہم۔ایف سے قرضہ لیتی رئیں، ملک کے لیے مہنگے داموں میگا پروجیکٹ لگاتی رئیں، لیکن لیے گئے قرضے کو واپس کرنے کا سوچا تک نہ گیا وہی قرضہ سود کے ساتھ ڈبل ٹرپل ہوتا چلا گیا، ملکی مفاد کے بارے کم سوچا گیا ذاتی مفادات کو زیادہ اہمیت دیتے رے جسکے باعث ملک کمزور سے کمزور تر ہوتا چلا گیا اور معیشت پر برے اثرات پڑے۔
جب جنرل مشرف نے اقتدار چھوڑا پاکستان کا کل قرضہ 6 عرب ڈالر تھا، مشرف کے دور اقتدار میں عوام خوش تھی کیوں کہ مہنگائی زیادہ نہیں تھی چیزیں کنٹرول میں تھیں کھانے پینے کی اشیا بھی سستی رئیں، جن میں آٹا 17 روپے فی کلو تھا، چینی 25 روپے فی کلو، سبزیاں 10 تا 15 روپے فی کلو، دال چنا 20 روپے فی کلو، کالے چنے 22 روپے کلو، سفید چنے 23 روپے فی کلو، دال ماش 30 روپے فی کلو، دودھ 32 روپے فی کلو، چکن 80 روپے فی کلو اسی طرح باقی اشیا بھی سستی اورکنڑول میں رئیں، ترقیاتی کام کی کارکردگی بھی مثبت رہی۔
مشرف دور حکومت کو اعزاز حاصل ہے اس نے میڈیا کو فری ہینڈ دیا اور بہت زیادہ ٹی۔وی چینلز کو لائسنس جاری کیے جنکی بدولت آج پاکستان میں پرائیویٹ ٹی۔وی چینل کی بھر مار ہے، جسکے باعث چینلز بلا کسی خوف و خطر خبریں نشر کر رے ہیں۔
مشرف دور حکومت میں، موبائیل آپریٹرز کو کنٹرول کیا گیا اور مختلف موبائیل کمپنیز کو لائسنس جاری کیے گئے، موبائیل فون اور سم کارڈز کو بھی سستہ کیا گیا جسکی وجہ سے غریب و امیر دونوں کے پاس موبائیل فون کی رسائی ہوئی، ہر کوئی سستے موبائیل فون کی بدولت آپنے پیاروں سے خیریت معلوم کرتے ہوے دیکھا گیا، اس اقدام کی وجہ سے ایک مزدور کے پاس بھی موبائیل فون پہنچا، وہ بھی بآسانی اپنے خاندان والوں سے بات کر سکتا تھا۔
مشرف دور حکومت میں، دہشت گرد تنظیموں پر ہاتھ ڈالا گیا اور دہشت گردی کو کنٹرول کرنے کے لیے مکمل پلاننگ کی گئی۔
اگر آج عام آدمی سے مشرف حکومت کے بارے میں معلوم کیا جائے تو عام آدمی یہی کہتا ہوا نظر آتا ہے، کہ مشرف دور حکومت سب سے بہتر تھا جس میں عام آدمی خوشحال تھا اور مہنگائی پر کنٹرول تھا۔
مشرف کے دور اقتدار میں پیپلز پارٹی کی رہنما اور سابقہ وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو بھی دہشت گردی کا شکار ہو کر شہید ہوئیں، اس بڑے سانحہ کے بعد مشرف کی حکومت کمزور پڑ گئی 2008 میں عام انتخاب ہوے جس میں پاکستان پیپلز پارٹی محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے باعث عوامی رائے کی وجہ سے اقتدار میں آئی، پیلز پارٹی دور حکومت میں ترقیاتی کام سست روی کا شکار رے ملک کے لیے خاطر خواہ منصوبے نہ بنائے گئے بلکہ مہنگائی کا طوفان برپا ہوا، آٹا 34 روپے فی کلو تھا، چینی 48 روپے فی کلو، سبزیاں 30 روپے فی کلو، دال چنا 40 روپے فی کلو، کالے چنے 50 روپے کلو، سفید چنے 45 روپے فی کلو، دال ماش 50 روپے فی کلو، دودھ 60 روپے فی کلو، چکن 150 روپے فی کلو کے حساب سے بکنے لگا، اسی طرح باقی روزمرہ کی اشیاء بھی مہنگی ہوئیں اپوزیشن جماعت مسلم لیگ ن نے زیادہ مہنگائی پر بھرپور شور مچایا،اپوزیشن نے پیپلز پارٹی کو پارلیمنٹ میں بہت ٹف ٹائم دیا بلکہ آسانی سے حکومت نہ کرنے دی، پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں دو وزیر اعظم منتخب ہوے، یوسف رضا گیلانی کو نااہل ہونا پڑا، راجہ پرویز اشرف کو وزیر اعظم کا قلمدان دیا گیا، اپوزیشن کے شور شرابے میں پیپلز پارٹی نے حکومت کے 5 سال مکمل کر لیے۔
سن 2013 میں دوبارہ جنرل الیکشن کا انعقاد ہوا جسمیں مسلم لیگ ن نے کامیابی حاصل کی اور محترم میاں محمد نواز شریف تیسری بار وزیر اعظم بنے، مسلم لیگ ن نے اقتدار سنبھالتے ہی مہنگائی کر دی جس سے عام آدمی کا جینا مشکل ہو گیا اشیاء خوردونوش مہنگی کر دی گئیں، سابقہ حکومت کی نسبت مہنگائی میں ڈبل اضافہ کیا گیا جو تشویش کا باعث بنا رہا، جو اشیاء خوردونوش مہنگی ہوئیں انکی تفصیل یہ ہے، آٹا 42 روپے فی کلو، چینی 62 روپے فی کلو، سبزیاں 40 تا 60 روپے فی کلو، دال چنا 150 روپے فی کلو، کالے چنے 160 روپے کلو، سفید چنے 160 روپے فی کلو، دال ماش 280 روپے فی کلو، دودھ 80 تا 100 روپے فی کلو، چکن 200 تا 250 روپے فی کلو کر دیا گیا۔
اپوزیشن بینچوں پر بیٹھے لیڈروں نے حکومت وقت پر تنقید کے تیر چلائے، وزیر اعظم نواز شریف و اسکے خاندان پر بین الاقوامی جریدے پاناما کی جانب سے کرپشن کے الزامات لگے، جسکے باعث عدالت میں کیس گیا، عدالت نے میاں محمد نواز شریف کو نا اہل کر دیا اور آئیندہ الیکشن لڑنے پر پابندی لگا دی، اسکے بعد شائد خاقان عباسی کو ن لیگ کی جانب سے وزیر اعظم منتخب کر لیا گیا جو اقتدار ختم ہونے تک پاکستان کے وزیر اعظم رے۔
یہ پاکستان کی وہ سیاست ہے جس نے عام آدمی کا جینا مشکل سے مشکل تر کر دیا ہے، ملک میں یہ سیاسی جماعتیں جب اقتدار میں نہیں ہوتیں یہ عوام کے درمیان پہنچتی ہیں انکے دکھ درد کو سنتی ہیں، عوام کو سہارا دیتے ہوے نظر آتی ہیں کہ ہم جب اقتدار میں آئیں گئے آپ کے سارے مسائل حل کریں گئے، نوکریاں دیں گئے، مہنگائی پر کنٹرول کریں گئے، ملک کے لیے ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کریں گے، لیکن جب یہی نعرہ مارنے والے لوگ اقتدار میں پہنچتے ہیں، تو عوام کی رسائی ان حکمرانوں تک نا ممکن ہو جاتی ہے، عوام سے کیے گئے وعدے ردی کی ٹوکری میں ڈال دیے جاتے ہیں، عوام کی چیخ و پکار جاری رہتی ہے، یہ لوگ اپنے جیب کو بھرتے ہیں اور اپنے ہی خاندان کو نوازتے رہتے ہیں، یہ لالچی لوگ ملکی وسائل کو استعمال کرتے ہوے غیر قانونی طریقے سے پیسہ بائر ممالک بھیج دیتے ہیں، جس سے انکا خاندان امیر سے امیر تر ہو جاتا ہے، لیکن ملک میں رہنے والی عوام غریب سے غریب تر رہتی ہے۔
ملک خداداد پاکستان کا یہ المیہ ہے، دیانتدار و ایماندار سیاست دان ملک کو میسر نہیں اسکے جس کے باعث ملک کی معیشت تباہ حال ہے، غریب کی زندگی مشکل سے مشکل تر ہے، نوجوان بے روزگاری کا شکار ہیں، اداروں میں رشوت و سفارش عروج پر ہے، جگہ، جگہ پر کرپشن کا بازار گرم ہے، لاقانیت ہے، ملک کے دشمن پیسے کی خاطر ملکی ذمہ دار اداروں پر دن رات بونکتے ہیں، جن پر پاکستان کی ہر دلعزیز فوج نظر رکھے ہوے ہے، پاکستانی افواج کی بدولت پاکستان اس وقت امن و امان رکھے ہوے ہے، پاکستانی عوام اپنی افواج سے بے پناہ محبت کرتی ہے، اور خیال کرتی ہے، کہ پاکستانی افواج ہی ملک کی اور ملکی سرحدوں کی صحیح معنوں میں معافظ ہے، پاکستانی افواج کی بدولت عوام سکون کی نیند سوتی ہے۔
سن 2018 کے جنرل الیکشن میں جیتنے والی تحریک انصاف کی حکومت جاری و ساری ہے، لیکن حکومت وقت مہنگائی پر کنٹرول نہیں رکھ سکی ہے، جسکے نتیجے میں عام آدمی کی زندگی محال ہو گئی ہے، سابقہ حکومتیں بھی مہنگائی کرتی رئیں ہیں، جیساکہ ذکر کیا گیا ہے، لیکن موجودہ حکومت ملک میں موجود مظبوط معافیہ کو قابو کرنے میں مکمل طور پر ناکام دکھائی دیتی ہے، حکومت کے اندر کئی وزیر و مشیر معافیہ کے سپورٹر نظر آتے ہیں، وزیر اعظم عمران خان کے پاس وہی لوگ موجود ہیں جو سابقہ حکومتوں کے ساتھ جڑے ہوے تھے، وزیر اعظم عمران خان کی پارٹی میں زیادہ تر ایسے لوگ شامل ہیں جو سابقہ پارٹیوں میں رے ہیں اور وزارتوں کے قلمدان بھی سنبھالے، ان لوگوں کو کرپشن کے طور طریقے بہت خوبصورتی سے آتے ہیں، عمران خان اس وقت تک کامیاب نہیں سکتے جب تک انکی ٹیم ایماندار دیانت دار نہ ہو، ملک کی ترقی و خوشحالی کے لیے ضروری ہے ملک کے لیڈران ملک و قوم کے لیے مخلص ہوں۔
اس وقت ملک میں روزمرہ کی اشیاء خوردونوش میں بے پناہ اضافہ کیا گیا ہے، جسکی وجہ سے عوام الناس پریشانی میں مبتلا ہیں۔
ملک میں معافیہ مصنوعی مہنگائی کر کے حکومت وقت کو پریشان کرنا چاہتا ہے، اور حکومت کو ناکام کرنے میں لگا ہوا ہے، اس ملک کا المیہ ہے، ملک کے اہم وسائل پر معافیہ کی حکمرانی ہے، ملک میں فلور و چینی کی ملیں بھی معافیہ کے قبضے میں ہیں، اسی طرح باقی اشیاء خوردونوش کی مہنگائی میں بھی معافیہ ملوث ہے، یہ معافیہ سیاست میں بھی موجود ہے، کاروبار میں بھی قائم و دائم ہے، اگر اس معافیہ کی ملک کے اندر من پسند حکومت نہ ہو یہ معافیہ اشیاء خوردونوش کو عوام سے دور کر دیتا ہے۔
ملک خداداد پاکستان میں 20 فی صد عیاش لبرل، سیاست دان، بیورو کریٹ اور بزنس مین قبضہ کیے ہوئے ہیں، یہی وہ معافیہ ہیں جو 80 فی صد عوام پر قابض ہیں اور انکی ترجمانی کرتے ہیں، انھی کی وجہ سے ملک میں ترقی نہیں ہو پا رہی عام آدمی خوشحال نہیں ہے، ملک قرضوں میں دھنسا ہوا ہے۔
اس معافیہ سے نجات کے لیے عوام الناس میں شہور اور تعلیم کی اشد ضرورت ہے۔
دعا ہے اللہ اس ملک کی حفاظت فرمائے اور عام آدمی کی زندگی کو بہتر سے بہتر بنائے، مزید دعا ہے اللہ ملک خداداد کو مخلص لیڈر عطا فرمائے، جو ملک و قوم کی ترقی کے لیے دن رات کام کرے اور ملک ترقی کی منازل طے کرے۔
آمین یا رب العالمین
Inflation and the Politics of Political Parties in Pakistan
Please: Like / Comments / Share
Comments
Post a Comment
For More Information Please Comments.