دورِ حاضر میں یزیدیوں کی پہچان | فلسطین، کربلا، عرب امارات اور پاکستانی محنت کشوں کی دردناک حقیقت
پاکستان کی موجودہ
کرکٹ ٹیم
تحریر:
بشارت موسوی
میں سن 1987 سے 2020 تک کرکٹ کھیلتا
رہا ہوں میں ایک معمولی سا آل راؤنڈر کرکٹر تھا، اپنی کرکٹ کے ساتھ س پاکستان کرکٹ
ٹیم کو بھی دیکھتا تھا جو بھی میچ ہوتا تھا اسے بہت ذوق و شوق سے دیکھتا تھا کرکٹ
کا اتنا جنون تھا کہ جب میچ ہوتا تو دفتر سے چھٹی کر لیتا اور برائے راست ٹی۔وی پر
میچ دیکھتا تھا۔
جتنے جنون سے پاکستان کرکٹ ٹیم کا میچ
دیکھتا تھا وہ سارا جوش و جذبہ اس وقت ختم
ہو جاتا جب پاکستان کرکٹ ٹیم سامنے والی ٹیم کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوتی ٹیم
کے مایہ ناز کھلاڑی پرفامنس دینے میں بری طرح ناکام ہو جاتے اسی وکٹ پر مخالف ٹیم
بہترین بیٹنگ و باؤلنگ کر کے جیت جاتی لیکن قومی ٹیم غلطیوں پہ غلطیاں کرتی اور
مخالف ٹیم سے ہار جاتی جہاں میرے ساتھ ساتھ دیگر لوگ بھی ٹیم کی ناکس کارکردگی سے
بہت مایوس ہوتے، کئی تو رونا شروع کر دیتے کہتے جیتا ہوا میچ ہار گئے ہیں، کئی
کہتے فلاں کھلاڑی نے غلط شاٹ مار کر وکٹ گنوا دی ہے۔
کئی سال تک یہ سلسلہ چلتا رہا جو آج
تک 2026 تک جاری و ساری ہے ٹیم میں کئی کھلاڑی ایسے ہیں جو غیر زمہ دارانہ بیٹنگ
کرتے ہیں۔
پاکستان کرکٹ ٹیم میں ایسے کھلاڑی
شامل ہیں جنھیں دیکھ کر ایسے لگتا جیسے گلی محلے میں کھیلنے والے کھلاڑی ہیں جنکے
اندر پیشہ ورانہ صلاحیت نہ ہونے کے برابر ہے کیونکہ قومی ٹیم جب بھی کسی بڑی ٹیم
کے ساتھ کھیلتی ہے وہاں نہ باؤلنگ چلتی ہے اور نہ ہی بیٹنگ سبھی شعبے ناکام نظر
آتے ہیں۔
ایک وقت تھا جب قومی ٹیم کے پاس ایسے
کھلاڑی موجود تھے جو مختلف ٹیم سے آؤٹ ہی نہیں ہوتے تھے اور باؤلنگ کی باری آتی تو
مخالف ٹیم کو رنز بنانے میں بہت دشواری ہوتی تھی وہ بمشکل رنز بناتے تھے اور ساتھ
ہی اسپین باؤلنگ کا شعبہ بہترین تھا جہاں اگر فاسٹ باؤلنگ سے بیٹسمین آؤٹ نہیں
ہوتا تھا وہاں پر اسپین باؤلنگ کام کر جاتی وکٹ پر موجود سیٹ بیٹسمین اسپین باؤلنگ
کا سامنا نہ کر پاتا اور وکٹ گنوا دیتا۔
اس زمانے میں بہترین کپتان ہوتے تھے
جنکے اندر خالصتاً قومیت ہوتی تھی وہ دل و جان سے ٹیم کو میدان میں لڑواتے اور ٹیم
کے اندر جیت کا ایک جزبہ ڈالتے تھے، بہترین کپتانی کے باعث قومی ٹیم نے ازلی دشمن
بھارت کو بھارت میں جا کر ہرایا اور قوم کا سر فخر سے بلند کیا, یہی بہترین کپتانی
جاری رہی جنھوں نے انگریز ممالک میں جاکر مشکل میچز جیتے جنھیں آج بھی یاد کیا
جاتا ہے۔
میرے نزدیک دنیا میں کرکٹ کھیلنے
والے ممالک میں کرکٹ لیگ کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے جو کرکٹ کی بگاڑ کی بہت بڑی وجہ
ہے کیونکہ کرکٹر کے پاس اتنا پیسہ آ گیا ہے اسکے اندر میچ جیتنے کی بھوک ختم ہو چکی
ہے پیسہ بنانے اور اپنا نام بنانے کی بھوک خوائش بھی ختم ہو چکی ہے۔
موجودہ کرکٹ کے ڈھانچے کو دیکھیں تو
کرکٹ ابھی امیروں کی گیم بن کر رہ گئی ہے کیونکہ کسی دور میں جب بھی قومی ٹیم میں
کوئی غریب کرکٹر قومی ٹیم میں شامل ہوا تو اس نے ملک و قوم کا نام روشن کیا دل و
جاں سے ملک کی بہترین نمائندگی کی اور ہارے ہوئے میچز جیت کر قومی ٹیم کو سرخرو کیا
اور قوم کو جیت کا تحفہ دیا۔
آج جب امرا نے کرکٹ بورڈ پر قبضہ کر
لیا ہے جہاں من پسند کھلاڑی شامل کیے جاتے ہیں وہاں ہی غریب غرباء کے بچوں سے
گراؤنڈ چھین لیے گئے ہیں وہاں پر سیر گائیں بنا دی گئی ہیں اسکی مثال اسلام آباد میں
بڑے بڑے گراؤنڈ ختم کر کے بچوں کے پارک بنا دئیے گئے ہیں وجہ صرف یہی ہے وہاں
سرکاری مکانات ہیں اور غریبوں کے ہنر مند بچے رہتے ہیں جو فارغ وقت میں ان گراؤنڈز
میں کرکٹ کھیلتے تھے لیکن اب وہ کرکٹ نہیں کھیل سکیں گے کیونکہ جہاں وہ کرکٹ کھیلتے
تھے وہاں بچوں کے پارک بن گئے ہیں اب وہ صرف موبائیل پر ہی کرکٹ کھیل سکتے ہیں یا
گھر کے اندر صحن میں محدود کرکٹ کھیل سکتے ہیں جہاں پر انکے ٹیلنٹ کی کوئی قدر نہیں
اور نہ ہی انکے ٹیلنٹ کو کرکٹ بورڈ دیکھ سکتا ہے افسوس۔
کرکٹ اکیڈمیوں کا قیام: کرکٹ اکیڈمی
بھی ہونی چائیے جہاں لیجنڈ کھلاڑی کرکٹر کو تربیت دیں اور انھیں انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے
کے لیے قومی ٹیم کا حصہ بنانے میں اپنا کردار ادا کریں لیکن یہاں پر غریب کا بچہ
کرکٹ اکیڈمی کو بس دور سے دیکھ سکتا ہے اکیڈمی کے اندر داخلہ ہرگز نہیں لے سکتا کیونکہ
اکیڈمی کے مالکان امیر زادے ہیں اور اکیڈمی کی فیس 20 ہزار سے 25 ہزار روپے ماہوار
ہوتی ہے جو غریب کے بس کی بات نہیں ہے اور نہ ہی غریب آدمی اپنے بچے کو کرکٹ اکیڈمی
میں داخل کروا سکتا ہے، کیونکہ غریب کے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں وہ بچے کو کرکٹ کے
لیے پیسے دے یہاں کہنا پڑیے گا سوچی سمجھی سازش کے تحت غریب کے بچے کا ٹیلنٹ ضائع
کر دیا گیا ہے وہ کیسے آپنے ٹیلنٹ کو آگے لائے گا؟ کون سفارش کریگا؟
ایک اہم بات یہ بھی سننے کو ملتی ہے
کھلاڑی کو ہائی لیول پر پہنچانے کے لیے نوٹوں کا ایک بریف کیس اور کسی بڑے لیڈر یا
کھلاڑی کی سفارش بھی درکار ہوتی ہے، شاہد اس میں صداقت ہو بھی اور نہ بھی لیکن
ممکن ہے کیونکہ عوام و الناس کی اکثریت یہی سمجھتی ہے قومی ٹیم میں جانے کے لیے
سفارش و پیسہ بہت ضروری ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کو سوچنا ہو گا
اگر انھوں نے کرکٹ کی بھلائی اور بہترین ٹیلنٹ کو لانا ہے تو غریب کے بچے کو موقع
دینا ہو گا ورنہ جس طرح کے برگر و پیپمرز بچے قومی ٹیم میں کھیل رے ہیں جنکے پاس
کوئی پروفیشنل کرکٹ نہیں ہے، جو صرف و صرف قومی ٹیم پر بوجھ ہیں اور یہ کھلاڑی ملک
و قوم کو ہمیشہ مایوس کرتے ہیں جو انتہائی افسوسناک ہے۔
Please,
Like/Comments/Share
Comments
Post a Comment
For More Information Please Comments.