t-20 Final Pakistan vs England
ٹی۔20 فائنل میچ
پاکستان بمقابلہ انگلینڈ
تحریر: بشارت موسوی
آج مورخہ 13 نومبر 2022 بروز اتوار ٹی-20 ورلڈ کپ کے سلسلہ کا فائنل میچ پاکستان بمقابلہ انگلینڈ ملبرن کرکٹ گراونڈ آسٹریلیا میں پاکستانی وقت کے مطابق 1 بجے کھیلا گیا۔
انگلینڈ کے کپتان جوس بٹلر نے ٹاس جیت کر پہلے باولنگ کرنے کا فیصلہ کیا ان کا پہلے باولنگ کرنے فیصلہ کافی درست تھا کیونکہ انکے پاس رنز چیس کرنے کے لیے بہترین بیٹنگ لائن موجود تھی، انگلینڈ کی مینجمنٹ کو اندازہ تھا وہ اپنی اچھی بیٹنگ لائن کی بدولت میچ بآسانی جیت سکتے ہیں اور مخالف ٹیم کو کم سے کم اسکورز پر آوٹ کر کے میچ جیت سکتے ہیں۔
آج انگلینڈ کی ٹیم نے بہترین پلاننگ کی پاکستان کے بیٹسمینوں سے غلطیاں کروائی گئیں رنز کو روکا گیا، انگلینڈ کے باولرز نے بہت ہی اعلی باولنگ کا مظاہرہ کیا۔
پاکستان کے کپتان بابر اعظم اور محمد رضوان نے اننگز کا آغاز کیا لیکن محمد رضوان فائنل میچ میں اپنی کارکردگی نا دکھا سکے ایک بائر جاتی ہوئی بال کو کھیلتے ہوے بولڈ آوٹ ہو گئے، ان کے جانے کے بعد رنز بنانے کی سپیڈ بھی کم ہو گئی بابر اعظم تیز کھیلنے کی کوشش کرتے رے لیکن انگلینڈ کے باولرز کی عمدہ باولنگ نے تیز رنز بنانے سے روک دیا۔
نوجوان بیٹسمین محمد حارث بھی اچھی بیٹنگ کا مظاہرہ نا کر سکے وہ کیچ آوٹ ہو گئے، محمد افتخار جنھیں بطور الراونڈر کھیلایا گیا تھا ٹیم کے لیے اچھی بیٹنگ کرنے میں بری طرح ناکام رے وکٹ سے بائر جاتی ہوئی بال کو کھیل کر اہم موقع پر وکٹ گنوا بیٹھے اور ٹیم مزید پریشر میں چلی گئی۔
کپتان بابر اعظم بھی 28 گیندوں پر 32 رنز بنا کر آوٹ ہو گئے، شان مسعود نے ٹیم کے لیے رنز بنانے کی ہمت کی 28 گیندوں پر 38 رنز بنانے کے بعد غیر ذمہ دارانہ شاٹ کھیل کر کیچ آوٹ ہو گئے، الراونڈر شاداب خان نے 14 گیندوں پر 20 رنز کی اننگز کھیلی اور کیچ آوٹ ہو گئے، انکے آوٹ ہونے کے بعد کوئی بھی کھلاڑی ذمہ دارانہ بیٹنگ نا کر سکا اننگز کے آخری اوورز میں بہت ہی کم رنز بنائے گئے۔
پاکستان نے مقررہ 20 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 137 رنز بنائے اور انگلینڈ جیسی مضبوط بیٹنگ لائن کو میچ جیتنے کے لیے صرف 138 رنز کا آسان ہدف دیا گیا۔
کرکٹ ایکسپرٹ اور میرے نزدیک ٹیم نے 20 سے 25 رنز کم بنائے ہیں، اگر ٹیم آخری اوورز میں شاٹس یا باؤنڈری لگانے کے بجائے سنگل ڈبل کر کے رنز بنانے کی کوشش کرتی یقینن ٹیم 165 سے 170 رنز کا ہدف حاصل کرلیتی تو ٹیم میچ جیتنے کی پوزیشن میں آ سکتی تھی۔
انگلینڈ کے نوجوان فاسٹ باؤلر سام کرن نے بہترین باولنگ کا مظاہرہ کیا انھوں نے پاکستانی بیٹسمینوں کو سخت پریشان کیا انھیں آزادانہ و من پسند شاٹس کھیلنے سے روکا، انھوں نے 4 اوورز میں 12 رنز دیکر 3 قیمتی وکٹیں حاصل کیں جبکہ انگلینڈ کے سپین باولرز عادل رشید نے 4 اوورز میں 22 رنز دیکر 2 کھلاڑیوں کو اوٹ کیا اور فاسٹ باؤلر کرس جارڈن نے بھی 4 اوورز 27 رنز کے حوض 2 وکٹیں حاصل کیں۔
انگلش ٹیم کے باولرز کی خاص بات انھوں نے پاور پلے کے 6 اوورز بہت اچھے کیے اور ایک پلاننگ کے تحت پاکستانی بیٹسمینوں کو اوٹ کیا اور میچ کو اپنے کنٹرول میں رکھا۔
انگلش ٹیم نے ہدف کے تعاقب میں اپنی اننگز کا جارحانہ انداز میں آغاز کیا اور پاکستانی باولرز کی لائن و لینتھ کو خراب کیا عمدہ بلے بازی کی۔
پاکستان نے انگلینڈ کے جارحانہ انداز میں بیٹنگ کرنے والے بیٹسمین ہیلس ہیلز کو جلدی آوٹ کر دیا لیکن کپتان جوس بٹلر کو جلدی آوٹ نا کر سکے جوس بٹلر نے پاکستانی باولرز پر اٹیک کیا اور بہترین شاٹس کھیلے پاور پلے کے 6 اوورز میں انگلینڈ نے اچھا سکور کیا اور کم وکٹیں دیں۔
جوس بٹلر جب آوٹ ہوے تو انگلینڈ میچ جیتنے کی پوزیشن میں پہنچ چکا تھا، جوس بٹلر نے17 گیندوں پر 26 رنز بنائے اور کیچ آوٹ ہو گئے، نئے آنے والے بیٹسمین سالٹ جلدی آوٹ ہو گئے، لیکن میڈل آرڈر بیٹسمین بن سٹروک نے بہترین اننگز کھیلی پاکستانی باولرز کی خوب دھلائی کی، بعد میں آنے والے بیٹسمین ہیری بروک نے بھی عمدہ بیٹنگ کی انھوں نے 23 گیندوں پر پریشر صورت حال میں 20 رنز بنائے اور آوٹ ہو گئے، ان کے بعد آنے والے الراونڈر بیٹسمین میعین علی نے بن سٹروک کا بھر پورساتھ دیا بن سٹروک نے بہترین بیٹنگ کا سلسلہ جاری رکھا ٹیم کے سکور کو آگے بڑھاتے رے اور ٹیم کی کامیابی کو یقینی بناتے گئے۔
انگلش ٹیم نے الراونڈر بن سٹروک کی ذمہ دارانہ اننگز کی بدولت ہدف بآسانی حاصل کر لیا، بن سٹروک نے49 گیندوں کی مدد سے 52 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی اور ٹیم کیلئے مطلوبہ ہدف 138 رنز 5 وکٹوں کے نقصان پر 19 اوورز میں حاصل کر لیا جبکہ اننگز کی ابھی 6 گیندیں باقی تھیں۔
اسطرح انگلینڈ دوسری مرتبہ ٹی-20 ورلڈ کپ کا چیمپئین بن گیا۔
پاکستان کی جانب سے غیر ذمہ دارانہ باولنگ کا مظاہرہ کیا گیا فاسٹ باؤلر شائین شاہ آفریدی اور حارث راوف نے قدرے بہتر باولنگ کی جبکہ نوجوان فاسٹ باؤلر نسیم شاہ نے غیر ذمہ دارانہ باولنگ کا مظاہرہ کیا ان کے ابتدائی اوورز میں رنز زیادہ بنے جس کی وجہ سے انگلش ٹیم کو موقع ملا وہ من پسند شاٹس کھیلے اور پاور پلے میں زیادہ رنز بنا سکے۔
نسیم شاہ اور افتخار احمد کی غیر ذمہ دارانہ باولنگ کی وجہ سے انگلش ٹیم ہدف کو حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔
پاکستان کو باولنگ میں بڑا نقصان اس وقت ہوا جب شائین شاہ آفریدی میچ کے اختتامی اوورز میں ایک کیچ پکڑتے ہوئے آن-فٹ ہو گے انھوں نے اپنے اننگز کے 1-2اوورز کیے اور 13 رنز دیکر 1 کھلاڑی کو اوٹ کیا جبکہ حارث راوف نے 4 اوورز میں 23 رنز دیکر 2 کھلاڑیوں کو اوٹ کیا، شاداب خان نے 4 اوورز میں 20 رنز دیکر 1 کھلاڑی کو آوٹ کیا۔
آج ورلڈ کپ کے فائنل میچ میں پاکستان کی بیٹنگ سے لگ رہا تھا کوئی گلی محلے کے بچے کرکٹ کھیل رے ہیں میچ کی اہمیت اور گراونڈ کی صورت حال کو نا سمجھا گیا کیوں کہ وکٹ بہت سلو تھی پاکستانی بیٹسمین گیند کو باؤنڈری سے بائر پھینکنے میں مکمل ناکام نظر آئے، کسی بھی بیٹسمین سے شاٹس نہیں لگ رہی تھی ایسا لگ رہا تھا پاکستانی بیٹسمین ہر بال پر چھکا لگانا چاہتے ہیں، اننگز کے اختتامی اوورز میں جہاں عقل و ہوش سے بیٹنگ کرنا چاھیے تھی ٹیم کے سکور کو سنگل ڈبل کر کے بڑھایا جا سکتا تھا لیکن وہاں دیکھا گیا ہر کھلاڑی سنگل ڈبل نہیں کرنا چاہتا وہ اتنی جلدی میں لگا جیسے اس نے کسی ائیر فلائیٹ کو پکڑنا ہے تاکہ لیٹ نا ہو جائے۔
حتی کہ تجربہ کار بیٹسمین شان مسعود جو کہ سیٹ تھے اور اچھا کھیل رے تھے انھیں معلوم تھا وکٹ سلو ہے شاٹس کھیلنے میں دشواری ہو رہی اسکے باوجود انھوں نے بھی ہوا میں شاٹ کھیلی اور آوٹ ہو کر پویلین لوٹ گئے اس وقت اہم صورت حال میں ان کا اسطرح آوٹ ہونا ٹیم کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا، شان مسعود سنگل و ڈبل رنز بناتے رہتے تو ٹیم یقینن 165 یا 170 رنز کا ہدف بورڈ پر سجانے میں کامیاب ہو جاتی تو میچ کو جیتنے میں مدد مل سکتی تھی۔
آج کپتان بابر اعظم بھی بھر پور دباو میں کھیلے سیمی فائنل کی طرح بیٹنگ نا کر سکے عادل رشید کی سلو باولنگ پر ایک عجیب و غریب شاٹس کھیل کر آوٹ ہو گئے۔
آج کے میچ میں پاکستان ٹیم کے لیے ایک اچھے الراونڈر کی شدت سے کمی محسوس کی گئی۔
آج کے اہم میچ میں افتخار احمد جو کہ ایک ناکام الراونڈر ہے کھلایا گیا، انکی جگہ پر کسی اچھے الراونڈر یا آصف علی کو موقع ملنا چاہیے تھا۔
میچ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے نوجوان فاسٹ باؤلر سام کرن کو میں آف دی میچ کا ایوارڈ دیا گیا
ٹورنامنٹ کے بہترین کھلاڑی بھی سام کرن رے انھیں بہترین کارکردگی پر مین آف دی ٹورنامنٹ کا ایوارڈ دیا گیا۔
بہت ساری مبارکباد ٹیم انگلینڈ کے لیے۔
Please, Like/Comment & Share
Comments
Post a Comment
For More Information Please Comments.