دورِ حاضر میں یزیدیوں کی پہچان | فلسطین، کربلا، عرب امارات اور پاکستانی محنت کشوں کی دردناک حقیقت

Image
  دور حاضر میں یزیدیوں کی پہنچان   تحریر:   بشارت موسوی     امام حسینؑ اور اہلِ بیتؑ کی عظیم قربانی  یہ تحریر سانحۂ کربلا، امام حسینؑ کی عظیم قربانی، فلسطین پر جاری مظالم، عرب امارات میں پاکستانی محنت کشوں کے خلاف کارروائیوں اور موجودہ دور میں یزیدی سوچ کے مختلف پہلوؤں پر مبنی ہے۔ میں نے اسلامی تاریخ اور موجودہ عالمی حالات کو جوڑتے ہوئے اپنے خیالات پیش کیے ہیں۔ امام حسین علیہ السلام اور انکے خاندان کو یزید نے کربلا کے مقام پر شہید کیا  امام علیہ السلام کو شہید کرنے کے بعد مختلف جگہوں پر جشن منایا گیا امام علیہ السلام         کے سر مبارک  کو پامال کیا گیا ، اس شہزادے کے سر کی بے حرمتی کی گئی جسے رسول ص اپنے کندھوں پر سوار کرتے  تھےاپنے شہزادوں کو گھوڑ سواری  کرواتے تھے،  امام حسین علیہ السلام کی اس عظییم الشان قربانی کو  تاریخ نے محفوظ کیا ہے، آج پوری دنیا امام حسین  علیہ السلام کی بچوں کے ساتھ دین محمدی ص کے لیے دی گئی عظیم قربانی کو یاد کرتی ہے۔   بیشک     " قتل حسین  ...

Comedian Aman Allah Khan Death / کامیڈین امان اللہ خان کی وفات

                                     

       Comedian Aman Ullah Khan Death

       کامیڈین امان اللہ خان کی وفات    

                                تحریر: بشارت موسوی

 گزشتہ روز انتقال ہو گیا وہ کافی عرصہ سے پھیپھڑوں اور دیگر امراض میں مبتلا تھے، موت بر حق ہے اور ہر انسان نے واپس اللہ کے پاس لوٹ کر جانا ہے اس میں چائے کوئی کتنا بڑا امیر کیوں نہ ہو اس نے بھی موت کا مزہ چکھنا ہے، امان اللہ خان نے پاکستان کے لیے بہت کام کیا اور خوب شہرت پائی گورنمنٹ آف پاکستان کی طرف سے انھیں بہترین کارکردگی کی بنیاد پر آعلی اعزازات سے بھی نوازا گیا، وہ لوگوں کو خوش کرتے رے اور انکے لیے اچھے اچھے مزاحیہ کردار ادا کرتے رے اور لوگوں کے دکھوں کو تھوڑی دیر کے لیے آپنی ہنسی مذاق سے کم کرتےرے اور ان میں خوشیاں بانٹتے رے، وہ آپنے دکھوں کو بھلا کر لوگوں کو خوش کرتے رے۔

میں نے مشہور ڈرامہ آرٹسٹ جناب عرفان کھوسٹ صاحب کی ٹی۔وی پر ٹیلفون کال سنی جس میں انھوں فرمایا امان اللہ خان ایک اچھا انسان تھا دوسروں کے دکھ درد کو سمجھتا تھا اور انکے مسائل کو حل کرنے میں آپنا کردار ادا کرتا تھا، انھوں نے مزید بتایا کہ انکی الیکٹرک کی شاپ تھی امان اللہ خان اکثر مہینے میں ایک دو اشیاء خریدتا تھا، انکا کہنا تھا ایک دن میں نے پوچھا یہ چیزیں کیوں خریدتے ہو اور کس لیے آپ کے پاس تو اللہ کا دیا سب کچھ  ہے،  تو امان اللہ خان نےجواب دیا، خاندان یا کسی بھی عزیز جسکی بچی کی شادی ہو یا کسی کے پاس یہ چیزیں نہ ہوں انھیں دے دیتا ہوں۔

آفسوس کی بات ہے جب انکا انتقال ہوا انھیں لاہور پیراگون سوسائٹی کے قبرستان میں لجایا گیا جہاں انکی تدفین ہونا تھی، پیراگون سوسائٹی والوں نے قبر کھودنے سے روک دیا اور کہہ دیا یہ ایک میراثی تھا اسکی یہاں کوئی جگہ نہیں اور اسے یہاں پر نہ دفنایا جائے، یہ ایک تکلیف دے عمل تھا جس سے ہر اس انسان کو دکھ پہنچا جس کے اندر اللہ کا خوف اور کچھ انسانیت باقی تھی۔

پیراگون سوسائٹی والوں نے بلکل انکار کیا تو گورنمنٹ تک بات پہنچی جس میں جناب فیاض الحسن چوہان صاحب کو بلایا گیا اور انھوں نے قبرستان پہنچ کر سوسائٹی والوں سے بات کی اور پھر قبر کھودی گئی اور امان اللہ خان کو دفنایا گیا۔

بہت دکھ اور افسوس ہوا ہم آپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں ہمیں آخرت کا خوف نہیں اور ہم میں انسانیت نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی۔

پیراگون سوسائٹی والوں میں انسانیت نام کی کوئی چیز نہیں انھیں زرا بھی خیال نہیں آیا کہ انھوں نے بھی ایک دن اسی مٹی میں جانا ہے ایک انسان دنیا سے چلا گا اسکا جو بھی فیل تھا وہ اسکا اور اللہ کا معاملہ ہے اللہ اسے جو بھی سزا دے یہ ساری باتیں صرف اللہ ہی جانتا ہے، اسطرح کہہ دینا فلاں میراثی تھا یا کچھ اور، سوسائٹی والوں کے اس اقدام سے پوری دنیا میں بہت ہی غلط پیغام گیا اور مسلمانوں کے سر شرم سے جھک گئے۔ 

کیا یہ لوگ مسلمان کہلانے کے لائق ہیں؟ 

یہ بات بھی دیکھی گئی قبرستان میں ایک مولانا بھی موجود تھا جو سوسائٹی کا کرتا دھرتاتھا وہ بھی سوسائٹی میں قبر کے لیے جگہ نہ دینے پر باضد تھا، افسوس اسطرح کے لوگ کسطرح انسانیت کی تذلیل کا باعث بنتے ہیں اور ان میں زرا برابر بھی شرم نام کی کوئی چیز نہیں پائی جاتی " آفسوس"

اللہ سے دعا ہے اللہ ہم سب کو سچا اور رائے حق پر چلنے والا مسلمان بنائے اور صحیح معنوں میں قرآن و سنت پر عمل کرنے والا مسلمان بنائے۔

 آمین یا ربالعالمین

Comedian Aman Ullah Khan Death

Please, Like / Comments / Share

    

Comments

Popular posts from this blog

سید محسن رضا کاظمی الحمیدی

تین بہن بھائیوں کی درد ناک داستان

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے لیے فرمایا