دورِ حاضر میں یزیدیوں کی پہچان | فلسطین، کربلا، عرب امارات اور پاکستانی محنت کشوں کی دردناک حقیقت
"My Body is my Will"
تحریر: بشارت موسوی
میرا جسم میری مرضی" کا پہلا نتیجہ سامنے آگیا۔
پندرہ سالہ لڑکی نے اپنے باپ کو گولیاں مار کر قتل کر دیا۔
لڑکی کا کہنا ہے کہ میرا باپ مجھے میرے یار سے ملنے سے روکتا تھا اس لیے قتل کر دیا۔
اس قتل کے تمام تر وہ لوگ ذمہ دار ہیں جو پاکستان میں حقوق نسواں کی آڑ میں معاشرے میں بے حیائی کو فروغ دینا چاہتے ہیں، جس کے نتیجے میں آج ایک باپ اپنی ہی بیٹی کے ہاتھوں زندگی کی بازی ہار گیا۔
اس قتل پر تمام لبرل اور عیاش پسند لوگ ایسے خاموش ہیں جیسے انہیں سانپ سونگھ گیا ہو
حکومت وقت سے گزارش ہے جو لوگ حقوق نسواں کی آڑ میں بے حیائی کو پاکستان میں فروغ دے رہے ہیں ان سب کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کی جائے، اور ایسے لوگوں کے اوپر سوشل میڈیا اور تمام ٹی۔وی چینلز پر بھی پابندی لگائی جائے جو بے حیائی کو پروموٹ کر رے ہیں اور بے حیائی کی کھل کر حمایت کر رے ہیں، پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے اور اسلامی ریاست میں بے حیائی کا کیا کام ہے؟
اس عجیب و غریب نعرے کے خلاف ملک کی تمام مذہبی جماعتوں کو مل جل کر کوئی لائحہ عمل تیار کرنا چاہیے کیونکہ اسلام میں عورت کا ایک بڑا مقام ہے لیکن اسلام نے یہ کبھی نہیں کہا کہ کوئی بچی یا عورت آپنے باپ و عزیز واقارب کو قتل کرے اور آپنی مرضی سے آپنے دوست / یار کے ساتھ بھاگ جائے اور والدین کے ساتھ دھوکہ کرے، وہ والدین جو بچپن سے جوانی تک بچوں کے کھانے پینے تعلیم و لباس کا خیال رکھتے ہیں لیکن جب وہ آپنی خواہشات اور بچوں کے روشن مستقبل کے لیے کوئی اچھا فیصلہ کریں اور شادی کرنا چائیں تو اولاد انکی خوائش اور عزت کو معاشرے میں تار تار کردیں اور آپنی مرضی کا فیصلہ کریں، یہ بات اسلام میں نہیں ہے اسلام میں بچی کی رضا مندی کا ذکر کیا گیا ہے
مرد اور عورت دونوں کو اللہ نے ایکدوسرے کے لیے خلق کیا ہےاور دونوں ایک دوسرے کی ضرورتیں ہیں اللہ نے دونوں کو خوب مقام دیا ہے اور دونوں ایک دوسرے کے لیے اہم ہیں۔
مرد عورت کے بغیر نا مکمل ہے اور عورت مرد کے بغیر نامکمل ہے۔
اسلام کے دائرے میں رہتے ہوے عورت کو بھی خوب مقام حاصل ہے کیونکہ اسلام میں عورت کی شادی کے موقع پر رضامندی کو لازمی قرار دیا ہے اور پورا حق دیا ہے وہ فیصلہ کرے وہ آپنے ہونے والے مزاجی خدا کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتی ہے یا نہیں۔
اس لیے ایک اسلامی معاشرے میں عورت کو بھی یہ حق حاصل ہے وہ قرآن و حدیث کے مطابق با عزت زندگی گزار سکے-
جو عورتیں یہ نعرہ لگا رہی ہیں "میرا جسم میری مرضی" ان کو چاہیے دین اسلام کا مطالعہ کریں اور معاشرے کو نہ خراب کریں کیونکہ اس بے ہودہ نعرے کا اسلامی معاشرے سے کوئی تعلق نہیں ہے اسطرح کے نعرے سے معاشرے میں آنے والی نسلوں پر برے اثرات مرتب ہوں گئے۔
اگر اولاد والدین سے نافرمانی کرے جسطرح اس 15 سال کی بچی نے آپنے سگے باپ کو آپنی ناجائز خوائش کو پورا کرنے کے لیے گولیاں مار دیں اور اسے موت کے گھاٹ اتار دیا، اس دلخراش واقع کا کون زمہ دار ہے
کیا یہاں ماروی سرمد کا یہ بے ہودہ نعرہ " میرا جسم میری مرضی" درست ہے؟
کیا جو لوگ ماروی سرمد کے حق میں بول رے ہیں یہ لوگ ٹھیک اور حق پر ہیں؟
کیا اسلامی معاشرے میں اس طرح کے غلیظ اور گندے نعرے کا لگنا درست ہے؟
کیا اسطرح کے بے ہودہ اور گندے نعرے سے معاشرے کے نوجوانوں اور نئی نسل پر برے اثرات مرتب نہیں ہوں گئے؟
اللہ سے دعا ہے، اللہ ان بے حیاء عورتوں کو ہدایت دے اور اسلام و حدیث کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق دے، اللہ نیک، صالح اور فرمانبرداراولاد عطا فرمائے، جو دین محمدی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے مطابق زندگی گزارے۔
آمین یا رب العالمین
Please, Like / Comments / Share
Comments
Post a Comment
For More Information Please Comments.