دورِ حاضر میں یزیدیوں کی پہچان | فلسطین، کربلا، عرب امارات اور پاکستانی محنت کشوں کی دردناک حقیقت
(FATF) ایف۔اے۔ٹی۔ایف
Financial Action Task Force (FATF)
تحریر: بشارت موسوی
یہ ادارہ و تنظیم (فنانس ایکشن ٹاسک فورس) کے نام پر 1989 کو بنایا گیا تھا، جسے فرانسیسی زبان"گروپ ڈی ایکٹیشن فنانسری" کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، یہ ایک بین الااقوامی، تنظیم ہے، جس کا مقصد جی 7 ممالک کے منی لانڈرنگ سے نمٹنے کے لیے پالیسیوں کو تیار کرنے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔
سن2001 میں، اس کے مینڈیٹ میں توسیع کرکے دہشت گردی کی مالی معاونت شامل کی گئی تھی، اس تنظیم کا ہیڈ کوارٹر پیرس، فرانس میں قائم ہے اور اسکا صدر مقام مارکس پلیئر کے نام سے قائم کیا گیا ہے۔
اس تنظیم کے کل ارکان کی تعداد 39 ہے۔
ان میں 37 ارکان کا کام دائرہ اختیارات اور 2 ارکان کا تعلق علاقائی تنظیمیں"خلیج تعاون کونسل اور یورپی کمیشن، کے معاملات کو دیکھنا شامل ہے۔
اس تنظیم کا مقصد جنگی پیسہ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کو دیکھنے اور روکنے کے لیے عالمی کوششوں کا ایک بہترین مرکز کے نام سے جانا و پہچانا جاتا ہے۔
اس تنظیم میں 31 بین الاقوامی اور علاقائی تنظیمیں بھی شامل ہیں، جو ایسوسی ایٹ ممبر یا ایف۔اے ٹی۔ایف کے مبصرین ہیں اور اس کے کام میں حصہ لیتی ہیں۔
اسکے بنانے کا مقصد جنگی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام ہے۔
اس کی سرکاری زبان انگریزی اور فرانسیسی ہے۔
اس تنظیم کے بارے میں زیادہ تر لوگوں کو کوئی خاص علم نہیں تھا، پاکستان میں اس ادارے کے بارے میں سوشل میڈیا پر کثرت سے ذکر ہوا، کیونکہ چند سال قبل سابقہ حکومتوں کی نالائقی کی وجہ سے اس تنظیم نے پاکستان پر منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی معاونت کرنے پر فائنانس پابندیاں لگا دی تھیں، پاکستان کو گرے لسٹ کی کیٹگری میں شامل کر لیا گیا تھا، اور پاکستان کو 27 شرائط پر کام کرنے کو کہا گیا تھا، جس پر موجودہ حکومت نے ان تھک محنت اور کوششوں سے دی گئی26 شرائط پر عمل درامد کیا اور انھیں بروقت مکمل کر لیا گیا تھا۔
جون 2021 میں امید لگائی جا رہی تھی کہ پاکستان کو 26 جون کے اجلاس میں گرے لسٹ سے نکال دیا جائے گا اور پاکستان کے اوپر سے پابندیاں ختم ہو جائینگی، جسکے بعد پاکستان مزید ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائیگا۔
لیکن ایف۔اے۔ٹی۔ایف کے اجلاس سے قبل ایک امریکی صحافی پاکستان آیا اور اس نے وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان سے انٹرویو لیا اور سوال کیا کہ "آپ امریکہ کو اپنی سر زمین فراہم کریں گئے جہاں سے افغانستان پر حملہ کیا جائے"؟
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا "بلکل نہیں" صحافی نے دوبارہ پوچھا وزیرآعظم نے پھر کہا "بلکل نہیں" وزیراعظم کا یہ انٹرویو پوری دنیا میں آگ کی طرح پھیل گیا اور پوری دنیا نے اس پر تبصرے و تجزیے کیے۔
ایف۔اے۔ٹی۔ایف کا اجلاس 26 جون کو ہوا، جہاں یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ پاکستان ایف۔اے۔ٹی۔ایف کی پابندیوں سے نکل جائیگا۔
لیکن مختلف تجزیہ نگاروں کا خیال تھا اگر اس ادارے کو سیاسی مقاصد کےلیے نہ استعمال کیا گیا تو پاکستان پر پابندیاں ختم ہو جائیں گی، اگر وزیر اعظم کے امریکی جریدے کے انٹرویو کو دیکھا گیا تو پاکستان پر پابندیاں بر قرار رہنے کا امکان ہے۔
ایف۔اے۔ٹی۔ایف کے اجلاس کے بعد یہ بات درست ثابت ہوئی، وزیر اعظم کے انٹرویو کو دیکھا گیا اور پاکستان پر پابندیاں بر قرار رکھی گئیں، پاکستان کو مزید گرے لسٹ میں رکھ دیا گیا اور مزید شرائط تھما دیں گئیں، جو کہ پاکستان کے ساتھ ایک بہت بڑی زیادتی اور بلنڈر ہے۔
یہاں پر پتہ چلتا ہے، یہ ادارہ و تنظیم ایمانداری کے ساتھ کام نہیں کر رہا ہے، کیونکہ اسکے فیصلوں میں سیاسی مداخلت شامل ہو گئی ہے اور پاکستان کو مزید شرائط پوری کرنے کو کہا گیا ہے، یہ پاکستانی قوم کے ساتھ بہت بڑی زیادتی کی گئی ہے۔
پاکستانی قوم اس زیادتی پر افسردہ ہے اور تکلیف میں ہے۔
اگر ہمسایہ ممالک کو بغور دیکھا جائے، جہاں قتل و غارت کا سلسلہ زور شور سے جاری ہے، اور کشمیر میں دہشت گردی کی انتہا ہے لیکن وہاں پر اس تنظیم کو کچھ نظر نہیں آیا۔
بات صاف ظائر ہے، اسلامی ممالک میں پاکستان پہلہ ایٹمی سپر پاور ملک ہے، جو یہود و نصارہ کو پسند نہیں ہے، یہود و نصارہ چاہتے ہیں پاکستان کو ہر لحاظ سے کمزور سے کمزور تر کر دیا جائے، اسے قرضوں میں دبایا جائے، اسے معاشی لحاظ سے کمزور کر دیا جائے۔
بظائر ایف۔اے۔ٹی۔ایف کا مقصد کمزور ممالک کو دبانا ہے انھیں ترقی نہیں کرنے دینا ہے، ان پر اپنی اجارہ داری قائم رکھنا ہے۔
اس لیے سابقہ حکومتوں کی غلط پالیسیوں اور لوٹ مار کی وجہ سے ملک کی معیشت خراب سے خراب تر ہوئی، موجودہ حکومت کی مثبت پالیسوں کے باعث ملک کچھ بہتر ہوا ہے۔
موجودہ حکومت کوشش کر رہی ہے، پاکستان پر لگی اقتصادی پابندیاں جلد از جلد ختم ہوں اور ملک تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائے۔
ایف۔اے۔ٹی۔ایف کے غلط فیصلے سے پاکستانی قوم شدید غصے میں ہے اور رنجیدہ ہے۔
امید کی جاتی ہے، ایف۔اے۔ٹی۔ایف اپنے کیے گئے فیصلے پر غور کرے گی اور پاکستان کو گرے لسٹ سے جلد از جلد بائر نکالے گی۔
اگر ایف۔اے۔ٹی۔ایف نے اپنے غلط فیصلے اسی طرح مسلت کیے، تو حکومت پاکستان کو بھی مثبت ایکشن لینا ہو گا اور یہود و نصارہ کو منہ توڑ جواب دینا ہو گا۔
مسلمان کا اللہ کی زات پر یقین کامل ہے، اللہ ہی اس ساری کائنات کا مالک و قابض ہے اور ہر طرف اسی کی بادشاہت ہے، اسکے مقابلے میں جو بھی آیا وہ تباہ و برباد ہوا۔
انشاءاللہ یہ یہود و نصارہ بھی تباہ و برباد ہوں گئے۔
اللہ سے دعا ہے اللہ پاکستان کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے، اور اسکے اندرونی و بیرونی دشمنوں کو نیست و نابود، تباہ و برباد کرے۔
آمین یا رب العالمین
FATF Financial Action Task Force
Please, Like / Comments / Share
Comments
Post a Comment
For More Information Please Comments.