دورِ حاضر میں یزیدیوں کی پہچان | فلسطین، کربلا، عرب امارات اور پاکستانی محنت کشوں کی دردناک حقیقت
انسان کی عقل اور علم کی طلب
Man`s Intellect & Desire for Knowledge
تحریر: بشارت موسوی
اللہ نے انسان کو آشرف المخلوقات میں سے بنایا یعنی انسان کو ایک بلند و بالا مقام و رتبہ دیا اور تمام مخلوقات میں سے انسان کو افضل قرار دیا۔
اللہ نے انسان کے اندر شعور و عقل جیسی عظیم نعمت عطا فرمائی جسکے ذریعے انسان اپنی زندگی و مستقبل کے لیے سوچ وچار اور بہترین فیصلے کر سکتا ہے۔
وقت کے ساتھ ساتھ انسان اس دنیا میں ترقی کرتا چلا گیا، اپنے عقل و دماغ کو استعمال کرتے ہوے دنیاوی علوم کو حاصل کرنے کی کوشش جاری رکھی اور کئی تجربات کیے۔
انسان نے اپنی تحقیق و جستجو کو جاری رکھا اور جدید علوم کو حاصل کرنے کے لیے تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا اور ان تحقیقات کو تجربات تک لے آیا، جنکی بدولت انسان نے سائنسی علوم پر عبور حاصل کیا اور آج سائنسی ایجادات کی دریافت کے بعد انسان اس دنیا میں اپنا ایک بڑا اور عظیم مقام رکھتا ہے۔
انسان نے فلکیات کا علم حاصل کیا جہاں سے وہ اپنے علم کے مطابق آسمان پر موجود بادلوں کی حرکت کو دیکھتے ہوے علم کی روشنی میں بتانے کے قابل ہےکہ بادل کہاں اور کس مقام پر اکٹھے ہوں گئے، کہاں پر آپس میں ٹکرائیں گئے اور زمین کے کس مقام پر بارش ہونے کا امکان ہو گا، اس سلسلہ میں انسان نے تجربات کی روشنی میں ایک موسمی آلہ بنایا جو بارش کے ہونے کا تعین کرتا ہے،اسی علم کی بدولت بارش کے ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں بتایا جا سکتا ہے، یہ انسان کی علمی لحاظ سے ایک بڑی تحقیق تھی۔
مسلمان کا یقین کامل ہے، بارش صرف اور صرف خالق کائنات عظیم اللہ ہی برسا سکتا ہے، انسان جو بھی بات کرتا ہے یہ صرف اور صرف اپنے علم کی روشنی میں کرتا ہے، باقی زمین و آسمان کے سارے راز اللہ رب العزت کے پاس ہیں، وہی پوری کائنات کا خالق و مالک ہے۔
انسان پہلے میلوں پیدل سفر کرتا تھا، انسان نے اپنے عقل کو استعمال کرتے ہوے اپنی سہولت کے لیے گاڑی بنائی اور اسی گاڑی پر تحقیق جاری رکھی اور اسے جدید سے جدید کرتا چلا گیا آج انسان نے آٹو جدید گاڑیاں بنا لی ہیں جن سے بھر پور فائدہ اٹھا رہا ہے۔
انسان اپنے ملک سے دوسرے ممالک میں اونٹوں یا گھوڑوں ذریعے سفر کرتا تھا لیکن انسان نے عقل کو استعمال کرتے ہوے اپنے لیے جہاز و بہری جہاز بنائے جنکے ذریعے سفر کرنا آسان ہو گیا۔
آج کی جدید دنیا میں انسان نے جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوے جدید جہاز اور جنگجو جہاز بھی بنا ڈالے ہیں جو دشمن کے ساتھ بھر پور مقابلہ کر سکتے ہیں اور جنگ کو جیتا جا سکتا ہے۔
ایک وقت تھا جب انسان کو پیغام رسانی کے لیے مشکلات درپیش تھیں، انسان بمشکل اپنا پیغام دوسرے شہر و ممالک پہنچا پاتا تھا، پیغام کو پہنچنے میں کئی ماہ و سال لگ جاتے تھے، لیکن انسان کی عقل و تحقیق نے اس مسلے کا ٹیلیفون کال کے ذریعے حل نکالا، لیکن تحقیق جاری رکھی ٹیکنالوجی میں جدت آتی گئی اور انسان ٹیلیفون سے موبائیل فون پر پہنچ گیا، موبائیل فون بنا ڈالا آج جب جی چائے پوری دنیا میں کئی بھی فون کے ذریعے منٹوں اور سیکنڈ میں پیغام بھیجا جا سکتا ہے۔
انسان کی عقل نے فیکس مشین جیسی جدید ٹیکنالوجی تیار کر لی جسکے ذریعے انسان نے خط و کتابت کو آسان سے آسان اور تیز سے تیز سروس بنایا، جو کسی بھی قسم کے خط کو مشین کے ذریعے منٹنوں اور سیکنڈز میں اندرون و بیرون ملک آسانی سے بھیجا جا سکتا ہے، یہ انسانی دماغ کا ایک بہترین شاہکار ہے۔
انسان دن بدن نئی ٹیکنالوجی کو متعارف کروا رہا ہے جس سے انسان کے علم کی جستجو کی ترجمانی ہو رہی ہے، انسان کا جدید علم حاصل کرنا اللہ کی اطاعت ہے کیونکہ اللہ ہی ہے، جس نے انسان کو آشرف المخلوقات بنایا اور انسان کو ہر طرح نعمت بخشی۔
انسان کی ترقی میں انٹرنیٹ کی دنیا میں ایک بڑا کارنامہ ہے، کیونکہ انسان نے جب اس ٹیکنالوجی کو متعارف کروایا "تو یہ کہنا درست ہوگا" کہ انسان نے پوری دنیا کو قریب سے قریب تر کر دیا ہے، ہزاروں میلوں کے فاصلوں کو نزدیک سے نزدیک تر کر دیا ہے، انٹرنیٹ کنکٹ کرنے کے بعد انسان دنیا کے کسی کونے میں بذریعہ انٹرنیٹ ویڈیو اور وائس کال کے ذریعے اپنوں سے بات چیت کرتا ہے اور انھیں اپنے قریب تر پاتا ہے۔
انسان کی علم حاصل کرنے کی جستجو ابھی رکی نہیں ہے مزید جدت آتی جا رہی ہے اور انسان روزمرہ کی چیزوں کو جدت دے رہا، انسان اعلی سے اعلی جنگی سازو سامان تیار کر رہا ہے، ایک وقت تھا جب انسان تلواروں، تیروں اور نیزوں کے ذریعے جنگ لڑتا تھا، انسان نے ان تمام چیزوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، دن بدن مزید ٹیکنالوجی بناتا چلا گیا، آج انسان اپنے ملک میں رہتے ہوے دشمن ممالک پر میزائل فائر کر سکتا ہے اور اسے خاطر خواہ نقصان پہنچا سکتا ہے۔
انسان کی علم کی جستجو نے ایٹم بم بھی تیار کر لیا ہے، جو ایک خوفناک جنگی ہتھیار ہے، جسکے استعمال سے دنیا تباہ برباد ہو جائیگی، انسان نے اپنی سہولت کے لیے ہر آچھی چیز بنائی لیکن انسان نے ایٹم بم بنا کر اپنی تبائی کا کیا خوب بندوبست کیا ہے، ایٹم بم کی جنگ انسان کی تبائی کے سوا کچھ نہیں ہے۔
انسان علمی جستجو میں ترقی تو کرتا گیا، لیکن ساتھ ساتھ اپنی تبائی کا بندوبست بھی کرتا گیا جنکے نتائج خوفناک ہوں گئے۔
وقت آخر ہے انسان نے ایک دن واپس لوٹ کر اللہ کے حضور پیش ہونا ہے، انسان نے اپنے لیے جدید ٹیکنالوجی تو بنا دی ہے، لیکن یہی ٹیکنالوجی انسان کی تبائی کا باعث بنے گی، انسان اپنے ہی ہاتھوں بنائی گئی ٹیکنالوجی سے فنا ہو جائیگا، کوئی چیز باقی نہیں بچے گی۔
مسلمان کا ایمان ہے" انسان اس عارضی دنیا سے واپس لوٹ کر آخرت میں اللہ کے حضور پیش ہو گا اپنی ساری زندگی کا حساب دیگا، اور بتائے گا اس نے ساری زندگی کسطرح گزاری اور اللہ کی کتنی عبادت، اسکی نعمتوں کا کتنا شکر ادا کیا، کتنا حقوق اللہ اور حقوق العباد کا خیال رکھا، یہ سارا حساب انسان کو دینا ہو گا۔
اللہ سے دعا ہے اللہ ہم سب کا خاتمہ ایمان پر کرے اور ایمان کی حالت میں اس دنیا سے رخصت ہوں۔
آمین یا رب العالمین
Man`s intellect & Desire for Knowledge
Please, Like / Comments / Share
Comments
Post a Comment
For More Information Please Comments.