دورِ حاضر میں یزیدیوں کی پہچان | فلسطین، کربلا، عرب امارات اور پاکستانی محنت کشوں کی دردناک حقیقت
2021 آزاد جموں کشمیر میں الیکشن
The Azad Jamu & Kashmir Election 2021
تحریر: بشارت موسوی
آزاد کشمیر میں الیکشن آنے کو ہیں، ن لیگ کی باقیات کی حکومت ختم ہونے کو ہے۔
ن لیگی حکمران حلقوں میں جانے میں مصروف ہیں، کیونکہ 5 سال گزارنے کے بعد دوبارہ حلقوں میں جانا ضروری ہے، کیونکہ حلقہ کے لوگوں کو پھر پینا ڈول اور ڈسپرین کی گولی دینی ہے انھیں پھر سبز باغ دکھانا ہے، اور پھر یہ بتانا ہے۔
ا۔ ووٹ مجھے دیں، میں آپکے علاقے میں سڑک لاونگا۔
ب۔ میں پانی کا مسلہ حل کروں گا۔
پ۔ میں علاج کے لیے ایک بہترین ہسپتال بناونگا۔
ت۔ میں بچوں کے لیے ایک پرائمری اور ہائی سکول بناونگا۔
ٹ۔ میں ہائی سکول کو کالج کا درجہ دونگا۔
ث۔ میں کوشش کرونگا ایک یونیورسٹی بن جائے۔
ج۔ میں بچیوں کے لیے ایک ہائی سکول بناونگا۔
چ۔ میں بچیوں کےلیے سلائی کڑھائی کے لیے ایک مرکز بناونگا۔
ح۔ مجھے پتہ ہے، بچے بڑی مشکل سے پانی کا بڑا نالا پار کرتے ہیں، میں ان کے لیے جلد از جلد ایک پل تعمیر کرونگا، تاکہ بچے آسانی سے سکول پہنچ سکیں۔
خ۔ میں آچھی اور کشادہ سڑکوں کا جال بچھا دونگا، تاکہ پہاڑی علاقے کے لوگ آسانی سے سفر کر سکیں اور روزمرہ کی اشیاء بآسانی بازار سے خرید سکیں۔
د۔ میں سارے وہ کام کرونگا جو حلقے کی ضرورت ہیں۔
ڈ۔ آخر میں، میں بے روزگار اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کو نوکری دینے کا وعدہ کرتا ہوں، اور ایک بات اور جو ضروری ہے، میں غریبوں کو ماہانہ خرچہ دونگا، جس سے وہ اپنے خاندان کی کفالت کر سکیں گے۔
یہ وہ گولیاں ہیں، جو حلقے کے سادہ لوگوں کو ہر بار الیکشن جیتنے کے لیے کثرت سے دی جاتی ہیں۔
میں نے 2 دن قبل وادی نیلم کا ایک کلپ دیکھا، جہاں ایک عورت اور ایک غریب آدمی ن لیگی پارلیمنٹیرین کی گاڑی کے ساتھ ساتھ درخواست لیے دوڑ رہا ہے، اور پارلیمینٹیرین گاڑی روک بھی نہیں رہا بڑی مشکل سے گاڑی رکی اور اس عورت نے درخواست دی اور گاڑی سے اترے بغیر اس عورت کو کچھ کہا اور چلتا بنا، یہ منظر دیکھر بہت دکھ ہوا اور اپنے آپ سے سوال کیا" کیا یہ لوگ مسلمان ہیں؟"
مغرور اور تکبر سے بھرے اس شخص نے گاڑی سے اترنا پسند نہیں کیا، یہی حرامخور کچھ دن بعد اسی حلقے سے ووٹ وصول کریگا، اور انھی لوگوں کے ساتھ جڑ کر بیٹھے گا۔
جب یہ حرامخور جیت جاتے ہیں، حلقے میں آنا پسند نہیں کرتے اور اگر علاقے کے لوگ اکٹھے ہو کر انکے دفاتر میں جائیں تو یہ لوگ انھیں حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور ملنا گوارہ تک نہیں کرتے،وہاں پر انکے لچھن ہی کچھ اور ہوتے ہیں۔
یہ لوگ حلقے کے لوگوں کے ووٹ سے منتخب ہوتے ہیں، بجائے حلقے کے لوگوں کی خدمت کریں، یہ حرامخور اپنے خاندان کی خدمت میں لگ جاتے ہیں، اپنے بچوں کو گورنمنٹ کی گاڑیوں میں بٹھا کر سیر سپاٹے کرواتے ہیں اور گورنمنٹ کے ہوٹل میں ٹھہراتے ہیں، جسکا سارا خرچہ سرکار برداشت کرتی ہے۔
اب منسٹر یا وزیر صاحب" کی عیاشیوں پر بھی کچھ نظر ڈالتے ہیں، منسٹر صاحب، سرکاری اخراجات پر بیرون ملک دوروں پر نکل جاتے ہیں، وہ دورے امریکہ، انگلینڈ اور یورپ کے ہوتے ہیں، یعنی پانچوں انگلیاں گھی میں۔
پھر کچھ عرصہ بعد تھکے ہارے آتے ہیں، پھر اسمبلی میں کیا جانا بیمار پڑ جاتے ہیں بہانہ موسم تبدیل ہوا ہے، زرا آرام کرنا چاہتے ہیں۔
انکے اندر احساس ذمہ داری کا نہ ہونا، ہماری بد قسمتی ہے یہ گندے لوگ اپنی سیاسی جڑیں اسی طرح مظبوط کرتے ہیں اور عوام دیکھتے رہ جاتے ہیں کیونکہ ان کے پاس وسائل ہوتے ہیں جو کہ عام آدمی کو میسر نہیں ہیں، جب یہ حرامخور بڑھاپے کے قریب ہوتے ہیں، اپنی گندی اور نالائق اولاد کو بھی اپنی سیٹ دینے کی کوشش کرتے ہیں اور انھیں بھی سیاست میں لے آتے ہیں اور حلقے کے لوگوں پر اپنی جگہ مسلط کر دیتے ہیں، اور پھر یہ خاندانی سیاست نسل در نسل چلتی رہتی ہے اور انکا خاندان نسل در نسل ترقی کرتا رہتا ہے اور حلقے کے لوگ بے بسی کی حالت میں انھی بیغیرتوں کو برداشت کرتے رہتے ہیں، اور اپنا قیمتی ووٹ ضائع کرتے رہتے ہیں۔
دیکھا جائے، تو کشمیر میں تعلیم کا تناسب کافی زیادہ ہے، لیکن میں سمجھنے سے قاصر ہوں لوگ بار بار کیوں غلطی کرتے ہیں اور ان حرامخوروں کو کیوں ووٹ دیتے ہیں؟
لوگوں کو چاہیے، پانچ سال کا موازنہ کریں، اور اس سوشل میڈیا کے دور میں ان حرامخوروں کی حلقے کے لیے کی گئی تقاریر کو ریکارڈ کریں اور پانچ سال بعد ان تقاریر کو سنیں اور موازنہ کریں، کیا جو باتیں کی گئی تھیں ان پر کتنا عمل ہوا یے؟ کتنے وعدے پورے کیے گئے ہیں؟
ان تمام چیزوں کو نوٹ کرنے کے بعد اپنے قیمتی ووٹ کا فیصلہ کریں۔
میں 15 سال بعد اپنے آبائی گاوں موہری سیداں گندی گراں گیا، جہاں مختلف لوگوں سے ملاقات ہوئی، اور لوگوں نے راجہ فاروق حیدر کی شکایتیں ہی کیں اور بتایا گیا کہ حلقے میں کوئی کام نہیں ہوا؟ وعدے کیے گئے تھے؟ ہم نے انھی وعدوں کو دیکھتے ہوے اپنا ووٹ دیا تھا۔
میں اپنے بچپن کے سکول گندی گراں گیا سکول تو ہائی ہے، لیکن خستہ حال ہے، لوگوں نے شکایت کی کہ سکول میں سائنس ٹیچر کا نام و نشان نہیں ہے، بچوں کی تعلیم میں تسلسل نہیں ہے، بچوں کا مستقبل خراب ہو رہا ہے، جو افسوسناک ہے۔
میری اپنے کشمیری بھائیوں سے گزارش ہے، اپنے علاقے کے کسی اچھے اور پڑھے لکھے انسان کا انتخاب کریں، اسے اپنے ووٹ کی طاقت سے کامیاب کروائیں، اور پیشہ ور سیاستدانوں اور لٹیروں سے اپنی جان چھڑائیں۔
اللہ آپ سب کا حامی و ناصر ہو۔
آمین یا رب العالمین
Azad Jamu & Kashmir Election 2021
Please, Like / Comments / Share
Highlighted excellent points
ReplyDeleteHighlighted excellent points
ReplyDelete