دورِ حاضر میں یزیدیوں کی پہچان | فلسطین، کربلا، عرب امارات اور پاکستانی محنت کشوں کی دردناک حقیقت

Image
  دور حاضر میں یزیدیوں کی پہنچان   تحریر:   بشارت موسوی     امام حسینؑ اور اہلِ بیتؑ کی عظیم قربانی  یہ تحریر سانحۂ کربلا، امام حسینؑ کی عظیم قربانی، فلسطین پر جاری مظالم، عرب امارات میں پاکستانی محنت کشوں کے خلاف کارروائیوں اور موجودہ دور میں یزیدی سوچ کے مختلف پہلوؤں پر مبنی ہے۔ میں نے اسلامی تاریخ اور موجودہ عالمی حالات کو جوڑتے ہوئے اپنے خیالات پیش کیے ہیں۔ امام حسین علیہ السلام اور انکے خاندان کو یزید نے کربلا کے مقام پر شہید کیا  امام علیہ السلام کو شہید کرنے کے بعد مختلف جگہوں پر جشن منایا گیا امام علیہ السلام         کے سر مبارک  کو پامال کیا گیا ، اس شہزادے کے سر کی بے حرمتی کی گئی جسے رسول ص اپنے کندھوں پر سوار کرتے  تھےاپنے شہزادوں کو گھوڑ سواری  کرواتے تھے،  امام حسین علیہ السلام کی اس عظییم الشان قربانی کو  تاریخ نے محفوظ کیا ہے، آج پوری دنیا امام حسین  علیہ السلام کی بچوں کے ساتھ دین محمدی ص کے لیے دی گئی عظیم قربانی کو یاد کرتی ہے۔   بیشک     " قتل حسین  ...

Daily Artificial Items and Their Disadvantages / Health benefits and benefits

/ روزمرہ کی مصنوعی اشیاء اور انکے نقصانات  

صحت کے لیے مفید اشیاء اور فوائد  


  کیک، آئس کریم، چاکلیٹ، آلو کے چپس، سموسے، پکوڑے، نمک پارے، حلوہ پوری اور گول گپے انسانی بدن میں کولسیٹرول کی مقدار بڑھا دیتے ہیں جو دل کے لئے نقصان دہ ہے۔

 ایک بار کا استعمال شدہ کھانے کا تیل دوبارہ استعمال نہیں کرنا چاہئیے۔ ابلے ہوئے تیل میں ایسے اجزاءپیدا ہو جاتے ہیں جو انسانی جسم میں کینسر کی وجہ بن سکتے ہیں

    روز مرہ کی غذا میں ایک (امائنو ایسڈ سسٹائین کی کمی سے مردوں اور عورتوں کے بال گرنے لگتے ہیں یہی گنجے پن کی وجہ ہے۔

   زیادہ گوشت خوری قبض کا باعث بنتی ہے۔ جس کی وجہ سے آنتوں میں نقصان دہ جراثیم کی تعداد بڑھ جاتی ہے,  اس لئے ہمیشہ گوشت کے ساتھ سبزی یا دالیں ملا کر سالن تیار کرنا چاہئیے۔

  گندم کی روٹی کے ساتھ دال ملا کر کھانے سے پروٹین کی افادیت 33 فیصدی بڑھ جاتی ہے۔

  سبزی کو زیادہ پانی سے دھونے یا پانی میں بھگو کر رکھنے سے اس میں موجود وٹامن ضائع ہو جاتے ہیں۔

  پھلوں اور سبزیوں کو زور سے کسی سخت چیز پر رکھنے یا پھینکنے سے بھی ان میں موجود وٹا من ضائع ہو جاتے ہیں۔

 سبزیوں اور پھلوں میں موجود وٹامن سی لوہے اور سٹیل کے چھونے سے ضائع ہو جاتے ہیں, اس لئے پھلوں اور سبزیوں پر چھری یا چاقو کو غیر ضروری طور پر نہیں چلانا چاہئیے۔

  اگر سبزی پانی میں دیر تک پکائی جائے تو اس میں موجود 50 فیصدی سے زیادہ وٹامن معدنی ذرات اور معدنی عناصر ضائع ہو جاتے ہیں۔

  چاول کے بھورے چھلکے میں وٹامن بی بکثرت موجود ہوتا ہے, اگر چاول کا چھلکا اتار دیا جائے تو سفید چاول میں وٹامن بی باقی نہیں رہتا۔

  مچھلی میں وٹامن بی کی وافر مقدار موجود ہوتی ہے لیکن مچھلی کا گوشت پکانے سے وٹامن بی ضائع ہو جاتا ہے (یہی وجہ ہے کہ جاپان اور ہالینڈ میں کچی مچھلی کھانے کا رواج ہے)۔

  دودھ کو چند گھنٹوں کے لئے دھوپ میں رکھیں تو 50 فیصدی سے زیادہ وٹامن بی2 تو ضائع ہو جاتا ہے, دودھ اور دہی کو ہمیشہ ٹھنڈی جگہ رکھنا چاہئیے۔

  گرم دودھ سونے سے قبل پیا جائے تو گہری نیند آتی ہے,  اس سے بلڈ پریشر بھی نارمل ہو جاتا ہے۔ دودھ میں موجود کیلشیم دماغ کی مضبوطی میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔

  مرغی اور بطخ کا گوشت اس کی کھال یعنی جلد کے بغیر کھانا چاہئیے کیونکہ اس میں چربی بہت زیادہ ہوتی ہے۔

  گوشت کو کم از کم 120 درجہ سینٹی گریڈ حرارت پر پکانا چاہئیے ورنہ اس گوشت میں موجود نقصان دہ جراثیم مکمل طور پر ختم نہیں ہوتے۔

 پرندوں کے گوشت میں چربی کم ہوتی ہے جبکہ فولادی اجزاءاور پروٹین زیادہ ہوتی ہے۔

  کلیجی کا گوشت بڑھاپے میں زیادہ استعمال کرنا چاہئیے,  اس میں چربی کم,  معدنی ذرات اور پروٹین زیادہ ہوتی ہے

 کلیجی میں (کولین) پائی جاتی ہے جو بڑھاپے میں یادداشت کو بہتر بناتی ہے۔

 سویا بین دال کھانے سے پراسٹیٹ کینسر کا خطرہ 70 فیصدی کم ہو جاتا ہے۔

 پکی ہوئی سبزی کو دوبارہ گرم نہیں کرنا چاہئیے جب ہم سبزی کو دوبارہ گرم کرتے ہیں تو سبزی میں موجود نائٹریٹ ایک دوسرے کیمیکل میں تبدیل ہو جاتے ہیں جو انسانی بدن میں کینسر پیدا کر سکتا ہے۔

 پالک زیادہ کھانے سے جوانی کا جذبہ دیر تک برقرار رہتا ہے,  یہ دماغی قوت میں بھی اضافہ کرتی ہے, جن لوگوں کو گردوں کی پتھری کی تکلیف ہو انہیں پالک کھانے سے پرہیز کرنا چاہئیے۔

 ایک کچا پیاز روزانہ کھانے سے کینسر اور دل کی بیماریوں کا خطرہ کم ہو جاتا ہے سرخ پیاز سفید پیاز سے زیادہ مفید ہوتا ہے۔

 لہسن کا استعمال شوگر کی بیماری ٹائپ ٹو میں اکیسر کا سا درجہ رکھتا ہے یہ بلڈ پریشر کم کرتا ہے۔ معدے کی بیماریاں پیدا کرنے والے جراثیم کو نیست و نابود کرتا ہے۔


 لمبی عمر کا ایک نسخہ کیمیا  ہنس مکھ اور ٹھنڈے مزاج کے لوگ زندگی کا زیادہ لطف اٹھاتے ہیں اور لمبی عمر پاتے ہیں۔ ان لوگوں کی نسبت جو کسی حال میں خوش اور مطمئن نہیں ہوتے اور ہر وقت شکوہ اور شکایتوں کی فہرست ہاتھ میں لئے پھرتے ہیں

ہر وہ انسان جو نفسیاتی اور دماغی طور پر مطمئن نہیں ہوتا لمبی عمر نہیں پا سکتا

Daily Artificial Items

Please, Like / Comments / Share


Comments

Popular posts from this blog

سید محسن رضا کاظمی الحمیدی

تین بہن بھائیوں کی درد ناک داستان

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے لیے فرمایا