دورِ حاضر میں یزیدیوں کی پہچان | فلسطین، کربلا، عرب امارات اور پاکستانی محنت کشوں کی دردناک حقیقت

Image
  دور حاضر میں یزیدیوں کی پہنچان   تحریر:   بشارت موسوی     امام حسینؑ اور اہلِ بیتؑ کی عظیم قربانی  یہ تحریر سانحۂ کربلا، امام حسینؑ کی عظیم قربانی، فلسطین پر جاری مظالم، عرب امارات میں پاکستانی محنت کشوں کے خلاف کارروائیوں اور موجودہ دور میں یزیدی سوچ کے مختلف پہلوؤں پر مبنی ہے۔ میں نے اسلامی تاریخ اور موجودہ عالمی حالات کو جوڑتے ہوئے اپنے خیالات پیش کیے ہیں۔ امام حسین علیہ السلام اور انکے خاندان کو یزید نے کربلا کے مقام پر شہید کیا  امام علیہ السلام کو شہید کرنے کے بعد مختلف جگہوں پر جشن منایا گیا امام علیہ السلام         کے سر مبارک  کو پامال کیا گیا ، اس شہزادے کے سر کی بے حرمتی کی گئی جسے رسول ص اپنے کندھوں پر سوار کرتے  تھےاپنے شہزادوں کو گھوڑ سواری  کرواتے تھے،  امام حسین علیہ السلام کی اس عظییم الشان قربانی کو  تاریخ نے محفوظ کیا ہے، آج پوری دنیا امام حسین  علیہ السلام کی بچوں کے ساتھ دین محمدی ص کے لیے دی گئی عظیم قربانی کو یاد کرتی ہے۔   بیشک     " قتل حسین  ...

The orphaned tradition Rawat industry

بے حال و یتیم روات انڈسٹری


 تحریر: بشارت موسوی 

یونین کونسل کے کارندے 

ٹی۔چوک کراس کرتے ہوے جب انڈسٹری ایریا میں داخل ہوتے ہیں، پہلے ہی یونین کونسل کے کارندے سڑک پر استقبال کرتے ہوے ملتے ہیں،  جو مختلف گاڑیوں سے بالترتیب 50،70، 100 اور 250 روپے کا ٹیکس روزانہ کی بنیاد پر وصول کرتے ہیں۔ 

یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے، یہ پیسے کہاں خرچ ہوتے ہیں اور کیوں لیے جا رے ہیں؟ 

اگر یہ سمجھ لیا جائے یہ پیسے بزنس مینوں کے مسائل حل کرنے اور انھیں سہولیات دینے کے لیے اکٹھے کیے جا رے ہیں، تو بات یہاں درست ہو گی، لیکن ایسا ہوتا ہوا کئی دکھائی نہیں  دیتا،  جس سڑک سے ٹیکس لیا جارہا ہے یہاں سے شروع ہونے والی روڈ ایسا منظر پیش کر رہی ہے جیسے کھنڈرات ہوں اور بڑے بڑے گہرے گڑے اس سڑک پر نمایاں نظر اتے ہیں، اس سڑک پر چلتے ہوے محسوس ہوتا ہے، کئی پہاڑی علاقوں کو سفر کیا جا رہا ہے جہاں پر سڑک کی حالت خستہ حال اور انتہائی ناقص ہے۔ 

اس سڑک پر گاڑیوں کا حال بے حال ہو جاتا ہے، اور گاڑیوں میں کئی طرح کے مکینیکل خرابیوں کے بے شمار نقائص نمایاں نظر آتے ہیں۔ 

سوال یہ بنتا ہے جو ٹیکس اکٹھا کیا جا رہا ہے اس پیسے سے کشادہ سڑک کی تعمیر کیوں ممکن نہیں ہوئی؟ 

علاقے کے ایم۔این۔اے، ایم۔پی۔اے، چیرمین اور دیگر لوگ روزانہ کی بنیاد پر جمع کیے گئے پیسے کا استعمال کہاں کر رے ہیں؟ 

کیا یہ پیسہ انکی جیبوں / پاکٹ میں جارہا ہے؟  

کوئی ہے جو انھیں پوچھے؟ 

روات انڈسٹری اور واپڈا

انڈسٹری چلتی ہی بجلی کے بل بوتے پر ہے، کیونکہ وہاں پر ہیوی مشینری کام کرتی ہے اور ہزاروں، لاکھوں  کے حساب سے لوگوں کو روزگار میسر ہوتا ہے، لیکن یہ بات نوٹ کی گئی ہے، واپڈا نے روات انڈسٹری میں اندھیر نگری مچائی ہوئی ہے، ایک ماہ میں 15 دن بجلی غائب رہتی ہے اور فیکٹری مالکان کو پورے ماہ کا شیڈول تھما دیا جاتا ہے، یہاں پر فیکٹری مالکان کچھ نہیں کر پاتے، انھیں ڈبل نقصان دیا جاتا ہے، جہاں پر وہ اپنے لیے جنریٹر کا بندوبست کریں اور واپڈا والوں کو بھی  باقاعدگی سے بل بھی ادا کریں۔ 

یعنی واپڈا والوں نے روات انڈسٹری کو تنگ کرنے کا کوئی حربہ چھوڑا نہیں ہے۔ 

اگر ان سے پوچھا جائے تو کہا جاتا ہے، ہم نئی تاریں اور کھمبے نصب کر رے ہیں، جبکہ انڈسٹری کئی سالوں سے آپریشنل ہے، کیا واپڈا والے اس وقت سوئے ہوے تھے؟ 

کیا انڈسٹری کو تنگ کرنا ضروری ہے یا انھیں سہولیات دینا ضروری ہے؟ 

واپڈا حکام کو لائحہ عمل بنا کر انڈسٹری کو سہولیات دینی چائیں تاکہ ملک کا پییہ تیزی سے چلے، لوگوں کو روزگار ملے اور انڈسٹری ملکی معیشت میں اپنا حصہ ڈالتی رے۔

انڈسٹری میں سرکاری اداروں کی بلاوجہ مداخلت 

ایک بات مزید نوٹ کی گئی ہے، انڈسٹری میں مختلف سرکاری ادارے مداخلت کرتے ہوے نظر آتے ہیں، یہ ادارے فیکٹری مالکان کو بلیک میل کرتے ہیں اور بلا جواز فیکٹریوں پر چھاپے مارتے ہیں اور رشوت طلب کرتے ہیں، اگر رشوت نہ دی جائے تو انھیں بھاری جرمانے کرتے ہیں، جسکی وجہ سے فیکٹری مالکان سخت پریشانی سے دوچار ہیں۔

دیکھا گیا ہے، سرکاری کارندے بڑی ٹھاٹھ اور لگژری گاڑیوں میں آتے ہیں اور پوری بدمعاشی کا ثبوت دیتے ہوے فیکٹری مالکان کو دھمکیاں و نوٹس دیتے ہیں،  اور رشوت طلب کرتے ہیں۔ 

سرکاری ملازم کی اتنی تنخواہیں نہیں ہوتیں لیکن انکی چال چلن اور خوبصورت گاڑیوں سے محسوس ہوتا ہے یہ لوگ رشوت خور اور حرام خور ہیں، کیونکہ محدود تنخواہ سے یہ سب کچھ ممکن نہیں ہے۔ 

گورنمنٹ کو چاہیے انڈسٹری پر توجہ مرکوز کرے کیونکہ انڈسٹری کسی بھی ملک کی معیشت کو بہتر کرنے میں اپنا اہم کردار ادا کرتی ہے اور ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہوتی ہے، کیونکہ انڈسٹری ہزاروں، لاکھوں بے روزگار لوگوں کو روزگار فراہم کرتی ہے۔ 

  انڈسٹری کو تنگ نہ کیا جائے بلکہ انڈسٹری کو سہولیات دی جائیں، تاکہ ملکی معیشت بہتر سے بہتر ہو سکے اور ملک تیزی سے ترقی کرے۔

Comments

Popular posts from this blog

سید محسن رضا کاظمی الحمیدی

تین بہن بھائیوں کی درد ناک داستان

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے لیے فرمایا