دورِ حاضر میں یزیدیوں کی پہچان | فلسطین، کربلا، عرب امارات اور پاکستانی محنت کشوں کی دردناک حقیقت
Twitter) ٹیویٹر
(Jack Patrick Dorsey, CEO)
تحریر: بشارت موسوی
ٹیویٹر کے موجد اور (سی۔ای۔او) جناب جیک پیٹرک دورسے ہیں، جو 19 نومبر 1976 کو (ایس۔ٹی۔لیوس میسوری) امریکہ کی ایک ریاست میں پیدا ہوے۔
آپکے والد گرامی ٹم اینڈ مرسیا سمتھ دورسے ایک ڈویلپ ماس سپیکٹرو میٹر نامی کمپنی میں کام کرتے تھے، آپکی والدہ ہوم میکر تھیں۔
نوجوان دورسے جب 14 سال کی عمر کو پہنچا تو اس نے ڈیسپیچ روٹنگ میں دلچسپی ظائر کی اور اس نے اوپن سورس سافٹ وئیر (ڈیسپیچ لاجسٹکس) بنایا جو وہ آج بھی اپنی کمپنی ٹیکسی کیب کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
دورسے نے 1995 میں (یونیورسٹی آف میسوری رولا) میں داخلہ لیا اور 2 سال گزارنے کے بعد 1997 میں نیویارک یونیورسٹی میں ٹرانسفر ہو گئے، دو سال ڈراپ ہونے بعد ابھی گریجویشن کے لیے ایک سمسٹر باقی تھا لیکن پڑھائی کے دوران ہی اسے ٹیویٹر ایپ بنانے کا خیال آیا۔
دورسے ڈیسپیچنگ کے شعبے سے منسلک رہا اور اسی دوران اس نے 2000 میں کیلیفورنیا کا رخ کیا، اور ہاکلینڈ میں کورئیرز، ٹیکسی اور ایمبرجینسی سروس ویب سائٹ کے ذریعے شروع کی۔
اسطرح دورسے اپنے خیالات کو عملی جامع پہناتا گیا اور مختلف دوسری چیزوں پر بھی کام کیا جن میں نٹ ورکنگ اور میڈیکل ڈیوائسز بھی شامل تھیں۔
اسطرح 2000 میں دورسے کو ڈیسپیچنگ کی تیاری اور جزوی طور پر براہ راست جرنل اور (اے۔او۔ایل) انسٹنٹ مسینجر کے ذریعے اسے ویب پر مبنی رینل ٹائم اسٹیٹس/شارٹ پیغام مواصلات سروسز کا خیال آیا۔
جب اس نے پہلی بار فوری پیغام رسانی کے نفاذ کو دیکھا تودورسے نے سوچا کہ "کیا سافٹ وئیر کے صارف کی حثیت کی آوٹ پٹ دوستوں میں آسانی سے شئیر کی جا سکتی ہے؟
پھر اس نے ایک شخص اودیو سے رابطہ کیا جو اس وقت ٹیکسٹ میسجنگ میں دلچسپی لیتے تھے۔
دورسے اور بزاسٹون نے فیصلہ کیا کہ (ایس۔ایم۔ایس) ٹیکسٹ اسٹیٹس میسج ائیڈیا کے مطابق یے اور تقریبن ٹیویٹر دو ہفتوں میں ٹیویٹر کا ایک پروٹو ٹائپ بنایا گیا ہے، اس خیال نے اوڈیو کے بہت سے صارفین کو راغب کیا اور ایون ولیمز کی سرمایہ کاری 2005 میں اس فرم کی شریک پائی، جو پیرا لیب اور بلاگر فروخت کرنے کے بعد گوگل کو چھوڑ چکے تھے۔
اس لیے یہ کہنا درست ہو گا کہ دورسے ایک امریکی ارب پتی ایپ ٹیکنالوجی ٹیویٹر کا واحد مالک اور (سی۔ای۔او) ہے اور مالی ادائیگی کرنے والی ایک کمپنی اسکوائر کا بانی اور (سی۔ای۔او) بھی ہے۔
آج پوری دنیا ٹیویٹر کو استعمال کر رہی ہے اور دوسرے کو اربوں روپے کا فائدہ ہو رہا ہے، اس کی پر اسائش زندگی کی مثال کئی نہیں ملتی، کیونکہ اس انسانی ذہن نے اپنے دماغ کو خوب استعمال کیا اور ایک ایپ بنائی جس سے پوری دنیا فائدہ اٹھا رہی ہے اور دورسے کو مالی فائدہ بھی ہو رہا یے۔
ایسے ذہین انسان کو داد دینی پڑے گی اور اسکی اس کاوش کو ہمیشہ یاد رکھا جائیگا۔
(Twitter Use) ٹیویٹر کا استعمال
یہ ایسا پلیٹ فارم یا ایپلیکیشن یے جہاں پر پوری دنیا اپنے خیالات کا اظہار کرتی یے اور کھل کر اپنی رائے دیتی ہے، اس پلیٹ فارم پر سیاست و دیگر عنوانات پر کھل کر بات کی جاتی ہے، دور حاضر میں یہ سیدھا سادھا صحافت کا ذریعہ ہے، جہاں ہر باشعور انسان جو سمجھ بوجھ رکھتا یے اور اپنے اردگرد کی چیزوں کو دیکھتا اور سمجھتا یے، وہ کوشش کرتا ہے کہ ٹیویٹر پر اپنا اکاونٹ بنائے اور خیالات کا اظہار کرے۔
اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ ٹیویٹر پر مخصوص طبقہ کے لوگ نہیں پائے جاتے، یہاں پر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل ہوتے ہیں۔
ٹیویٹر پر پیغام لکھنے کی حد 280 الفاظ ہے اور ان 280 الفاظ میں بات کو مکمل کیا جا سکتا ہے، اگر پیغام لمبا لکھنا مقصود ہو تو پیغام کو کئی حصوں کی شکل میں لمبا کیا جا سکتا یے، 280 الفاظ بھیجنے کے بعد مزید پیغام کو دوبارہ جاری رکھا جا سکتا ہے۔
یہ بات نوٹ کی گئی ہے ٹیویٹر پر زیادہ سے زیادہ سیاسی لوگ پائے جاتے ہیں جہاں پر زیادہ تر لوگ سیاست پر بات کرتے ہوے نظر آتے ہیں اور کھل کر مخالف پارٹیوں کو نشانہ بناتے ہیں۔
ٹیویٹر سوشل میڈیا کا ایک بہترین پلیٹ فارم یے جہاں مختلف قسم کی برائیوں پر بات کی جاتی ہے اور اسکے سد باب کے لیے لوگوں میں اگائی دی جاتی ہے، جسکی بدولت ادارے ٹیویٹر رپورٹ کو دیکھتے ہوے حرکت میں آتے ہیں اور قانونی کاروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔
ٹیویٹر پر پوری دنیا کی آپ ڈیٹ ہوتی ہیں اور لوگوں کو بر وقت خبریں بآسانی مل جاتی ہیں، لوگ دنیا کی خبروں سے باخبر رہتے ہیں۔
ٹیویٹر پر بزنس مین اور دیگر کاروبار سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی موجود ہوتے ہیں جو اپنے کاروبار کو پروموٹ کرتے ہوے نظر آتے ہیں۔
کیونکہ ٹیویٹر اب کاروبار کی مشہوری کا بھی ایک ذریعہ بنتا جا رہا ہے اور کاروباری شخصیات کی کوشش ہوتی ہے انکے کاروبار کو ٹیویٹر کے ذریعے مشہور کیا جائے تاکہ کاروبار میں دن بدن ترقی ہو۔
مشہور فلمی و دیگر شخصیات بھی کسی سے کم نہیں ہیں وہ بھی ٹیویٹر کا سہارا لیے ہوے ہیں، یہ لوگ بھی اپنے چاہنے والوں کو ٹیویٹر کے ذریعے پیغام دیتے ہوے دکھائی دیتے ہیں۔
اسی طرح ٹیویٹر پر پوری دنیا کے کھیل بھی دکھائے جاتے ہیں اور انکی خبریں بر وقت ملتی ہیں، مشہور کھلاڑی ٹیویٹر کو سہارا بناتے ہوے اپنے چاہنے والوں سے پیغام و ویڈیو کے ذریعے رابطہ کرتے ہوے نظر اتے ہیں۔
ٹیویٹر پر مذہبی جماعتوں کے علما کرام بھی نظر آتے ہیں جو دین حق کی بات کرتے ہوے دکھائی دیتے ہیں۔
اس لیے یہ کہنا درست ہو گا ٹیویٹر دنیا کا بہترین تیز ترین پیغام رسانی کا عمدہ پلیٹ فارم ہے جہاں پر لوگوں کو اپنی بات دوسروں تک پہنچانے میں مدد ملتی ہے۔
Comments
Post a Comment
For More Information Please Comments.