دورِ حاضر میں یزیدیوں کی پہچان | فلسطین، کربلا، عرب امارات اور پاکستانی محنت کشوں کی دردناک حقیقت

Image
  دور حاضر میں یزیدیوں کی پہنچان   تحریر:   بشارت موسوی     امام حسینؑ اور اہلِ بیتؑ کی عظیم قربانی  یہ تحریر سانحۂ کربلا، امام حسینؑ کی عظیم قربانی، فلسطین پر جاری مظالم، عرب امارات میں پاکستانی محنت کشوں کے خلاف کارروائیوں اور موجودہ دور میں یزیدی سوچ کے مختلف پہلوؤں پر مبنی ہے۔ میں نے اسلامی تاریخ اور موجودہ عالمی حالات کو جوڑتے ہوئے اپنے خیالات پیش کیے ہیں۔ امام حسین علیہ السلام اور انکے خاندان کو یزید نے کربلا کے مقام پر شہید کیا  امام علیہ السلام کو شہید کرنے کے بعد مختلف جگہوں پر جشن منایا گیا امام علیہ السلام         کے سر مبارک  کو پامال کیا گیا ، اس شہزادے کے سر کی بے حرمتی کی گئی جسے رسول ص اپنے کندھوں پر سوار کرتے  تھےاپنے شہزادوں کو گھوڑ سواری  کرواتے تھے،  امام حسین علیہ السلام کی اس عظییم الشان قربانی کو  تاریخ نے محفوظ کیا ہے، آج پوری دنیا امام حسین  علیہ السلام کی بچوں کے ساتھ دین محمدی ص کے لیے دی گئی عظیم قربانی کو یاد کرتی ہے۔   بیشک     " قتل حسین  ...

The cry of Kashmiris

 


"میں بھی انسان ہوں / کشمیریوں کی پکار" 

 

تحریر: بشارت موسوی 

پوری دنیا کے سامنے ہندوستان نے کشمیر کے مسلمانوں پر ظلم کی داستان رقم کر دی ہے اور کشمیری مسلمانوں کے گھروں کے بائر فوج کے انبار لگا دیے ہیں اور فوج کو کھلی چھٹی دے دی گئی ہے کہ فوج مظلوم کشمیریوں کے ساتھ جو چائے کرے انکی جوان سال بچیوں کی عزتوں کو تار تار کرے اور جواں سال بیٹوں کی آنکھوں میں گولیاں ماری جائیں اور بوڑھے والدین کے ساتھ ظلم و جبر کا بازار گرم کیا جائے  اور انھیں گھسیٹ ،گھسیٹ کر قتل کر دیا جائے، اور سب سے بڑا ظلم انکے بچوں کو والدین کے سامنے ذبح و قتل کر دیا جائے۔

کشمیریوں کی بیٹیوں کی عزتیں انکے والدین اور بھائیوں کے سامنے لوٹی جارہی ہیں اور پھر ان کے سامنے تڑپا تڑپا کر زندہ جلایا جا رہا ہے۔

ہندوستان کی دہشت گرد فوج اور انتہا پسند مودی نے پوری دنیا سے کشمیریوں کے رابطے ختم کروا دیے ہیں اور پوری دنیا سے رابطہ ختم کر کے کشمیر میں کرفیو لگا کر مکمل لاک ڈاون میں تبدیل کر دیا ہے/ ظلم و جبر کا بازار گرم کرلیا ہے، کشمیری جواں سال بچوں کو پکڑ کر جیلوں میں بند کر دیا گیا ہے، کشمیری لیڈر شپ کو گھروں اور جیلوں میں بند کر دیا گیا ہے اور تاحال بند ہیں لیکن  پھر بھی دنیا خاموش ہے۔ "آفسوس"

دنیا کے کسی بھی میڈیا کو کشمیر کے اندر  جانے سے روک دیا گیا ہے اور دہشت گرد مودی حکومت نے پوری دنیا سے کہہ دیا یہ ہمارا اندرونی مسلہ ہے ہم جو چائیں وہ کریں گئے دنیا ہم سے نہیں پوچھ سکتی۔

پاکستان کے وزیراعظم جناب عمران خان نے پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوے مودی حکومت کی تاریخ پوری قوم کے سامنے رکھی اور پوری دنیا کو پاکستان کی طرف سے پیغام دیا کہ ہندوستان کی دہشت گرد گورنمنٹ مظلوم نہتے کشمیریوں پر ظلم کر رہی ہے لہذا ہندوستان کی حکومت کو روکا جائے۔

بد قسمتی سے دنیا ٹس سے مس نہیں ہوئی اور دنیا نے کوئی ایکشن نہیں لیا دنیا نے دہشت گرد مودی کو کچھ نہیں کہا "یہ بہت بڑے افسوس کی بات ہے"۔

پاکستانی وزیر اعظم نے "اقوام متحدہ" کی جنرل اسمبلی میں کھڑے ہو کر دہشت گرد مودی و اسکی حکومت کے بارے میں دینا کو ایک واضع پیغام دیا چیخ چیخ کر بتایا ہندوستان کشمیری مسلمانوں پر ظلم کر رہا ہے اور کشمیریوں کا دنیا سے رابطہ منقطع کر دیا گیا ہے" برائے مہربانی" دنیا والے ایکشن لیں اور دہشت گرد مودی کو روکیں۔ 

لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے آج 8 ماہ کا طویل عرصہ گزر گیا لیکن دنیا والوں میں انسانیت ختم ہو گئی ہے اور کشمیری گھروں میں قید ہیں اور انکے پاس کھانے پینے کی اشیاء ختم ہو گئی ہیں اور شدید سردی سے بچے اور بزرگ مر رے ہیں اور کشمیری لوگوں نے آپنے بوڑھے ماں باپ کو گھروں میں قبریں کھود کر دفنانا شروع کر دیا ہے۔

پوچھنا یہ ہے "دینا کہاں گئی؟  یہ انسانیت کے ٹھیکیدار کہاں گئے؟ 

یہ دنیا دہشت گرد مودی کو کیوں نہیں روک رہی؟ 

اقوام متحدہ کا مقصد اس دنیا سے ختم ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے بلکہ یہ کہنا درست ہو گا اقوام متحدہ کا کوئی ادارہ نہیں ہے؟  کیونکہ اقوام متحدہ ہی کی تہہ کردہ قرار دادوں کے تحت مسلہ کشمیر نے حل ہونا تھا لیکن اقوام متحدہ کشمیریوں کو آزادی دلوانے میں ابھی تک ناکام رہی ہے اور پوری دنیا میں مظلوم مسلمانوں کو آزادی و انکا حق دلوانے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے جو ایک ناکام ادارے کی نشاندہی ہے۔

آج جب ایک "کورونا وائرس" کا مسلہ آیا ہے اور پوری دنیا میں لوگ اس جان لیوا وائرس سے مر رے ہیں اور مختلف ممالک لاک ڈاون کر رے ہیں "آج دنیا کو پتہ چلا ہے" لاک ڈاون کیا چیز یے؟" جو کشمیریوں پر 8 ماہ سے جاری و ساری ہے، آج دنیا والے اس جان لیوا وائرس سے سخت پریشان ہیں اور بڑے بڑے طاقت ور ممالک کے لوگ اس وائرس سے مر رے ہیں اور یہ ممالک لوگوں کی جانیں بچانے میں ناکام رے ہیں۔

یہ شائد اس دنیا کو اس" شامی" بچے کی" بد دعا" یے جس نے کہا تھا میں جب شہید ہو جاونگا تو اللہ کے پاس جا کر اس دنیا کی شکایت کرونگا، کیونکہ اس دنیا نے میری مدد نہیں کی؟

اس شامی بچے کی دعا اللہ نے سن لی ہے کیونکہ دنیا ابھی تک خاموش ہے ظلم کے خلاف نہیں بول رہی اور یہی ظلم کشمیر، فلسطین،یمن، عراق،برما، بحرین، شام اور دیگر اسلامی ممالک میں ابھی تک جاری ہے لیکن پوری دنیا "ظالم" کو نہیں روک رہی اور مظلوم لوگوں کی بد دعائیں اس دنیا کو لگ رہی ہیں جسکا نتیجہ اللہ نے "کورونا وائرس" کی شکل  میں دیا ہے اور پوری دنیا کے طاقت ور ممالک کے پاس اس وائرس کا کوئی علاج نہیں ہے اور لوگ تیزی سے مر رے ہیں۔

آج بھی اگر اقوام متحدہ جاگ جائے کشمیریوں اور باقی مسلمانوں پر ہونے والے ظلم کا نوٹس لے لے تو  شائد اللہ معاف کر دے۔ 

اقوام عالم انسانیت پر ظلم کرنے والے ممالک کو روکے اور اگر یہ ظالم ممالک وارننگ سے نا مانیں تو انکی رکنیت ختم کی جائے اور انکے خلاف قانون کے مطابق سخت سے سخت کاروائی عمل میں لائی جائے۔

پوری دنیا کو یہ بات سمجھنا ہوگی کہ ظلم ہمیشہ نہیں رہتا اور ظالم نے بھی ایک دن ختم ہونا ہوتا ہے۔

پوری دنیا کی تاریخ کا اگر مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے ظالم سے ظالم حکمران کا انجام موت ہے اور اسکا ظلم قائم نہیں رہ سکا اور وہ آج اس دنیا میں موجود نہیں ہے لیکن ظلم کی تاریخ موجود ہے۔

قرآن میں موجود ہے اللہ نے نمرود کو بھی سزا دی اور فرعون جو خدائی دعوی کرتا رہا وہ بھی آپنے انجام کو پہنچا اور جسکی لاش آج بھی عبرت کے طور پر مصر میں موجود ہے۔

ان تمام باتوں کو دیکھتے ہوے ظالم کو سوچنا ہو گا کہ اس نے بھی ایک دن آپنے انجام کو پہنچنا ہے اور اللہ کی زات اس ظالم سے ایک دن ضرور حساب لے گی اور ظالم کو بتانا ہو گا اس نے انسانوں پر کیوں ظلم کیا اور انسانیت کے حقوق کیوں سلب کیے؟

دعا ہے اللہ ظالم کو ہدایت کے راستے پر چلائے اور اللہ کے خوف سے ڈرے اور سچے دل سے توبہ کرے۔

آمین

The Cry of Kashmiris

Please, Like / Comments / Share

Comments

Popular posts from this blog

سید محسن رضا کاظمی الحمیدی

تین بہن بھائیوں کی درد ناک داستان

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے لیے فرمایا