دورِ حاضر میں یزیدیوں کی پہچان | فلسطین، کربلا، عرب امارات اور پاکستانی محنت کشوں کی دردناک حقیقت
رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ
اور پاکستانی منافع خور مسلمان تاجر
تحریر: بشارت موسوی
باتیں تلخ اور حقیقت پر مبنی ہیں۔
میں نے جب سے ہوش سنبھالا روزے رکھنا شروع کر دیے تھے، گھر میں مذہبی ماحول تھا جس کی وجہ سے روزہ رکھنا بہت ہی اچھا لگتا تھا اور روزہ رکھنا ایک بڑا کارنامہ لگتا تھا۔
جب بہت چھوٹا تھا تو والدہ کو کہتا تھا کہ مجھے بھی سحری کو چپکے سے کھانا دے دیں تاکہ میں بھی روزہ رکھ سکوں۔
روزہ ایک فرضی عبادت ہے۔
:اللہ قرآن میں ارشاد فرماتا ہے
"اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں، جیسا کہ تم سے پہلے والی امتوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم متقی و پرہیز گار بن جاو"
میں نے بچپن سے ہی روزہ رکھنا شروع کیا اور اس فرض عبادت کو ادا کرنے کی بھر پور کوشش کی اور میرے اللہ نے میری ہمت میں اضافہ کیا۔
میں نے ایک بار سنا انڈین ڈاکٹرز نے اپنے لوگوں سے کہا "آپ لوگ بھی مسلمانوں کی طرح روزہ رکھا کرو تاکہ معدہ کی اصلاح ہو سکے اور بیماریوں سے محفوظ رہا جا سکے"۔
ہمارے ملک میں جب بھی رمضان المبارک کا مہینہ آتا ہے، تو ہمارے تاجر بھائیوں کو ہوائی پر لگ جاتے ہیں، ہر چیز کو سٹور کر لیتے ہیں اور پھر اسے مہنگے داموں فروخت کرنے لگتے ہیں۔
حالانکہ ہمارے تاجر برادران روزے بھی پورے رکھتے ہیں اور نمازیں بھی بھر پور پڑھتے ہیں لیکن انکے اندر 2 نمبریاں ختم ہونے کا نام نہیں لیتیں، زیادہ منافع کمانے کے چکر میں اللہ کو ناراض کرتے ہیں اور دکھی انسانیت کے دلوں میں اپنے لیے نفرت ڈالتے ہیں۔
مہنگائی کے باعث غریب آدمی رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں پھل فروٹ بلکل نہیں کھا سکتا اور نہ ہی خرید سکتا ہے، سارا رمضان پھل فروٹ کے لیے ترستے ترستے رمضان گزار دیتا ہے۔
یہاں میں پشاور میں موجود ایک "سکھ" تاجر کا ذکر ضرور کرونگا، جب بھی رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ آتا ہے، یہ "سکھ" تاجر اپنے سٹور میں کھانے پینے کی 50 فی صد چیزوں میں کمی کر دیتا ہے، اور کہتا ہے، یہ مسلمانوں کی عبادت کا مہینہ ہے" میں چاہتا ہوں مسلمان سستی چیزیں خریدیں اور بھر پور عبادت کریں تاکہ مجھ سے بھی اللہ راضی رے اور رزق میں بھی برکت رے کیونکہ سارا،سال کماتا ہوں"
یہ ایک سکھ تاجر کا جذبہ ہے، جسے دیکھ کر ہر مسلمان تاجر کا سر شرم سے جھک جانا چاہیے کیونکہ ایک غیر مذہب سکھ اللہ سے ڈرتے ہوے اس ماہ مقدس کا احترام رکھتا ہے تو ہمارے مسلمان بھائی ایسا جذبہ کیوں نہیں رکھتے؟
سوال یہ بھی ہے" کیا ہم نام کے مسلمان ہیں؟ کیا ہماری نمازیں/ عبادتیں سب دکھا وے کی ہیں؟
میں کئی سالوں سے رمضان المبارک میں پھل نہیں خریدتا کیونکہ رمضان المبارک کے آتے ہی پھل بہت مہنگے ہو جاتے ہیں، بجٹ ساتھ نہیں دیتا، بس کھجور سے ہی روزہ افطار کر لیا جاتا ہے۔
یہ سوچ کر پھل نہیں خریدتا کہ رمضان المبارک کے بعد جب پھل سستہ ہو گا جی بھر کے کھا لیں گئے۔
یہ مہنگائی کی نایاب بیماری صرف و صرف رمضان المبارک میں کثرت سے پاکستان کے اندر پائی جاتی ہے۔
کوئی بھی حکومت ہو وہ ہر رمضان میں غریب عوام کو راضی رکھنے کے لیے چیزوں کو سستہ کرنے کی کوشش کرتی ہے، لیکن منافع خور تاجر پھر بھی پکڑائی نہیں دیتے اور خوب منافع کما لیتے ہیں۔
کچھ سال قبل میں نے ایک چھابڑے والے خان سے پوچھا "خان بتاو پورے سال میں سب سے زیادہ کس ماہ میں کماتے ہو، تو کہنے لگا بھائی جان ہم تو رمضان المبارک کے مہینے میں بہت زیادہ کماتا ہے"
یہ ایک لمحہ فکریہ ہے، ہم مسلمان قوم کس طرف جا رے ہیں، کوئی خدا خوفی نہیں ہے، کوئی اللہ سے ڈر و فکر نہیں ہے۔
اللہ پھر ہمارے حال پر کیسے رحم کرے پھر کہاں وہ ہمیں آچھا حکمران دے، جسطرح کا ہمارا کردار ہے اسی طرح کے وہ ہمیں حکمران دیتا ہے جو ہماری کھال کھینچتے رہتے ہیں۔
آخر میں دل کو چھو دینے والے کچھ الفاظ ضرور لکھنا چاہتا ہوں "جو اینٹوں کی بھٹی میں کام کرنے والے ایک غیر مذہب غریب عیسائی کے ہیں، جو بہت ہی مایوسی اور بے چارگی کی حالت میں اپنی بیوی سے کچھ اسطرح کہتا ہے"
دیکھ پریشان نہ ہو، مسلمانوں کا یہ مقدس مہینہ گزر جانے دے، ساری چیزیں پھر سے سستی ہو جائیں گی
کیا اس موقع پر ہم اپنے آپ کو مسلمان کہنے کے قابل سمجھتے ہیں؟
بیرونی ممالک میں غیر مذہب لوگ اپنے تہواروں میں 50 فی صد کمی کرتے ہیں جبکہ ہمارے ہاں ہر مذہبی تہوار پر 50 فی صد مہنگائی کر دی جاتی ہے۔
مرحوم طارق عزیز: یاد آ گئے "کہنے لگے ایک دفع میں دسمبر کے مہینے میں انگلینڈ چلا گیا، تو بازار جانے کا اتفاق ہوا، تو ایک کوٹ پر نظر پڑی چاہا کہ خرید لوں جب قیمت پوچھی تو انتہائی مناسب 50 پونڈز، سوچا چلو تین چار دن تک خرید لونگا، نہیں پتہ تھا کہ کریسمس قریب ہے، کچھ دنوں بعد دوبارہ گیا تو قیمت پوچھی تو اس نے بتایا 100 پونڈ، میں نے حیرانگی سے پوچھا کہ کچھ دن قبل تو یہ 50 پونڈز کا تھا اب اتنا جلدی کیوں مہنگا ہو گیا، تو دکان دار نے مسکراتے ہوے کہا "جناب یہ کریسمس کی وجہ سے 50 فی صد سستہ کیا گیا تھا، تاکہ ہر کوئی خرید سکے"
اسطرح کی قومیں عظیم قومیں بنتی ہیں اور ترقی کرتی ہیں۔
اللہ سے دعا ہے اللہ ہم سب کو ہدایت دے، آخرت کی فکر اور جذبہ ایمانی سے سرشار کرے، تاکہ ہم صحیح معنوں میں مسلمان بن جائیں اور قران سنت کے مطابق اپنی زندگیوں کو گزار سکیں۔
آمین یا رب العالمین
Comments
Post a Comment
For More Information Please Comments.