دورِ حاضر میں یزیدیوں کی پہچان | فلسطین، کربلا، عرب امارات اور پاکستانی محنت کشوں کی دردناک حقیقت
بے وفا و خود غرض دنیا
فلسطین میں خون ہی خون ہے / فلسطین جل رہا ہے
تحریر : بشارت موسوی
جب میں 6 کلاس کا طالبعلم تھا تو میں نے کتابوں میں پڑھا اسرائیل فلسطینی مسلمانوں پر ظلم کر رہا ہے اور فلسطینی علاقوں پر قبضہ کر رہا ہے۔
اس وقت ٹی۔وی پر اسرائیل کے ظلم و ستم کی ویڈیو دکھائی جاتی تھیں جو بہت درد ناک ہوتی تھیں، اس وقت کے فلسطین کےصدر یاسر عرفات کو ٹی۔وی پر دکھایا جاتا جو دنیا کو کہتے ہوے نظر آتے تھے "اسرائیل فلسطینی علاقوں پر قبضہ کر رہا ہے اور فلسطینی مسلمانوں کو شہید کر رہا ہے، اسرائیل کی جارحیت روکی جائے
فلسطین ایک بہت ہی پرانا حل طلب مسئلہ ہے جسے مسلمانوں کی بقا کے لیے ہر صورت حل ہونا چاہیے اور حل ہونا ہے، لیکن افسوس سے کہنا پڑ رہا 90 سال سے زائد کا عرصہ گزر گیا ہے، اسرائیل فلسطینی مسلمانوں کو قتل کر رہا ہے اور عورتوں کی عزتیں لوٹ رہا ہے اور بچوں کو ذبح کر رہا ہے، نوجوانوں شہید کر رہا ہے اور جیلوں میں ڈال رہا ہے۔
اسرائیل روزانہ کی بنیاد پر فلسطینی مسلمانوں کو شہید کر رہا ہے اور فلسطین کے مختلف علاقوں پر قبضہ کر رہا ہے اور وہاں پر یہودی بستیاں تعمیر کر رہا ہے جو مسلمانوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔
دنیا کے طاقت ور ممالک بھی خاموشی اختیار کیے ہوے ہیں اور آنکے سامنے اسرائیل فلسطینیوں پر ظلم کر رہا ہے لیکن افسوس تمام بڑے اور ترقی یافتہ ممالک اپنی لالچ کی خاطر اسرائیل کو جارحیت سے نہیں روکتے، جو ایک تکلیف دہ بات ہے۔
دنیا کے مسائل حل کرنے کےلیے اقوام متحدہ کا ادارہ بنایا گیا ہے لیکن یہ ادارہ اپنے فرائض منصبی سرانجام دینے میں بری طرح ناکام یے اور آج تک خاموشی اختیار کیے ہوے ہے اسرائیل جیسے ظالم ملک کو روک نہیں پایا، جہاں اسرائیل انسانیت کی تذلیل کر رہا ہے، اور یہ تنازعہ اقوام متحدہ کے لیے ایک سوالیہ نشان ہے؟ اتنا وقت گزر جانے کے بعد اقوام متحدہ نے فلسطینیوں کو کیوں آزادی نہیں دلوائی؟ اور اس حل طلب مسئلے کا فیصلہ بروقت کیوں نہیں کیا گیا؟
اگر اسلامی ممالک کی بات کریں تو یہ سب ممالک بکھرے پڑے ہیں، اسلامی ممالک کی ایک تنظیم بنائی گئی تھی جسے "او۔ائی۔سی" کا نام دیا گیا تھا اس تنظیم کا مقصد ہی اسلامی ممالک کے مسائل کرنا اور ایک دوسرے کے ساتھ اتحاد کا رشتہ مضبوط کرنا تھا اور اپنے بھائیوں کے مسائل کو حل کرنا ضروری تھا اور ایک فحال تنظیم کے طور پر کام کرنا تھا، لیکن اس تنظیم کے ہوتے ہوے بھی اسلامی ممالک یکجہ نہ ہو سکے اور اسرائیل جیسے ظالم ملک کے خلاف کوئی لائحہ عمل نہ بنا سکے، جو مسلمان ممالک کے اتحاد کے اوپر ایک سوالیہ؟ نشان ہے۔
اسلامی ممالک بھی اسرائیل کے ساتھ اپنے آپنے مفادات میں الجھے ہوئے ہیں۔ ترکی پر 2023 میں 100 سالہ پابندیاں ختم ہو رہی ہیں اور ترکی دوبارہ سے سلطنت عثمانیہ کے لیے تیاری پکڑ رہا ہے، دوسری طرف عیاش عربوں کا خیال ہے اگر ترکی اٹھا تو ہمارا کیا ہو گا ہماری عیاشیاں ختم ہو جائیں گی، اسی لیے چند عرب ممالک نے ترکی کے ڈر و خوف سے اسرائیل جیسے حرامی اور ظالم ملک کو تسلیم کر لیا ہے اور اسے آپنے ساتھ ملا لیا ہے تاکہ اسرائیل عربوں کی مدد کرے اور ترکی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بن جائے۔
چند اسلامی ممالک اسرائیل کے فلسطین پر قبضہ پر سخت ناراض ہیں اور مزحمت کرتے ہیں، جن میں ترکی، ایران اور پاکستان شامل ہیں، یہ ممالک اسرائیل کی جارحیت کو کسی صورت قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں، یہی ممالک پوری دنیا میں مظلوم فلسطینی مسلمانوں پر مظالم کو بند کروانے کے لیے اپنی آواز بلند کیے ہوے ہیں اور فلسطینیوں کے حق میں بول رے ہیں، اور دنیا جہاں کے مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر سراپہ احتجاج ہیں۔
پاکستان جیسے غیرت مند ملک نے اسرائیل کے وجود کو کبھی تسلیم ہی نہیں کیا، کیونکہ بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح نے بھی اسرائیل جیسے ظالم ملک کی مِخالفت کی تھی اور آپ نے فرمایا تھا
"اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے"
اس لیے پاکستان بابائے قوم کے فرمان کو یاد رکھے ہوے ہے اور اسرائیل جیسے ملک سے سفارتی و تجارتی تعلقات کو ختم کیے ہوے ہے اور اپنے سفری دستاویزات پر بھی واضع طور پر لکھ دیا گیا ہے "یہ پاسپورٹ سوائے اسرائیل کے دنیا کے تمام ممالک کے لیے کارآمد ہے"۔
اسی لیے پاکستان اسرائیل کی ناجائز ریاست تسلیم نہیں کرتا اور کبھی بھی تسلیم نہیں کر سکتا کیونکہ اسرائیل فلسطینی مسلمانوں پر ظلم و ستم کر رہا ہے اور مسلمانوں کے قبلہ اول پر ناجائز قبضہ کیے ہوے ہے جسکی پاکستان اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو سخت تکلیف و رنج ہے۔
اسلامی ممالک کو چاہیے وہ قرآن و حدیث پر عمل پیرا ہوں اللہ قران میں ارشاد فرماتا ہے، یہود و نصارہ مسلمانوں کے کبھی بھی دوست نہیں ہو سکتے"
اس لیے تمام مسلمان ممالک کو چاہیے قران حدیث پر عمل کرتے ہوے یکجہ ہو جائیں اور اسرائیل کے خلاف بھر پور مزحمت کریں اور اپنے فلسطینی بھائیوں کی بھر پور مدد کریں اور انھیں ازادی دلوائیں، یہی انسانیت ہے اور یہی انسانیت کا تقاضہ ہے۔
اللہ سے دعا ہے اللہ فلسطین، کشمیر اور برما کے مسلمانوں کو ظالموں سے محفوظ رکھے اور انھیں ازادی جیسی نعمت عطا کرے۔
آمین یا رب العالمین
For the sake of the world / Palestine is burning
Comments
Post a Comment
For More Information Please Comments.