دورِ حاضر میں یزیدیوں کی پہچان | فلسطین، کربلا، عرب امارات اور پاکستانی محنت کشوں کی دردناک حقیقت
صبح جلدی اٹھنے کی عادت – قوموں کی ترقی کا راز
تحریر : بشارت موسوی
انسانی زندگی میں
نظم و ضبط، وقت کی پابندی اور محنت وہ عوامل ہیں جو کسی بھی فرد یا قوم کی کامیابی
کا سبب بنتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جو قومیں وقت کی قدر کرتی ہیں اور صبح سویرے
اپنے کام کا آغاز کرتی ہیں، وہی ترقی کی منازل طے کرتی ہیں۔ اس کے برعکس جو معاشرے
سستی، کاہلی اور بے عملی کا شکار ہو جائیں، وہ آہستہ آہستہ زوال کی طرف چلے جاتے ہیں۔
اس حقیقت کو
سمجھنے کے لیے ہمیں تاریخ کے چند اہم واقعات پر نظر ڈالنی چاہیے۔
بہادر شاہ ظفر اور
مغلیہ سلطنت کا زوال
مغلیہ سلطنت کے
آخری بادشاہ بہادر شاہ ظفر کی زندگی برصغیر کی تاریخ کا ایک دردناک باب ہے۔ جب
1857 کی جنگِ آزادی ناکام ہوئی تو انگریزوں نے نہ صرف سلطنت کا خاتمہ کر دیا بلکہ
بہادر شاہ ظفر کے خاندان کو بھی شدید مظالم کا نشانہ بنایا۔ ان کے بیٹوں کو قتل کر
کے ان کے سامنے پیش کیا گیا اور خود بادشاہ کو جلاوطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور
کر دیا گیا۔
یہ واقعہ اس بات کی
علامت ہے کہ جب حکمران طبقہ آرام طلبی اور عیش و عشرت میں ڈوب جائے تو سلطنتیں
کمزور ہو جاتی ہیں۔
دہلی کا ایک تاریخی
منظر
انیسویں صدی کے
وسط کا دہلی تصور کریں۔
صبح کے تقریباً
ساڑھے تین بجے ہیں۔ دہلی کے سول لائن علاقے میں انگریز فوجی افسران اپنے روزانہ کے
معمول کے مطابق جاگ چکے ہیں۔ فوجی بگل بج رہا ہے اور سپاہی ڈرل کی تیاری کر رہے ہیں۔
چند گھنٹوں بعد سورج طلوع ہوتا ہے اور انگریز افسر، سرکاری ملازمین اور شہری اپنے اپنے
کاموں میں مصروف ہو جاتے ہیں۔
انگریز خواتین گھڑ
سواری اور ورزش کر رہی ہیں۔ سرکاری دفاتر میں افسران صبح سات بجے تک اپنی میزوں پر
بیٹھ چکے ہیں۔ سرکاری خطوط کے جواب لکھے جا رہے ہیں اور مختلف علاقوں سے آنے والی
اطلاعات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
دوپہر تک بیشتر
سرکاری کام مکمل ہو چکا ہوتا ہے۔
دوسری طرف شاہی
دربار کا ماحول
اسی وقت دہلی کے
لال قلعہ میں صورتحال بالکل مختلف ہوتی ہے۔
شاہی محل میں رات
بھر محفلیں، مشاعرے اور تفریحی سرگرمیاں جاری رہتی ہیں۔ جب شہر کا بڑا حصہ صبح کے
کاموں میں مصروف ہوتا ہے تو شاہی دربار میں لوگ ابھی نیند سے بیدار ہو رہے ہوتے ہیں۔
تاریخی روایات کے
مطابق لال قلعہ میں ناشتے کا وقت اکثر اس وقت ہوتا تھا جب انگریز علاقوں میں دوپہر
کا کھانا کھایا جا رہا ہوتا تھا۔
شاہی خاندان کے
افراد اپنا زیادہ وقت کھیل تماشوں، جانوروں کی لڑائیوں اور دیگر تفریحات میں
گزارتے تھے۔ یہی بے عملی اور سستی رفتہ رفتہ ایک عظیم سلطنت کے زوال کا سبب بنی۔
یورپی قوموں کی
محنت اور نظم
اسی دوران یورپ سے
نوجوان افسران اور تاجر ہندوستان آتے تھے۔ اس وقت ہندوستان کا موسم، بیماریاں اور
مشکلات ان کے لیے بہت سخت تھیں۔ ملیریا اور دیگر بیماریوں کی وجہ سے کئی لوگ اپنی
جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے تھے۔
اس کے باوجود وہ
لوگ ہمت نہیں ہارتے تھے اور اپنے مقصد کے حصول کے لیے مسلسل کام کرتے رہتے تھے۔ ان
کی کامیابی کا راز یہی تھا کہ وہ نظم و ضبط، محنت اور وقت کی پابندی کو اپنی زندگی
کا حصہ بنا چکے تھے۔
جدید دنیا میں وقت
کی اہمیت
اگر ہم آج کی ترقی
یافتہ قوموں کو دیکھیں تو ایک بات واضح نظر آتی ہے کہ وہ وقت کی قدر کرتے ہیں۔
امریکہ، یورپ،
جاپان، آسٹریلیا اور سنگاپور جیسے ممالک میں لوگوں کی روزمرہ زندگی بہت منظم ہوتی
ہے۔ زیادہ تر لوگ شام کو جلدی کھانا کھا لیتے ہیں اور رات کو جلدی سو جاتے ہیں
تاکہ صبح تازہ دم ہو کر اپنے کام کا آغاز کر سکیں۔
ڈاکٹر، انجینئر،
تاجر اور سرکاری افسر صبح کے وقت ہی اپنے دفاتر اور اداروں میں موجود ہوتے ہیں۔ یہی
عادت انہیں زیادہ محنت اور بہتر کارکردگی کے قابل بناتی ہے۔
چین کی مثال بھی
ہمارے سامنے ہے۔ آج چین دنیا کی بڑی معاشی طاقتوں میں شمار ہوتا ہے اور اس کی کامیابی
کی ایک وجہ وہاں کے لوگوں کی محنت اور وقت کی پابندی ہے۔
کامیابی کا اصل
اصول
اللہ تعالیٰ نے
کائنات کو ایک اصول کے تحت بنایا ہے۔ جو شخص یا قوم محنت کرتی ہے اور نظم و ضبط
اختیار کرتی ہے، وہ ترقی کرتی ہے۔ جبکہ سستی اور بے عملی ہمیشہ زوال کا سبب بنتی
ہے۔
اسلامی تاریخ بھی
ہمیں یہی سبق دیتی ہے۔ غزوۂ بدر کے موقع پر مسلمانوں نے صرف دعا پر ہی اکتفا نہیں
کیا بلکہ مکمل حکمت عملی، تیاری اور محنت کے ساتھ میدان میں اترے۔
یہی عملی کوشش کامیابی
کا راستہ بن گئی۔
معاشرتی اصلاح کی
ضرورت
کسی بھی معاشرے کی
ترقی صرف حکومت یا چند افراد کی ذمہ داری نہیں ہوتی بلکہ پوری قوم کی اجتماعی سوچ
اور عمل اس میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
اگر معاشرے میں
بدعنوانی، بے ایمانی، سستی اور اخلاقی کمزوری عام ہو جائے تو ترقی کا راستہ بند ہو
جاتا ہے۔
اس لیے ضروری ہے
کہ ہم اپنی ذاتی زندگی میں نظم و ضبط پیدا کریں، وقت کی قدر کریں اور محنت کو اپنا
شعار بنائیں۔
صبح جلدی اٹھنے کی
برکت
صبح کا وقت اللہ
تعالیٰ کی ایک بڑی نعمت ہے۔ اس وقت فضا پرسکون ہوتی ہے، ذہن تازہ ہوتا ہے اور کام
کرنے کی توانائی زیادہ ہوتی ہے۔
اسی لیے کامیاب
لوگ عموماً اپنی صبح کا آغاز جلد کرتے ہیں۔ یہ عادت انسان کو زیادہ منظم، فعال اور
کامیاب بناتی ہے۔
نتیجہ
قوموں کی ترقی کسی
ایک دن میں نہیں ہوتی بلکہ مسلسل محنت، نظم و ضبط اور مثبت سوچ کے ذریعے حاصل ہوتی
ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ ترقی کرے تو ہمیں اپنی عادات کو بہتر بنانا
ہوگا۔
صبح جلدی اٹھنا،
وقت کی قدر کرنا اور محنت کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہی کامیابی کا راستہ ہے۔
Comments
Post a Comment
For More Information Please Comments.