دورِ حاضر میں یزیدیوں کی پہچان | فلسطین، کربلا، عرب امارات اور پاکستانی محنت کشوں کی دردناک حقیقت
پاکستان کرکٹ ٹیم کی تاریخی ورلڈ میں کارکردگی پر ایک نظر
A look at the performance of Pakistan Cricket Team in the Historic World Cup
تحریر: بشارت موسوی
پاکستان بننے کے ٹھیک 4 سال بعد 1952 میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی بنیاد رکھی گئی اور پاکستان نے ٹیسٹ کرکٹ کی دنیا میں قدم رکھا، اس دور میں محدود وسائل کے باوجود پاکستان جیسی دھرتی نے بہترین انٹرنیشنل کرکٹر پیدا کیے، جنھوں نے ملک و قوم کا نام روشن کیا، جن میں حفیظ کاردار، فضل محمود، حنیف محمد، مشتاق محمد، مدثر نذر، سرفراز خان، ماجد خان ظہیر عباس اور عمران خان جیسے بڑے نام شامل ہیں۔
سن 1975ء میں کرکٹ کی تاریخ کا پہلا ورلڈ کپ منعقد ہوا جس میں ویسٹ انڈیز نے آسٹریلیا کو شکست دیکر پہلہ کرکٹ ورلڈ اپنے نام کر لیا۔
سن 1979ء میں 4 سال بعد دوبارہ کرکٹ ورلڈ کپ کا انعقاد ہوا، جسمیں ویسٹ انڈیز کی مضبوط ٹیم نے انگلینڈ کو شکست دیکر دوسرا ورلڈ جیت لیا، اور ویسٹ انڈیز کو یہ اعزاز حاصل ہے، اس نے ورلڈ کپ کی تاریخ کے آغاز کے دونوں ورلڈ کپ اپنی بہترین کارکردگی کی بدولت اپنے نام کیے۔
سن 1983ء کے کرکٹ ورلڈ کپ میں بھارت نے فائنل میں ویسٹ انڈیز کو شکست دیکر اپنے ملک کے لیے پہلہ ورلڈ کپ جیت لیا۔
سن 1987ء میں دو روائتی حریف آسٹریلیا اور انگلینڈ کے درمیان کانٹے دار مقابلہ ہوا، جس میں آسٹریلیا نے انگلینڈ کو شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ جیت لیا۔
سن 1992ء کے کرکٹ ورلڈ کپ میں، پاکستان نے گریٹ عمران خان کی قیادت میں انگلینڈ جیسی بڑی ٹیم کو شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ جیتنے کا اعزاز حاصل کیا۔
سن 1992ء کے ورلڈ کپ میں پاکستان کرکٹ ٹیم کا اغاز مایوس کن تھا، ٹیم کے حالات ایسے نہیں تھے، جس سے اندازہ لگایا جا سکے کہ پاکستان ورلڈ کپ جیت جائیگا، لیکن کپتان عمران کی بہادری و حوصلے کو سلام کرنا پڑے گا، جس میں انھوں نے ٹیم کے اندر جان ڈالی ٹیم کو بتایا ہم ورلڈ کپ جیتیں گئے، ٹیم کو یکجا کیا اور بہترین حمکت عملی اپنائی، جسکے باعث ٹیم ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں پہنچ گئی، اور ٹیم نے ناقابل شکست نیوزی لینڈ جیسی مضبوط ٹیم کو ہرایا اور انگلینڈ کے ساتھ فائنل کھیلنے کا اعزاز حاصل کیا۔
سن 1996ء کے ورلڈ کپ میں سری لنکا نے آسٹریلیا جیسی مضبوط ٹیم کو لاہور کے قذافی کرکٹ اسٹیڈیم میں شکست دیکر اپنے ملک کے لیے پہلی بار ورلڈ کپ جیتا۔
سن 1999ء کے ورلڈ کے فائنل میں آسٹریلیا کا مقابلہ پاکستان سے ہوا، ماہرین کرِکٹ ایک بڑے مقابلے کی توقع کر رے تھے، کیونکہ دیکھنے میں پاکستان کرکٹ ٹیم بہت ہی مضبوط اور ورلڈ جیتنے کی بھر پور صلاحیت رکھتی تھی، ٹیم کے اندر بڑے نام شامل تھے جن میں سعید انور، انضمام الحق، محمد یوسف، شائد افریدی، وسیم اکرم، وقار یونس، ثقلین مشتاق، سپیڈ سٹار شعیب اختر شامل تھے، آل راونڈر عامر سہیل اور یونس خان بھی ٹیم کا حصہ تھے۔
سن 1999ء میں پاکستان کرکٹ ٹیم ورلڈ کپ کی بہترین ٹیم تصور کی جا رہی تھی، اور 100 فی صد ورلڈ کپ جیتنے کی پوزیشن میں تھی۔ یہ وہ وقت تھا جب پاکستان کرکٹ ٹیم کے پاس دینا کے بہترین باولرز اور بہترین بیٹسمین تھے، لیکن ٹیم نے ورلڈ کپ جیتنے کی کوشش نہیں کی بدترین کارکردگی دکھائی، ٹیم صرف 132 رنز بنا کر ہی ڈھیر ہو گئی، میڈیا میں سوالات اٹھے اتنی مضبوط ٹیم میچ کیسے ہار گئی؟ اور اتنی گندی کارکردگی کیوں دکھائی لیکن، کسی نے کوئی تحقیق نہیں کی، ٹیم نے 1999 کے ورلڈ میں فائنل تک تو رسائی حاصل کی لیکن ورلڈ نہ جیت سکی، جسکا پوری قوم کو آج تک افسوس ہے، آسٹریلیا نے پاکستان کو شکست دے کر دوسری بار آپنے ملک کے لیے ورلڈ کپ جیت لیا۔
سن 2003ء کے کرکٹ ورلڈ کپ میں آسٹریلیا بمقابلہ بھارت کانٹے دار میچ ہوا، آسٹریلیا نے بآسانی بھارت کو ہرا کر تیسری بار ورلڈ کپ اپنے نام کر لیا۔
سن 2003ء کے ورلڈ کپ میں پاکستان ٹیم بہت مضبوط تھی، اور ایسا دکھائی دیتا تھا کہ پاکستان کرکٹ ٹیم ورلڈ کپ جیت جائیگی، لیکن پاکستان کرکٹ ٹیم نے مایوس کن کارکردگی پیش کی ٹیم میں بڑے نام بھی ناکام رے اور ٹیم ورلڈ کے فائنل میں جگہ بنانے میں ناکام رہی۔
سن 2007ء کے ورلڈ کے فائنل میں آسٹریلیا اور سری لنکا کی کرکٹ ٹیمیں آمنے سامنے آئیں، آسٹریلیا نے سری لنکا کو شکست دیکر ایک مرتبہ پھر چوتھی بار ورلڈ کپ اپنے نام کر لیا۔
سن 2007ء کے ورلڈ کپ میں پاکستانی کرکٹ ٹیم نے ایک بار پھر مایوس کیا اور ٹیم نے مایوس کن کارکردگی کا مظاہرہ کیا، ٹیم فائنل تک رسائی حاصل نہ کر سکی، ٹیم کے پاس بہترین باولنگ اور بہترین بیٹسمین موجود تھے لیکن ٹیم نے ایک بار پھر پوری قوم کو مایوس کیا۔
سن 2011ء کے کرکٹ ورلڈ کپ کے فائنل میں بھارت اور سری لنکا کی ٹیموں نے کوالیفائی کیا، فائنل میچ میں بھارت نے سری لنکا کو شکست دیکر دوسری مرتبہ ورلڈ کپ اپنے ملک کے نام کیا۔
سن 2011 کے کرکٹ ورلڈ کپ میں پاکستانی کرکٹ پھر ناکام رہی اور فائنل تک رسائی حاصل نہ کر سکی، کرکٹ ٹیم نے ایک بار پھر قوم کو مایوس کیا۔
سن 2015 کے ورلڈ کپ میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیمیں فائنل میں پہنچی، اس میچ میں آسٹریلیا نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور نیوزی لینڈ کو ہرا کر پانچویں بار ورلڈ کپ اپنے نام کر لیا۔
سن 2015ء کے ورلڈ کپ میں قوم ایک بار پھر پاکستانی ٹیم سے امیدیں لگائی بیٹھی تھی کہ ٹیم اس بار ورلڈ کپ ضرور جیت جائیگی، لیکن ٹیم قوم کی خواہشات، جذبات اور معیار پر پورا نہ اتر سکی، قوم کو ایک بار پھر مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔
سن 2019ء کے کرکٹ ورلڈ کپ میں انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیمیں اپنی بہترین کارکردگی کے باعث فائنل میں پہنچی، کرکٹ کی تاریخ کا بہترین میچ تھا، اس پورے میچ میں کوئی بھی ٹیم ہارنا نہیں چاہتی تھی، دونوں ٹیمیں بھر پور کوشش کر رہی تھیں میچ جیت جائیں۔
سن 2019ء کا یہ واحد میچ ہے جسکا فیصلہ سپر اوور میں ہوا، انگلینڈ نے سیکنڈ بیٹنگ کرتے ہوے، رنز برابر کر دیئے، جہاں پر سپر اوور کی ضرورت پڑ گئی، اس سپر اوور میں انگلینڈ نے نیوزی لینڈ کو ڈرامائی انداز میں شکست دے دی،اور انگلینڈ کرکٹ کی تاریخ میں پہلی دفعہ ورلڈ چمپیئن بنا۔
سن 2019ء کا واحد ورلڈ کپ ہے، جسکا فیصلہ سپر اوور میں کیا گیا، اس ورلڈ کپ کے فائنل میچ کو دنیائے کرکٹ کا سنسنی خیز فائنل قرار دیا گیا ہے، اس فائنل میچ کو مدتوں تک یاد رکھا جائیگا، اس فائنل میچ میں پوری دینا کے شائقین کرکٹ کو بہترین کرکٹ دیکھنے کو ملی۔
سن 2019 کے ورلڈ کپ میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی کارکردگی ہمیشہ کی طرح مایوس کن رہی، ٹیم میں کوئی ڈسپلن دیکھنے کو نہیں ملا، کوئی بھی پلیئر ذمہ داری سے نہ کھیل سکا، پورے ورلڈ کپ میں ٹیم نے ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کیا، ایسے لگا جیسے ٹیم کسی دباو کا شکار ہے اور ڈری ہوئی کھیل رہی ہے، پاکستان کرکٹ ٹیم نے ملک و قوم کو بہت مایوس کیا اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری و ساری ہے۔
جن دنیائے کرکٹ ٹیموں نے ورلڈ کپ کو زیادہ مرتبہ جیتنے کا اعزاز حاصل کیا، انکی تفصیل دی گئی ہے۔
The Most Winning Cricket World Cup Team
Australia = 05
West Indies=02
India=02
Pakistan=01
England=01
Sri Lank=01
Please, Like / Comments / Share
Comments
Post a Comment
For More Information Please Comments.