دورِ حاضر میں یزیدیوں کی پہچان | فلسطین، کربلا، عرب امارات اور پاکستانی محنت کشوں کی دردناک حقیقت
ایک بیوہ و آن پڑھ عورت کی داستان، جو اپنے بچوں کا مستقبل روشن بناتی ہے
The story of a widow and illiterate woman who makes her children's future bright
اس تحریر میں فرضی نام شامل کیے گئے ہیں۔
تحریر: بشارت موسوی
شہر روات کے ایک گاوں میں ایک بیوہ خاتون تاج بی بی کے نام سے رہتی تھی، اسکے میاں فرید کا اچانک انتقال ہو گیا تھا۔
تاج بی بی کے چار بچے تھے، جن میں عمران، کبیر، وسیم اور ایک بیٹی زرینہ شامل تھی۔
بچے چھوٹے تھے تاج بی بی کے پاس کچھ زمین تھی اس زمین سے وہ گاوں والوں کی مدد سے غلہ اگاتی اور اسی غلے کو بیچ کر اپنے بچوں کا خرچہ چلاتی تھی، وہ چاہتی تھی اسکے بچے پڑھ لکھ کر بڑے انسان بن جائیں اور معاشرے میں عزت سے زندگی گزاریں۔
تاج بی بی اپنے بچوں کو روزانہ کی بنیاد پر صبح سویرے اٹھاتی انھیں ناشتہ دیکر سکول بھیجتی، بچوں کے آنے سے قبل گھر کا سارا کام مکمل کر لیتی اور بچوں کے لیے کھانا تیار کر لیتی، جوں ہی بچے گھر پہنچتے، ان سے سکول کا لباس تبدیل کرواتی اور انھیں کھانا پیش کرتی۔
کھانا کھلانے کے بعد بچوں کو مسجد میں بھیجتی جہاں پر بچے دینی تعلیم حاصل کرتے اور واپس گھر پہنچ جاتے۔
تاج بی بی اپنے بچوں کو مصروف رکھنا چاہتی تھی وہ چاہتی تھی بچے کسی غلط سوسائیٹی میں نہ جائیں، وہ بچوں کا بھر پور خیال رکھنا چاہتی تھی۔
تاج بی بی ایک چوٹا سا ڈنڈا لے کر کرسی پر بیٹھ جاتی، بچوں کو کہتی، سب باری باری مجھے سکول کا ہوم ورک بتائیں، بچے باری، باری سبق سناتے اور پھر بیٹھ جاتے، تاج بی بی اپنے بچوں کو روزانہ کی بنیاد پر اسی طرح مصروف رکھتی اور انھیں بڑا انسان بننے کا درس دیتی، انھیں سمجھاتی جب آپ پڑھ لکھ جائیں گئے تو بہت بڑے انسان بنیں گے، تو میں بہت خوش ہوں گی اور آپکے والد جو اس دنیا میں موجود نہیں ہیں، آپکی آچھی تعلیم و تربیت کی وجہ سے اہل علاقہ آپکے والد مرحوم کو اچھے الفاظ میں یاد رکھیں گے جس سے آپکے والد مرحوم کی روح خوش ہو گی۔
تاج بی بی کے بچے اپنی ماں کی باتوں کو بہت غور سے سنتے اور روزانہ اپنا سبق اچھی طرح یاد کرتے اور ماں کو سناتے، بچوں کے اندر علم حاصل کرنے کی لگن پیدا ہو گئی، بچے سکول میں آچھا پڑھنے لگے، ایک وقت آیا بچے سکول میں پوزیشن حاصل کرنے لگے۔
تاج بی بی اپنے بچوں کی تعلیم سے بے پناہ خوش تھی۔
وقت گزرتا گیا، بچے پڑھتے پڑھتے میڑک تک پہنچے، بڑے دونوں بچوں نے بالترتیب پہلی اور دوسری پوزیشن حاصل کی۔
آج تاج بی بی بہت خوش ہے کیونکہ اس کے دونوں بڑے بچوں عمران اور کبیر نے پوزیشن کے ساتھ میڑک کا امتحان پاس کر لیا ہے، آچھا رزلٹ آنے پر بچے اور انکی ماں بہت زیادہ خوش ہیں۔
باقی دو بچوں نے بھی آٹھویں اور نویں کلاس پاس کر لی ہے۔
تاج بی بی نے اپنے بچوں کی تعلیمی کامیابی کو دیکھتے ہوئے اہل محلہ میں مٹھائی تقسیم کی۔
اہل محلہ تاج بی بی کی بچوں سے محبت اور تربیت کی تعریف کرنے پر مجبور ہو گیا اور تاج بی بی کی بہادری کو سلام پیش کرنے لگا۔
تاج بی بی نے اپنے دونوں بڑے بچوں عمران اور کبیر سے پوچھا آپ میڑک پاس کرنے کے بعد کیا پڑھنا چاہتے ہیں، کیونکہ بچوں نے میٹرک اچھے نمبرز سے پاس کی تھی، اس لیے بچوں نے بالترتیب کہا ڈاکٹر اور انجینئر بننا چاہتے ہیں۔
تاج بی بی بچوں کے فیصلے پر خوش تھی، عمران نے پری میڈیکل میں داخلہ لیا اور کبیر نے پری انجنیئرنگ میں داخلہ لے لیا۔
تاج بی بی کی بہترین تربیت کے باعث بچے اپنی تعلیم پر فوکس رے، بچوں نے ایف۔ایس۔سی میں بہترین نمبرز لیے دونوں نے بالترتیب میڈیکل اور انجینئرنگ یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا۔
دوسرے بچوں میں وسیم نے میٹرک پاس کی اور لاء کالج میں داخلہ لیا کیونکہ وسیم وکالت کے شعبے سے وابستہ رہنا چاہتا تھا۔
زرینہ میٹرک میں پہنچ گئی اور اس نے آرٹس مضامین کا انتخاب کیا، وہ چاہتی تھی کہ وہ فائن آرٹس میں ماسٹر کرے۔
وقت گزرتا گیا تاج بی بی کی خواہشات پوری ہونے لگیں کیونکہ میڈیکل یونیورسٹی سے عمران نے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی اور ہاوس جاب شروع کر دی دوسری طرف کبیر نے انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کر لی اور ایک اچھے ادارے میں نوکری پر لگ گیا۔
تاج بی بی اپنی کی گئی محنت و تربیت سے بہت خوش تھی اہل علاقہ تاج بی بی کو اسکے بچوں کی کامیابی پر مبارکباد دینے اسکے گھر پہنچ گئے۔
اہل علاقہ سمجھتا تھا ایک اکیلی عورت نے کتنی بہادری سے بچوں کی تعلیم و تربیت کی اور انھیں ایک بہترین مقام پر پہنچایا۔
کچھ سال گزرنے کے بعد تاج بی بی کے چھوٹے بیٹے وسیم اور زرینہ نے بھی اپنی ڈگریاں حاصل کر لیں اور عملی زندگی میں پہنچ گئے۔
تاج بی بی نے تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنی بیٹی زرینہ کی اچھے پڑھے لکھے گھرانے میں شادی کر دی۔
بیٹوں نے ملکر ایک خوبصورت گھر تعمیر کیا، تاج بی بی نے اپنے سب بچوں کی شادیاں کر دیں، تاج بی بی اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئی۔
سب ہنسی خوشی زندگی گزارنے لگے، ایک دن سارے بہن بھائی اکٹھے ہوے اور پروگرام بنایا کیوں نا آج ہم اپنی والدہ تاج بی بی سے کچھ سوالات کریں اور والدہ کی زندگی کے متعلق کچھ جان سکیں اور انکی تعلیم کے بارے میں معلوم کر سکیں۔
بڑے بیٹے عمران نے نہایت ہی ادب سے اپنی والدہ تاج بی بی سے سوال کیا" ماں جی آپ نے کتنی تعلیم حاصل کی ہے"؟
تاج بی بی خاموش ہو گئی اور پوچھا، آپ کیوں پوچھنا چاہتے ہیں؟
وسیم نے کہا اس لیے کیونکہ آپ نے ہماری بہترین تعلیم و تربیت کی جسکے باعث آج میں بہت ہی اچھے مقام پر کھڑے ہیں۔
تاج بی بی مسکرائی اور کہا "میرے بچوں میں ان پڑھ عورت ہوں" میں نے کوئی تعلیم حاصل نہیں کی ہے، آپکے والد فوت ہو گئے تھے، میں نے سوچا میں خود ہمت کروں اور آپکی تعلیم و تربیت کروں۔
زرینہ نے حیرانگی سے پوچھا"ماں جی آپ تو ہم سے باری باری سبق سنتی تھیں اور پھر بٹھا دیتی تھیں، وہ کیا تھا؟
تاج بی بی نے کہا" مجھے علم تھا اور جانتی تھی، آپ جو بھی پڑھیں گئے وہ درست ہی پڑھیں گئے، کچھ نا کچھ اچھا پڑھ لیں گئے، کچھ یاد بھی ہو جائیگا۔
تاج بی بی کی اس بات پر بڑے بیٹے عمران نے کہا " واہ کیا بات ہے" 17 سال تک ہمیں محسوس نہیں ہوا آپ ان پڑھ ہیں، آپکے رعب و دبدبے کے باعث ہم پڑھتے چلے گئے اور آج ہم بہترین مقام پر پہنچ گئے ہیں۔
بڑے بیٹے عمران نے کہا، ہمیں فخر ہے، ہماری ماں جائل عورت تھی لیکن اس نے ہماری تعلیم و تربیت ایک پڑھی لکھی ماں جیسی کی ہے اوراللہ نے ہمیں آپ جیسی بہادر، پیار کرنے والی ماں دی ہے، جس نے تعلیم و تربیت سے ہماری زندگیوں کو بدل ڈالا ہے اور آج ہمیں بڑے اعلی مقام پر پہنچا دیا، جسکے لیے ہم سب بہن بھائی اپنی ماں کے شکر گزار ہیں اور دعا گو ہیں اللہ ہماری ماں کو صحت و تندرستی عطاء فرمائے۔
آمین
Please, Like / Comments / Share
Comments
Post a Comment
For More Information Please Comments.