دورِ حاضر میں یزیدیوں کی پہچان | فلسطین، کربلا، عرب امارات اور پاکستانی محنت کشوں کی دردناک حقیقت
انسان
کی زندگی کے پانچ الفاظ (ز۔ ن۔ د ۔ گ ۔ ی)
کا اختتام صرف تین الفاظ
"موت" (م ۔ و۔ ت) پر ہے
تحریر: بشارت موسوی
انسان دنیا میں
صرف پانچ الفاظ پر اوچھل کود کر رہا ہے۔
وہ الفاظ
"زندگی" (ز۔ن۔د۔گ۔ی) ہیں۔
ان پانچ الفاظ کے
ساتھ اللہ نے انسان کو تخلیق کر کے اس دنیا میں بھیجا ہے۔
انسان سمجھتا ہے میرے
پاس بہت دولت و مال زر ہے، میں پراسائش اور عیاشی کی زندگی گزار رہا ہوں، مجھے کوئی
تنگ و پریشان نہیں کر سکتا، میں ہر چیز کو خریدنے کی طاقت رکھتا ہوں۔
میں رشتہ داروں
اور دوستوں سے بہت بہتر ہوں، میرے پاس بہت جائداد ہے، مجھے کوئی بھی شکست نہیں دے
سکتا، میں ہر اس انسان کو خرید سکتا ہوں جو میرے مقابلے میں آئے، میں دشمن کو پیسے
کے بل بوتے پر نیچے گرا سکتا ہوں۔
میں کسی سے نہیں
ڈرتا، میں کسی قانون کو نہیں مانتا میرے پاس پیسہ ہے، میں سب کو خرید لوں گا۔
انسان اس دنیا میں
بچے کی صورت میں پرورش پاتا ہے، یہی بچہ بڑا ہوتا ہے، مختلف مراحل سے گزرتا ہوا،
20 سال کی عمر کو پہنچتا ہے، ابھی پانچ الفاظ کے اندر رہتے ہوے سوچتا ہے، تعلیم
حاصل کرنی ہے، تعلیم کے بعد عملی زندگی کا سوچتا ہے، نوکری کرنے کا سوچتا ہے، نوکری
کے ساتھ آرام و اسائش کی تلاش میں نکلتا ہے، شادی کرنا چاہتا ہے، شادی کے بعد اللہ
سے اولاد کے لیے دعا مانگتا ہے، اللہ اولاد سے نوازتا ہے، ابھی تک انسان پانچ
الفاظ کے اندر ہی رہنا چاہتا ہے، اور چاہتا ہے، گھر بنا لوں، پیسہ کما لوں، بچوں
کو پڑھا لوں، انھیں اعلی تعلیم دلوا دوں، بس کسی طریقے سے بہت زیادہ پیسہ کما لوں۔
انسان بس پانچ
الفاظ (زندگی۔ز۔ن۔د۔گ۔ی) کی فکر میں رہتا
ہے، لیکن وہ تین الفاظ ( موت۔م۔و۔ت) کی فکر نہیں کرتا، اور نہیں سوچتا کہ یہ وہ
الفاظ ہیں جو انسان کے ساتھ جڑے ہوے ہیں، کسی بھی وقت ان الفاظ کو تخلیق کرنے والا
اللہ اپنی طرف بلا سکتا ہے، لیکن انسان ہے کہ بس 5 الفاظ میں ہی رہنا چاہتا، یہ نہیں
سوچتا ان پانچ الفاظ کا دورانیہ مختصر ہے، کیونکہ زیادہ دورانیہ تین الفاظ کا ہے،
جسے اللہ نے خوب عزت بخشی ہے، اللہ جب تین الفاظ کو انسان کے لیے روانہ کرتا ہے،
تو وہ 5 الفاظ پر برتری حاصل کرتے ہیں، جب تین الفاظ آتے ہیں تو پانچ الفاظ ختم ہو
جاتے ہیں، بندہ پانچ الفاظ کے مختصر وقت کو چھوڑ کر تین الفاظ کی لمبی دنیا میں
چلا جاتا ہے، اس لمبی زندگی میں جب اللہ پانچ الفاظ والے وقت کے بارے میں پوچھتا
ہے، اور کہتا ہے کہ تم نے یہ پانچ الفاظ کیسے گزارے کہاں گزارے، میں نے تمھیں دنیا
میں ان پانچ الفاظ کے ساتھ بھیجا تھا اور کہا تھا میری عبادت کرو، مجھ سے ڈرو،
دوسروں کے لیے بھلائی کے کام کرو، حقوق العباد کا خیال رکھو اور یہ بھی سمجھایا
تھا میرے تین الفاظ کو اپنے سینے سے لگا کے رکھو تاکہ میں تمھیں اچھی طرح یاد رہ
سکوں، لیکن تم نے کیا کیا تم پانچ الفاظ کے ہو کے رہ گئے، تین الفاظ تمھیں پکارتے
رے چیختے رے، لیکن تم بہرے ہو گئے تھے، تم نے تین الفاظ کی فکر نہیں کی انکی آواز
نہیں سنی جان بوجھ کر بہرے بن گئے تھے؟ اگر فکر کر لیتے، یہ تین الفاظ تمھیں آخرت
میں میرے سامنے سرخرو کرتے، اور تم خوشی سے مجھے بتاتے کہ میں نے عارضی پانچ الفاظ
پر کم توجہ دی تھی، میں زیادہ تین الفاظ کے ساتھ جڑا رہا تھا، تو میں تم سے بے حد
خوش ہوتا اور ان تین الفاظ کی عزت کرتا تمھیں آخرت کی بہترین زندگی دیتا، لیکن تم
نے وقت ضائع کیا، تم عارضی پانچ الفاظ کی دنیا میں گم ہو گئے تھے، تم نے تین الفاظ کی بہترین دینا کو کھو دیا، اب
تم یہاں بے سکونی کی لمبی زندگی گزارو جس میں مشکلات ہی مشکلات ہیں، ہر طرف راستہ
مشکل سے مشکل تر ہے، کیڑے مکوڑے ہیں، بچھو اور سانپ اور اژدہا ہیں۔
کاش انسان پانچ
الفاظ (ز۔ن۔د۔گ۔ی) سے نکل کر تین الفاظ
(م۔و۔ت) کی فکر کر لے تو شائد قبر میں اللہ کے حضور سرخرو ہو سکے، طویل اور لمبی
زندگی آچھی گزار سکے,
اللہ ہم سب کو
توبہ و استغفار کرنے کی ہمت و توفیق عطا فرمائے، پانچ وقت کا نمازی بنائے، دوسروں
سے بھلائی کرنے کی ہمت و توفیق عطا فرمائے، قرآن و سنت پر عمل کرنے کی طاقت عطا
فرمائے۔
آمین یا رب العالمین
Please, Like / Comments / Share
Comments
Post a Comment
For More Information Please Comments.