دورِ حاضر میں یزیدیوں کی پہچان | فلسطین، کربلا، عرب امارات اور پاکستانی محنت کشوں کی دردناک حقیقت

Image
  دور حاضر میں یزیدیوں کی پہنچان   تحریر:   بشارت موسوی     امام حسینؑ اور اہلِ بیتؑ کی عظیم قربانی  یہ تحریر سانحۂ کربلا، امام حسینؑ کی عظیم قربانی، فلسطین پر جاری مظالم، عرب امارات میں پاکستانی محنت کشوں کے خلاف کارروائیوں اور موجودہ دور میں یزیدی سوچ کے مختلف پہلوؤں پر مبنی ہے۔ میں نے اسلامی تاریخ اور موجودہ عالمی حالات کو جوڑتے ہوئے اپنے خیالات پیش کیے ہیں۔ امام حسین علیہ السلام اور انکے خاندان کو یزید نے کربلا کے مقام پر شہید کیا  امام علیہ السلام کو شہید کرنے کے بعد مختلف جگہوں پر جشن منایا گیا امام علیہ السلام         کے سر مبارک  کو پامال کیا گیا ، اس شہزادے کے سر کی بے حرمتی کی گئی جسے رسول ص اپنے کندھوں پر سوار کرتے  تھےاپنے شہزادوں کو گھوڑ سواری  کرواتے تھے،  امام حسین علیہ السلام کی اس عظییم الشان قربانی کو  تاریخ نے محفوظ کیا ہے، آج پوری دنیا امام حسین  علیہ السلام کی بچوں کے ساتھ دین محمدی ص کے لیے دی گئی عظیم قربانی کو یاد کرتی ہے۔   بیشک     " قتل حسین  ...

The story of Dubai is in my mouth / دوبئی کی کہانی میری زبانی

 دوبئی کی کہانی میری زبانی 

The Story of Dubai is in Mouth

تحریر: بشارت موسوی 

سن 2012 میں، میں نے پی۔ٹی۔سی۔ایل کو 19 سال نوکری کرنے بعد چھوڑا اور 2013 میں ایک پرائیویٹ ٹیلیکام  کمپنی میں سائٹ سپر وائزر کی حثیت سے نوکری کر لی، کمپنی کے لیے میں نے 5 بڑے پروجیکٹ مکمل کیے اور کمپنی نے اچھا اور بہترین کام کرنے پر سرٹیفیکیٹ سے نوازا جو میرے لیے قابل فخر تھا۔

.کمپنی کے پاس مزید پروجیکٹ موجود نہیں تھے، اس لیے کمپنی میں مزید نوکری اگے نہ بڑھ سکی

میرے بچپن کے دوست و کلاس فیلو محمد علی نے کہا ایک کمپنی زیڈ میں سکائپ پر انٹرویو دے دو، میں نے سکائپ پر ذیشان حامد نامی زیڈ کمپنی کے نمائیندے کو انٹرویو دیا اور ذیشان حامد نے مجھے کہا کہ ہم آپ کو بلائیں گئے اور میں آپکو نوکری کا کنٹریکٹ لیٹر بھیج رہا ہوں سائن کرکے واپس بھیج دیں، میں نے کنٹریکٹ لیٹر پڑھا اور سائن کر کے واپس بھیج دیا۔

کافی عرصہ گزر جانے کے بعد کمپنی کی طرف سے کوئی جواب نہ آیا اور نہ ہی کمپنی نے کنٹریکٹ دینے کے بعد رابطہ کیا، جس کی وجہ سے کچھ مایوسی ہوئی، پھر یہی خیال آیا پاکستانی کمپنی ہے، ان سے نہ ہی امید رکھی جائے تو بہتر ہے۔

میں نے اپنے دوست محمد علی سے رابطہ کیا اور اسے کہا کہ میں ویزٹ پر دوبئی آنا چاہتا ہوں اور روزگار ڈھونڈنا چاہتا ہوں، مجھے آپکے پاس رہائش چاہیے اور آپ مجھے ائیر پورٹ سے لے جائیں، محمدعلی نے حامی بھر لی اور میں دوبئی روانہ ہو گیا، محمد علی کے پاس شارجہ میں قیام کیا، محمد علی نے میری بہت خدمت کی اور دوبئی جیسے شہر میں گھمایا پھرایا اور خوب خیال رکھا۔

محمد علی نے اپنا لیپ ٹاپ دیا میں روزانہ نوکری ڈھونڈتا اور سی۔وی بھیجتا، لیکن کامیابی نہ ہوئی، کچھ جاننے والوں سے بھی رابطہ کیا پھر بھی کامیابی نہ ملی۔

کچھ دن گزرنے کے بعد محمد علی نے دوبارہ زیڈ کمپنی سے بات کی اور مجھے اپنے ساتھ انکے آفس دوبئی چھوڑ دیا، زیڈ کمپنی نے محمد علی کی عزت کرتے ہوے مجھے نوکری پر رکھا، اور مجھے ابو ظہبی کی طرف بھیج دیا۔

جب میں ابو ظہبی زیڈ کمپنی کے آفس مرور میں پہنچا تو وہاں پر میری ایک جگا ٹائپ پروجیکٹ منیجر عمران آشرف سے ملاقات ہوئی، بظاہر وہ مجھے بہت اچھے انداز میں ملا، اس نے میری سی۔وی اور ڈاکومنٹس دیکھے تو میرے تجربے سے کافی متاثر ہوا اور کہا آپکا تو ٹیلیکام میں انٹرنل شعبہ میں بہت تجربہ ہے، ہم آپکو بیک آفس میں رکھیں گئے، آپ چند ہفتے سائٹ پر کام کریں، تاکہ کچھ سمجھ جائیں۔

میں بھی یہی چاہتا تھا کیونکہ دوبئی میں جدید ٹیکنالوجی (جی۔پون) کام کر رہی تھی جو کہ پاکستان میں نہیں تھی، میں نے 3 سے 4 ہفتے سید شفاعت نامی ایک انجینئر کے ساتھ ریم۔آئرلینڈ ابو ظہبی میں کام کیا، ریم ائر لینڈ کا علاقہ کافی صاف ستھرا اور بہترین نیٹ ورک لگا ہوا تھا۔

شفاعت انجینئر انتہائی شریف، خوش اخلاق اور ملن سار لڑکا تھا، میں اسکے اخلاق سے بہت متاثر تھا، کیونکہ اس لڑکے نے میری بہت خدمت کی حتی کہ مجھے کھانے کے پیسے بھی نہیں دینے دیتا تھا۔

اس لڑکے نے مجھے کافی کام سکھایا اور ہر چیز کے بارے میں بتایا اور بتایا (او۔این۔ٹی) کس طرح کن فگر ہوتی ہے اور بیک آفس میں کیسے کنٹرولر سے رابطہ کرتے ہیں، یہ ساری معلومات شفاعت نے مجھے دیں۔

چار ہفتے گزرنے کے بعد جگا پروجیکٹ منیجر عمران آشرف نے میری ٹرانسفر ابو ظہبی سٹی میں کر دی، جہاں پر نیٹ ورک کی حالت بہت خراب تھی، ریم ائر لینڈ کی طرح نیٹ ورک صاف شفاف نہیں تھا اور خاص کر اس علاقے کی لوکیشن میرے لیے بلکل نئی تھی، جہاں پر میرے لیے مشکلات ہی مشکلات تھیں۔

سٹی کے لیے میری ڈیوٹی زین نامی لڑکے کے ساتھ لگا دی، میری قسمت اچھی تھی زین بھی ایک آچھا اور تعاون کرنے والا لڑکا تھا، مرور آفس میں عتیق نامی ایک مولوی تھا جو انتہائی بد تمیز اور بداخلاق انسان تھا، وہ مجھے روزانہ کام کی لسٹ پکڑا دیتا، جہاں 6 سے 8 ٹاسک ہوتے، جو میرے جیسے نئے بندے کے لیے ایک پہاڑ کی طرح ہوتے، کام کرنے کا مسئلہ نہیں تھا، مسئلہ لوکیشن کے تلاش کرنے کا تھا، کیونکہ زین لڑکے کے پاس اپنا کام ہوتا تھا اور میرے پاس اپنا کام تھا، بحرحال جہاں 10 منٹ میں لوکیشن ملتی تھی وہاں مجھے 45 منٹ یا ایک گھنٹے میں ملتی تھی، پھر ٹاسک بھی وقت پر مکمل نہیں ہوتے تھے، شام کو دن بھر کی رپورٹ جمع کروانی ہو تو وہاں پر جگا پروجیکٹ منیجر عمران آشرف میرے ساتھ  بہت بدتمیزی کرتا اور خوب باتیں سناتا تھا، میرے لیے بہت تکلیف دہ بات تھی، کیونکہ میں نے پی۔ٹی۔سی۔ایل میں 19 سال نوکری کی اور ایک ذمہ دار شعبہ کنٹرول روم و سوئچ روم میں سیمنز ڈیجیٹل سسٹم پر سبسکرائبر ایڈمنسٹریشن پر کام کیا، اور خوب عزت پائی، کبھی بھی کام چوری نہیں کی بلکہ ڈیپارٹمنٹ میں اپنا ایک نام بنایا تھا، لیکن یہاں مجھے کام کی وجہ سے بہت  شر مندگی ہوتی تھی، جسکی وجہ سے میں اکثر تکلیف میں رہتا تھا، لیکن اگلے دن اپنے آپ کوتسلی دیکر پھر آچھا کرنے کا ارادہ کرتا تھا۔

ایک دن تو عمران آشرف نے انتہا کر دی، ہم جب شام کو ڈیوٹی ختم کر کے 6 بجے زیڈ مرور آفس پہنچے تو عمران آشرف نے ہمیں دوبارہ سائٹ ایریا میں بھیج دیا،اور کہا مزید کام کر کے آئیں، یہ شخص انتہائی بدتمیز اور بد اخلاق انسان تھا خیر ہم لوگ سائٹ ایریا میں چلے گئے اور کچھ کام کر کے واپس ائے اور روم کی طرف روانہ ہو گئے۔

عمران اشرف کی تاریخ اچھی نہیں تھی کچھ پرانے دوستوں سے معلوم ہوا، یہ شخص سب کے ساتھ بدتمیزی کرتا ہے اور انتہائی بد اخلاق انسان ہے۔

ہمارے ساتھ ایک لڑکا امان اللہ خان جدون تھا جو انتہائی قابل اور (بی۔ایس۔سی) الیکٹریکل انجینئر تھا، اور عمران آشرف سے زیادہ پڑھا لکھا تھا،اس انجینئر کی بھی سائٹ ایریا میں ڈیوٹی لگا دی گئی، عمران آشرف نے اس لڑکے امان اللہ خان سے بدتمیزی اور بداخلاقی سے پیش آنا شروع کر دیا، ایک دن تو انتہا ہی کر دی، جگا ٹائپ عمران آشرف نے سائٹ ایریا میں جا کر امان اللہ کے ساتھ بدتمیزی کی اور بات ہاتھا پائی تک جا پہنچی، پھر امان اللہ نے کمپنی پر لیبر کورٹ میں کیس دائر کر دیا اور امان اللہ کو دوبئی آفس کے لیے ٹرانسفر کر دیا گیا۔

دوبئی آفس نے امام اللہ کی ڈیوٹی موٹر سٹی میں لگا دی۔

میں زین لڑکے کے ساتھ ڈیوٹی کر ہی رہا تھا کہ میری ڈیوٹی زین سے ہٹا کر ایک اور لڑکے فصیع امیس کے ساتھ لگا دی، یہ لڑکا بھی انتہائی شریف اور قابل تھا، ہم دونوں روزانہ مرور آفس سے ٹاسک لیتے اور سٹی کی طرف روانہ ہو جاتے کام کر کے واپس مرور آفس میں رپورٹس جمع کرواتے۔

میں جہاں پر بھی دل لگا کر کام کرتا اور لوکیشن کو سمجھنے کی کوشش کرتا وہاں سے عمران آشرف میری ٹرانسفر کر دیتا فورن میرا ایریا تبدیل کر دیتا، مجھے کسی خاص جگہ پر نوکری کرنے ہی نہیں دیتا تھا، جسکی وجہ سے میں بہت پریشان رہتا تھا، ٹاسک بھی مکمل نہیں ہو پاتے تھے۔

فصیع ایک بہترین لڑکا تھا اس نے میرا ہر جگہ پر بھر پور ساتھ دیا، جہاں مجھے سمجھ نہ آئی وہاں پر مجھے سمجھایا اور سکھایا، جسکے لیے میں اس لڑکے کا بے حد مشکور و ممنون ہوں۔

کام کر ہی رہا تھا کہ ایک دن عمران آشرف نے میری دوبئی آفس کے لیے ٹرانسفر کر دی، جب دوبئی پہنچا تو انھوں نے کہا آپ یہاں کیوں آئے ہیں، تو انھیں بتایا کہ عمران آشرف نے بھیجا ہے، پھر انھوں نے کہا نہیں آپ واپس ابو ظہبی جائیں وہاں ہی ڈیوٹی کریں، یہ ساری خواریاں عمران آشرف کروا رہا تھا، وہ مجھے تنگ کرنا چاہتا تھا، میں سمجھنے سے قاصر تھا وہ میرے ساتھ ایسا کیوں کر رہا تھا اور مجھے سکون سے کیوں کام نہیں کرنے دے رہا تھا؟

کچھ دن گزرنے کے بعد مجھے زیڈ آفس ایچ۔آر کی طرف سے ایک لالی پاپ دیا گیا کہ میں موٹر سٹی دوبئی پروجیکٹ میں بطور کوآرڈینیٹر ایک پختون لڑکے خرم کے ساتھ کام کروں۔

پھر وہ وقت آ گیا اور مجھے دوبئی آفس کے لیے ٹرانسفر کر دیا گیا، میں نےکوشش کی کہ امان اللہ خان کے ساتھ ہی روم میں قیام کیا کروں کیونکہ امان اللہ خان سے گپ شپ تھی کیونکہ یہ پڑھا لکھا اور تعاون کرنے والا لڑکا تھا، میں نے امان سے رابطہ کیا اور امان اللہ کے ساتھ ایک ہی روم میں قیام پذیر ہو گیا، میری ڈیوٹی بھی موٹر سٹی میں لگ گئی۔

موٹر سٹی میں ڈو کمپنی کا کاپر سے فائبر میں شفٹنگ کا پروجیکٹ  تھا، یہاں پر اچھا ڈیسینٹ اور بہترین ماحول تھا، کام بھی بہت ہی آسان تھا، کاپر سسٹم کی جگہ فائبر ڈیوائس نصب کرنا تھی، جو آسانی سے ہو رہی تھی، میں روزانہ کی بنیاد پر اپنا ٹاسک مکمل کر لیتا تھا۔

میرے ایک اور بچپن کے دوست امتیاز خان جو کہ پاکستانی سفارت خانے میں کام کرتے تھے، میں اکثر ان سے اس کمپنی کے بارے گلے شکوے کرتا رہتا تھا، بلکہ کئی بارانھیں شکایت بھی لگائی کمپنی بلا وجہ مجھے پریشان کر رہی ہے، انھوں نے کمپنی والوں سے رابطہ بھی کیا، لیکن کیا ہے کہ یہ پاکستانیوں کی کمپنی ہے، جو اپنی اور اپنی ملک کی عزت کا خیال نہیں کرتے پیسے کی خاطر کچھ بھی کر سکتے ہیں، یہی حال اس کمپنی کا تھا، اس کمپنی کے مالک سے میری ملاقات تو نہیں ہوئی، لیکن کمپنی کے مالک نے کمپنی کے لیے جن لوگوں کا انتخاب کیا ہے، وہ انتہائی بدتمیز، بداخلاق، بد لحاظ اور گھٹیا انسان ہیں۔

کسی بھی آرگنائزیشن کی کامیابی میں اسکے ورکرز کا بہت بڑا ہاتھ ہوتا ہے، یہ ورکرز ہی ہوتے ہیں جو کمپنی کے لیے ان تھک محنت کرتے ہیں، کسٹمرز کے گھر جاتے ہیں کسٹمرز کی باتیں سنتے ہیں اور کمپنی کے لیے ریونیو اکٹھا کرتے ہیں۔

لیکن افسوس ہوتا ہے، ہمارے پاکستانی اچھے کردار کے مالک نہیں ہیں اور نہ ہی اپنے ورکرز کی عزت کرتے ہیں اور نہ ہی ورکرز کو انکی محنت کا بھر پور صلہ دیتے ہیں، انکی کوشش ہوتی ہے جہاں بھی موقع ملے دوسرے کو نیچا دکھایا جائے، اور اپنی شان میں اضافہ کیا جائے دوسرے کی مجبوری کا ناجائز فائدہ اٹھایا جائے۔ 

یہ ساری باتیں زیڈ کمپنی میں بکثرت پائی جاتی ہیں، کمپنی میں کئی غیر ملکی انجینئرز لڑکے پاکستانی کمپنی کے بارے میں گلے شکوے کرتے نظر آئے، ایک فلپائنی انجنئنرز ڈینی نے مجھے کہا پاکستانی کمپنی اور مینجمنٹ آچھی نہیں ہے میں چھوڑ کر جا رہا ہوں، کچھ دنوں بعد وہ انجنیئر زیڈ کمپنی کی منیجمنٹ کے غلط رویے کے باعث چھوڑ کر اپنے ملک روانہ ہو گیا، اس کمپنی سے کئی لوگ غلط مینجمنٹ کے باعث بد دعائیں دیتے ہوے چھوڑ کر چلے گئے۔

میرے دوست امتیاز خان نے مجھے کافی سہارا دیا انھوں نے مجھے اپنے گھر بلایا میری خدمت کی مجھے پیسے تک دیئے، ایک دن انھوں نے سفارت خانے میں موجود خالی آسامی کے لیے انٹرویو بھی دلوایا لیکن میری بد قسمتی میں سیلیکٹ نہیں ہو سکا وہاں پر بھی کچھ سفارشی لوگ آ گئے، میری جگہ انھیں رکھا گیا۔

موٹر سٹی میں بہتر کام چل رہا تھا، ایک دن میں نے اپنا کام ختم کیا، میرے ساتھ دوسرا لڑکا کام کر رہا تھا، اس لڑکے کی ڈیوائس آپ گریٹ نہیں ہو رہی تھی، میں بھی وہاں پہنچا دیکھا ڈیوائس آپ گریٹ نہیں ہو رہی ہے، تو میں،  مین سسٹم (ایف۔ڈی۔ایچ روم) کی طرف گیا وہاں پہلے سے موجود ایک ٹیکنیشن تھا اسے بتایا ڈیوائس آپ گریٹ نہیں ہو رہی اس نے کیبلز کو دیکھا میں نے بھی کیبلز کوچیک کیا، اسی دوران کوئی فالٹ آ گیا تو موٹر سٹی ڈو مینجمنٹ کا نمائندہ نمو دار ہوا، کہنے لگا، سسٹم خراب ہو گیا ہے، اور لوگوں کے فون و ٹی وی کام نہیں کررے ہیں، تم نے فالٹ ڈالا ہے، حالانکہ ایسا کچھ نہیں تھا، فائبر کی ایک کیبل لوز تھی، اسے تبدیل کرنے سے فالٹ ختم ہو گیا تھا، لیکن ڈو مینجمنٹ کے نمائیندے نے اپنے نمبر بنانے کے لیے الزام تراشی کی، زیڈ کمپنی کے نمائیندے نے اسکا ساتھ دیا اور مجھے برا بھلا کہا، حتی کہ زیڈ کے نمائندے نے مجھے گالیاں تک  دیں، یہ میری زندگی کا برا ترین دن تھا۔

اتنی بڑی کمپنی ہونے کے باوجود، اپنے ورکرز کی عزت نفس پر حملہ آور ہونا ایک گھٹیا ذہن کی عکاسی ہوتی ہے۔

میں نے اپنی زندگی میں  ٹیلیفون ایکسچینج کے بہت اہم ڈیپارٹمنٹ میں کام کیا ہے، بڑے سسٹم کو ہینڈل کیا ہے، جہاں ایکسچینج کا کئی بار بریک ڈاون ہوا، اور کسٹمرز کے ٹیلیفون ڈیڈ تک ہو گئے تھے، لیکن کوئی قیامت نہیں آئی سسٹم ری سٹور ہو جاتا تھا، کیونکہ یہ ٹیکنالوجی ہے، کسی وقت بھی جواب دے سکتی ہے، لیکن اسطرح واویلا نہیں کیا جاتا تھا اور نہ ہی ورکرز کو زلیل کیا جاتا ہے، اگر خدانخواستہ کوئی غلطی سر زد ہو بھی جائے، اسے یہ دیکھ کر درگزر کر دینا چاہیے، انسان خطا کار ہے اور غلطی کرنے سے سیکھتا ہے۔ 

میں ڈو کمپنی کے نمائیندے اور زیڈ کمپنی کے نمائیندے کے واویلا سے بہت پریشان ہوا اور ان کا رویہ انتہائی گھٹیا تھا۔ 

انھیں اپنے سٹاف کا ساتھ دینا چاہیے تھا، لیکن زیڈ کمپنی کا نمائیندہ بدمعاشی تک اتر آیا اور اس نے مجھے ناجائز گالیاں بھی دیں، جو بہت زیادہ افسوسناک تھیں، ایک بڑی کمپنی کا گھٹیا پن مجھے مدتوں یاد رے گا۔

اسی دن میرے خلاف رپورٹ زیڈ دفتر میں گئی اور مجھے سسپینڈ کر دیا گیا اور روم میں بٹھا دیا گیا، میرے ساتھ روم میں پہلے سے ہی موجود امان اللہ خان جوکہ پہلے ہی نوکری سے سسپینڈ تھا، امان اللہ خان نے کمپنی کے خلاف کیس کیا ہوا تھا، وہ مزید نوکری نہیں کرنا چاہتا تھا، کیونکہ کمپنی ورکرز کے حق میں کم تھی بلکہ ورکرز کے خلاف زیادہ تھی۔ 

کچھ دن روم میں بیٹھے رہنے کے بعد کمپنی نے مجھے کہا میں سہیل عباس نامی زیڈ منیجر سے ملوں اور کاپر مائیگریشن کروں، جب سہیل عباس سے ملا وہ بھی اچھا انسان لگ رہا تھا لیکن دیکھنے کی حد تک۔

اس کے ساتھ کام کرنا شروع کر دیا، وہ روزانہ مختلف ٹاسک پکڑا دیتا، جنکی کاپر سے فائبر میں مائیگریشن ہونی تھی، شروع شروع میں، میں کام کرتا چلا گیا اور کام کو سمجھ گیا، لیکن سہیل عباس نے بھی عمران آشرف والا کام کیا، ایریا سے ہٹ کے دور دراز کے ٹاسک دینا شروع کر دئیے جہاں مسائل کا پہاڑ تھا، کئی بار دوری کے باعث ایک یا دو ہی ٹاسک مکمل ہوں، جب شام کو پہنچوں اور رپورٹ بھیجوں تو تھوڑی دیر بعد ای۔میل آ جائے، جس میں لکھا ہو، آج آپ غیر حاضر ہیں اپ نے ٹاسک مکمل نہیں کیے۔

میرے ساتھ یہ آنکھ مچولی چلتی رہی، گھر فون کیا پتہ چلا بیوی بیمار ہے آپریشن ہو گا، کمپنی کو خط لکھا، اور 25 دن کی چھٹی طلب کی اور کچھ پیسے بھی مانگے، کمپنی نے چھٹی دینے میں ایک ماہ لگایا، اور بجاے 25 سو درہم دینے کے صرف 5 سو درہم دیکر پاسپورٹ ہاتھ میں تھمایا، میں میں نے 425 درہم کا ٹکٹ لیا اور واپس پاکستان پہنچ گیا، پاکستان پہنچ کر بیوی کا آپریشن کروایا، مزید پیسوں کی ضرورت پڑی کمپنی کو لکھا لیکن کمپنی نے میری تنخواہ بھی نہ دی بلکہ پاکستانی 22 ہزار روپے بھیجے، اور میری تنخواہ کو ہڑپ کر گئے۔ 

کچھ عرصہ بعد دوبارہ کمپنی سے رابطہ کیا کہ ڈیوٹی رپورٹ کرنا چاہتا ہوں، کمپنی کی طرف سے پیغام آیا ابھی پروجیکٹ نہیں ہے، جب ہم کہیں گئے پھر آئیں، 3، 4 ماہ گزرنے پر کمپنی نے مثبت جواب نہ دیا میں نے انھیں لکھا، میرا ویزہ کینسل کر دیں، جواب آیا آپکا ویزہ کینسل کر دیا جائیگا۔

جب کمپنی کے پیغام کو پڑھا تو اندازہ ہوا، کہ کمپنی دوبارہ نوکری نہیں دینا چاہتی، یہ میرے لیے ایک تکلیف دہ بات تھی کیونکہ میرے پاس متبادل کوئی ذریعہ معاش نہیں تھا۔

میں دوبئی میں رہ کر مزید کام کرنا چاہتا تھا اور مستقبل کے لیے بھرپورمحنت کرنا چاہتا تھا، کیونکہ میں پہلے ہی پی۔ٹی.سی۔ایل کو چھوڑ چکا تھا اور سوچا تھا کہ بائر رہونگا زندگی کو بہتر انداز میں گزارنے کی کوشش کرونگا، لیکن زیڈ کمپنی نے میرے سارے خوابوں کو چکنا چور کر دیا۔

متعدد بار زیڈ کمپنی کے ایچ۔آر میں رابطہ کیا گیا انھیں گزارش بھی کی مجھے نوکری دے دیں لیکن عمران آشرف کی بد معاشی کے باعث نوکری نہ مل سکی اور پاکستان میں ہی صبر شکر کیا۔

میں زیڈ کمپنی میں اچھا کام کرنا چاہتا تھا اپنا 19 سالہ تجربہ شئیر کرنا چاہتا تھا، دوبئی میں میرے ساتھ یہ ضرورتھا، کہ نیاء ماحول تھا نئی ٹیکنالوجی تھی، نئے لوگ تھے اور نئی جگہ تھی۔

لیکن زیڈ کمپنی کے مالک نے شائد زیادہ قابل لوگ ہائر نہیں کیے، بس جان پہنچان والے لوگوں کو کمپنی میں جگہ دی گئی، جنھوں نے کمپنی میں اپنا اثرو رسوخ بڑھا لیا اور چھوٹے اور پڑھے لکھے قابل ورکرز کو دبا لیا گیا،  پڑوسی ملک کے لوگ بھی زیڈ کمپنی میں کام کرتے نظر آئے انھیں بھی زیڈ کمپنی کی مینجمنٹ نے تگنی کا ناچ نچایا، وہ لوگ شائد بد اخلاق نہ ہوتے لیکن وہ بھی پاکستانی مینجمنٹ کے ساتھ ملکر بد تمیز، بد اخلاق اور بد لحاظ دکھائی دیئے۔

ابو ظہبی زیڈ آفس میں موجود انڈین لڑکی نے میرا نام دوبئی جی۔پون ٹریننگ کے لیے بھیج دیا، اور مجھے اطلاع بھی کر دی کہ مجھے دوبئی اکیڈمی میں ٹریننگ کرنا ہے، میں نے باقی لڑکوں کے ساتھ دوبئی ٹریننگ کی اور سرٹیفکیٹ حاصل کیا، جب عمران آشرف اینڈ کمپنی کو پتہ چلا انھوں نے کافی شور کیا کہ میں ٹریننگ کے لیے کیوں گیا، مجھے عمیر نامی سپر وائزر نے فون بھی کیا کہ مجھے نہیں بتایا آپ چلے گئے، تو میں نے اسے عرض کیا کہ مجھے ایچ۔آر کی طرف سے فون آیا تھا اس لیے میں نے دیر نہیں کی۔

اب اندازہ کیا جاسکتا ہے، چند لوگوں نے میرے ساتھ کتنا بغض کینہ رکھا، مجھے ہر جگہ پر زلیل و خوار کرنے کی بھر پور کوشش کی گئی۔

مجھے تنگ کرنے کے بجائے بتا دیتے کہ میں انکی کمپنی کے لیے مناسب نہیں تو میں دیر نہ کرتا، استعفی دیکر واپس پاکستان پہنچ جاتا، لیکن افسوس گندی مینجمنٹ کی اہلیت یہی تھی کہ وہ مجھے زلیل و خوار کرے۔

مجھے دوبئی سے آئے 6 سال کا عرصہ گزر گیا ہے، لیکن میرے اندر انکی باتیں اور زیادتیاں رچی بسی ہوئی ہیں، میں نے کوشش کی ان تمام حقائق سے پردہ آٹھاوں اور دوستوں سے شئیر کروں۔

میں اپنی اس سٹوری کو اپنے دوستوں محمد علی اور امتیاز سے لازمی شئیر کرنا چاہتا ہوں، کیونکہ شائد انکے ذہن میں ہو کہ میں غلط تھا، ایسا ہرگز نہیں ہے،  میں زندگی میں کسی صورت کام چور نہیں رہا بلکہ میرا ریکارڈ بتاتا ہے، میں نے اپنے کام میں بہت محنت کی اور اچھی شہرت و عزت پائی، جسکی گوائی میرے پرانے دوست و ساتھی ابھی بھی دے سکتے ہیں، میں اپنے آپکو زیادہ قابل نہیں سمجھتا لیکن اتنا ضرور ہے، اپنا دفاع کر سکتا ہوں، میرے استاد محمد اشتیاق قریشی جو جرمنی سے سیمنز ڈیجیٹل ٹیلیفون ایکسچینج کی ٹریننگ کر کے آئے میں نے انکی شاگردگی میں سبسکرائبرز ایڈمنسٹریشن میں بہترین کام کیا۔

افسوس اس بات کا ہے، میں نے غلط کمپنی کا انتخاب کیا اور ناکام تجربہ کیا، اگر یہ کمپنی مجھے موقع فراہم کرتی یقینن میں کمپنی کے لیے بہترین کام کرتا، لیکن کمپنی نے مجھے عمران آشرف جیسے نان ٹیکنیکل شخص کے سپرد کر دیا جو صرف انگریزی کے چار لفظ بول کر ابھی تک کمپنی کے عہدے کو انجوائے کر رہا ہے، اس شخص نے کئی لائق و فائق لوگوں کو اس کمپنی کا حصہ نہیں بننے دیا اور انھیں چلتا کیا ہے۔

اگر یہ شخص اس کمپنی میں قائم و دائم ہے، یقینن مالک بھی اسکے رحم و کرم پر ہو گا، کیونکہ کئی سالوں سے مینجمنٹ میں یہ شخص اپنی جڑیں مضبوط سے مضبوط کر چکا ہے، اپنے نالائق رشتہ داروں  کو کوالٹی کا سپر وائزر اور دیگر پوزیشنز میں نوکریاں دی ہوئی ہیں، یہ کہنا درست ہے اس شخص کی پانچوں انگلیاں گھی میں ہیں اور خود پورا کڑائی میں ہے۔

اس لالچی شخص کے لیے اتنا ضرور کہوں گا، یہ زندگی بہت ہی مختصر ہے، اسے اچھے انداز میں گزاریں، پیسے و عزت کے لیے کسی کی بھی عزت نفس پر مت حملہ کریں، ہر کسی کو انسان سمجھیں کیونکہ اللہ نے انسان کو آشرف مخلوقات بنایا ہے، اس لیے ہر انسان کی عزت نفس ہوتی ہے، اسکی عزت کریں، میں اس وقت پاکستان میں موجود ہوں اور بھوکا نہیں مرا، لیکن دوبئی کے کٹھن سفر کو نہیں بھول پایا۔ 

بس ایک معاورہ یاد رکھیں، کر بھلا ہو بھلا۔

My Dubai UAE Story

Please, Like / Comments / Share

Comments

Popular posts from this blog

سید محسن رضا کاظمی الحمیدی

تین بہن بھائیوں کی درد ناک داستان

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے لیے فرمایا