دورِ حاضر میں یزیدیوں کی پہچان | فلسطین، کربلا، عرب امارات اور پاکستانی محنت کشوں کی دردناک حقیقت
پاکستانی پرانے ڈراموں اور موجودہ ڈراموں میں نمایاں فرق
Significant difference between old Pakistani dramas and current dramas
تحریر: بشارت موسوی
میں نے پاکستانی ڈرامے بچپن سے ہی دیکھنے شروع کیے، جو معاشرے میں پائی جانے والی برائیوں کی نشاندہی کرتے تھے اور ایک بہترین سبق ہوتا تھا۔
چھوٹے بڑے سبھی ٹی۔وی اسکرین کے سامنے بیٹھے ہوتے تھے اور ڈرامہ لگنے کا بڑی بے تابی سے انتظار کرتے تھے، اس زمانے میں بہت ہی قابل سٹوری رائٹر ہوتے تھے جو ایک بہترین کہانی لکھتے تھے، وہ کہانی معاشرے میں موجود مسائل کی نشاندہی کرتی دکھائی دیتی تھی۔
یہ وہ وقت تھا جب بچے بڑے، بوڑھے مرد عورتیں سبھی ڈرامہ دیکھنے کے لیے بے تاب ہوتے تھے۔
ڈرامہ میں کوئی بھی برا سین و بے حیائی نہیں پائی جاتی تھی جس سے ساتھ بیٹھی بہو،بیٹی اور ماں کے سامنے شرمندگی کا احساس ہو۔
پی۔ٹی۔وی کے صاف ستھرے اور اسلامی کلچر کے مطابق ڈراموں نے پوری دنیا میں ایک لمبے عرصے تک راج کیا۔
پڑوسی ممالک ان ڈراموں کو بطور فلم دیکھنا پسند کرتے تھے وہ ان ڈراموں کو فلم کے برابر کا درجہ دیتے تھے۔
اس وقت کے بہترین سلجھے ہوے اداکار اور اداکارائیں اپنی بہترین کارکردگی پیش کرتے تھے، اور اپنے کردار کے اندر رچ بس جاتے تھے، دیکھنے والا اس کردار کو حقیقی زندگی میں تصور کرتا تھا، لوگ اس کردار کو سالہ سال بھول نہیں پاتے تھے۔
وہ کردار اس اداکار و اداکارہ کی پہنچان بن جاتا تھا، اس کردار کو مدتوں یاد رکھا جاتا تھا۔
پی۔ٹی۔وی نے بہترین اداکار و اداکارہ متعارف کروائے، قومی ٹی وی چینل کو اعزاز حاصل ہے اس نے بہترین ٹی۔وی ڈرامے بنوائے اور اپنے معیار کو قائم رکھا، نہ صرف معیار کو قائم رکھا بلکہ اپنی ثقافت اور اسلامی کلچر کا بھی خوب خیال رکھا۔
سن 70،80،اور 90 پی۔ٹی۔وی کا بہترین دور تھا جہاں بہترین اداکاروں کے ساتھ عمدہ ڈرامے پیش کیے گئے، جو پوری دنیا میں مشہور ہوے اور دوسری دنیا نے اپنی زبان کے ترجمے کے ساتھ دیکھے۔
اگر موجودہ دور کا پچھلے ادوار سے موازنہ کیا جائے، تو محسوس ہوتا ہے، یہ پاکستانی ڈرامے ہرگز نہیں ہیں، یوں محسوس ہوتا ہے، یہ ڈرامے کسی مغربی تہذیب کی نمائندگی کر رے ہیں، کہانی لکھنے والا یورپ میں پیدا ہوا تھا اور اس نے یورپ کے ماحول میں نشو و نما پائی تھی، جہاں بے حیائی و عریانیت اپنے عروج پر ہے اور یہ رائٹر وہی کہانی لکھکر پاکستان کے اسلامی معاشرے کو دکھانا چاہتا ہے اور بے حیاء کلچر کو پروموٹ کرنا چاہتا ہے۔
یہ رائٹر بھول گیا پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے، جہاں لوگوں کی زندگیاں اسلامی ثقافت و کلچر کے مطابق گزرتی ہیں، اس معاشرے میں بے حیائی اور عریانیت کو پسند نہیں کیا جاتا۔
ایک اسلامی معاشرے میں، لوگ اپنی زندگیوں کو قرآن و حدیث کے مطابق گزارنا چاہتے ہیں، پاکستان جیسے ملک میں جہاں لوگ دین محمدی ص کے ساتھ زیادہ پیار کرتے ہیں، وہاں پر بے ہودہ ڈرامے و فلمیں پیش کر کے اسلامی معاشرے میں بگاڑ پیدا کرنے کی بھر پور کوشش کی جارہی ہے، جو ایک خطرناک عمل ہے۔
موجودہ دور میں ماں، بہن بیٹی، بہو کے ساتھ بیٹھ کر پاکستانی ڈرامے نہیں دیکھے جا سکتے، یہ ایک تکلیف دہ بات ہے، جو آنے والی نسلوں کے لیے تبائی کا باعث ہےاور انھیں تبائی کی طرف دھکیلنا ہے۔
موجودہ ڈراموں میں، سٹوری رائٹر، ماں بیٹی اور بہو کے درمیان نفرت کو پروموٹ کر رہا ہے، اور انھیں طلاق جیسے برائی کے متعلق بتایا جا رہا ہے، آباد و خوش و خرم گھروں کو طلاق لینے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔
یہ بتانے کی کوشش کی جا رہی ہے، کہ ایک بیوی اپنے شوہر کی موجودگی میں دوسرے مرد سے تعلقات قائم رکھے، اور غیر مرد سے محبت کا تقاضا کرے، اور اپنے شوہر کو کہہ رہی ہے کہ اسے طلاق دی جائے، دیکھا جائے یہ اسلامی کلچر و معاشرہ نہیں ہے، یہ ایک مغربی طرز زندگی ہے، جسکا ہمارے اسلامی معاشرے سے دور دور تک کوئی تعلق و واسطہ ہرگز نہیں ہے۔
قومی پرائیویٹ ٹی۔وی چینلز پر بے حیائی کو بہت تیزی سے پروموٹ کیا جا رہا ہے، جو کسی صورت پاکستان کا کلچر نہیں ہے، ان پرائیویٹ چینلز میں صبح کی نشریات میں بے ہودہ گفتگو، عورت کے ذریعے ورزش کرنے کے طریقے جیسی بے حیائی کو برائے راست دکھانا شامل ہے۔
اسلامی اقدار و اسلامی معاشرے کو مدنظر رکھتے ہوے، ایسے بے ہودہ ڈراموں کو روکنا ہو گا جو موجودہ اسلامی کلچر و ماحول کو تیس نیس کرنے کا باعث بنتے جا رے ہیں۔
ڈرامہ ضرور بنے، لیکن ایسا ڈرامہ ہو جس میں اسلامی اقدار و کلچر کو نمایاں دکھایا جائے، جس سے آنے والی نوجوان نسل اپنی زندگیاں قرآن و سنت و اسلامی اصولوں مطابق گزار سکیں۔
موجودہ دور کے ڈراموں کو دیکھتے ہوے واضع نظر آ رہا ہے چند لبرل لوگ جو مغربی کلچر کو پروموٹ کرنا چاہتے ہیں اور محبت کے نام پر زنا جیسی بے حیائی کو نوجوان نسل میں پھیلانا چاہتے ہیں۔
یہ کلچر موجودہ پاکستانی ڈراموں میں مختلف پاکستانی ٹی۔وی چینلز پر دکھایا جا رہا ہے، جنھیں روکنے کی بلکل کوشش نہیں کی جا رہی۔
اللہ کے بنائے گئے زندگی گزارنے کےاصولوں کو روندا جا رہا ہے، ناجائز محبت و زنا کو بڑھ چڑھ کر پروموٹ کیا جا رہا ہے، جو لمحہ فکریہ ہے۔
ڈراموں میں ہیرو اور ہیروئن کو قریب سے قریب تر کر کے دکھایا جا رہا ہے، جو اسلامی اقدار کے بلکل خلاف ہے، مختلف جگہوں پر فلموں کی شوٹنگ کے دوران بے ہودہ ڈانس اور ہیرو اور ہیروئن کو بے حیاء حرکات کروا کر سین بنائے جا رے ہیں، جو قرآن و حدیث کے خلاف ہیں۔
موجودہ ڈراموں میں، مذہب اسلام کو ظلم و ستم کا مذہب قرار دینا اور اسلام پر چلنے والوں کو برا بھلا کہنا اور انھیں برا دکھانا، انھیں شدت پسند و انتہا پسند ہونے کا درس دینا، اور نوجوان نسل کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے۔
موجودہ دور کے ڈراموں میں نوجوان نسل کو اسلام سے دور اور بے حیائی کی طرف زیادہ کیا جا رہا ہے، یہ عمل قابل مذمت ہے، ایسے لبرل و بے حیاء لوگوں کو بروقت روکنا ہو گا، جو اسلامی معاشرے کو تباہ و برباد کرنے کا باعث بنتے جا رے ہیں۔
A significant difference between old Pakistani Drama
Please, Like / Comments / Share
Comments
Post a Comment
For More Information Please Comments.