دورِ حاضر میں یزیدیوں کی پہچان | فلسطین، کربلا، عرب امارات اور پاکستانی محنت کشوں کی دردناک حقیقت
آزاد کشمیر الیکشن 2021
Azad Kashmir Election 2021
تحریر: بشارت موسوی
آزاد کشمیر الیکشن 2021 میں ن لیگ نے حسب روایت ملی بھگت کر کے کشمیری مہاجرین کے ووٹوں کو مستقل ایڈریس پر شفٹ کر دیا جبکہ کشمیری مہاجرین پاکستان کے مختلف شہروں میں مقیم ہیں جہاں وہ محنت مزدوری کر کے بچوں کا پیٹ پال رے ہیں، اور یہ مہاجرین ایل۔او۔سی کے باسی ہیں جہاں زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں کس وقت بھارتی گولا باری کا شکار ہو جائیں اور جامع شہادت نوش کر جائیں۔
کئی سالوں سے پاکستان کے مختلف شہروں میں ووٹ کاسٹ کرنے والے مہاجرین الیکشن 2021 میں کافی پریشان دکھائی دیئے، کیونکہ انکے ووٹوں کے ساتھ بہت بڑا کھلواڑ کیا گیا۔
الیکشن 2021 میں کشمیریوں کا خیال ہے، وفاق میں موجود حکومت پی۔ٹی۔آئی جو برسر اقتدار ہے اور عمران خان نے کشمیر جیسے دیرینہ حل طلب مسئلے کو پوری دینا میں بہتر انداز میں اجاگر کیا ہے اور کشمیریوں کی آواز کو بہتر انداز میں بلند کیا ہے۔
الیکشن کمپین کے دوران مسلم لیگ ن نے بھر پور جلسے کیے لیکن مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے بھارتی مظالم کا ذکر نہیں کیا گیا اور نہ ہی مودی کو برا بھلا کہا گیا، ن لیگ کے جلسوں میں صرف اور صرف عمران خان کو برا بھلا کہا گیا اور ٹارگٹ کیا گیا، حالانکہ کشمیر کے الیکشن میں مقبوضہ کشمیر کے مظلوم کشمیریوں کے حقوق کے بارے میں بات ہونی چاہیے تھی، لیکن ن لیگ نے صرف اور صرف عمران خان کو ٹارگٹ کیا۔
جبکہ عمران خان کی پارٹی پہلی بار آزاد کشمیر الیکشن میں شرکت کر رہی ہے، اس سے قبل مسلم، کانفرنس پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتیں کشمیر میں حکومتیں کرتی رئیں ہیں۔
سن 2015 کے الیکشن میں وفاق میں ن لیگ کی حکومت کے باعث کشمیر میں پہلی بار ن لیگ کی حکومت وجود میں آئی اور ن لیگ نے پانچ سال مکمل کیے۔
ن لیگ کے جلسوں میں مرہم نواز یہ کہتی نظر آئی کہ کشمیر میں حکومت کو حساب دینا ہو گا حالانکہ کشمیر میں ن لیگ نے حکومت کی اور پانچ سال پورے کیے۔
الیکشن 2021 میں دیکھا گیا، کشمیریوں نے ن لیگ سے نفرت کا اظہار کیا، کشمیریوں کا کہنا ہے، ن لیگ نے پانچ سال حکومت کی لیکن کشمیر میں کوئی ترقیاتی کام نہیں کیے گئے اور نہ ہی مقبوضہ کشمیرمیں ہونے والے مظالم کے بارے میں دنیا کو بہتر انداز میں آگاہ کیا گیا۔
الیکشن 2021 میں کشمیریوں کا کہنا ہے، پی۔ٹی۔آئی کو ووٹ دیکر کامیاب کروائیں گئے تاکہ وفاق میں موجود حکومت مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم کو بے نقاب کرے، اسی لیے، اس الیکشن میں کشمیریوں نے بھر پور پی۔ٹی۔آئی سے یکجہتی کا اظہار کیا اور کامیاب کروانے کا ارادہ کیا۔
وزیراعظم عمران خان نے کشمیر کے منعقد کردہ جلسوں میں بھر پور شرکت کی اور مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم کا ذکر کیا اور مودی کے ظلم و ستم کے بارے کھل کر اظہار خیال کیا، مقبوضہ کشمیر میں کشمیری نوجوانوں اور حریت رہنماوں سے اپنی ہمدردی کا اظہار کیا اور ثابت کیا، عمران خان ہی واحد لیڈر ہیں جو مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم کو بے نقاب کر رے ہیں اور مودی کی آر۔ایس۔ایس کی اڈیالوجی کو پوری دنیا کو بتا رے ہیں۔
وزیراعظم عمران خان کے ہمدردانہ خطاب کے بعد کشمیریوں نے تحریک انصاف کو بھر پور سپورٹ کا ارادہ کیا، جسکی بدولت کشمیر میں پی۔ٹی۔آئی کی مقبولیت میں بے پناہ اضافہ ہوا، اور پی۔ٹی۔آئی حکومت بناتے ہوے دکھائی دی۔
تحریک انصاف کے نوجوان کھلاڑی سید ذیشان حیدر کاظمی نے راجہ فاروق حیدر کا بھر پور مقابلہ کیا لیکن، ناتجربہ کار ہونے کے باعث الیکش ہار گئے، راجہ فاروق حیدر الیکشن جیت گئے، حالانکہ راجہ فاروق حیدر دو حلقوں سے الیکشن لڑے تھے، لیکن انھیں ایک حلقہ میں تحریک انصاف کے دیوان چغتائی نے شکست سے دوچار کیا۔
تحریک انصاف نے آزاد کشمیر میں واضع اکثریت حاصل کر لی ہے اور حکومت بنانے کی پوزیشن میں آ گئی ہے
ہمیشہ کی طرح مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے جیتنے والی جماعت پر دھاندلی کا الزام لگایا، آزاد کشمیر الیکشن سے قبل ن لیگ کی حکومت بر سر اقتدار رہی اور ساری مشینری ن لیگ کی پیروکار تھی، سارے کنٹرول کے بعد دھاندلی کا رونا، رونا ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی پہچان بن چکا ہے، یہ دونوں پارٹیاں جب بھی الیکشن ہارتی ہیں تو الزام تراشی کا سہارا لیتی ہیں، شائد انکے اندر شکست تسلیم کرنے کا حوصلہ نہیں ہے۔
پاکستانی عوام بھی جان چکی ہے یہ جماعتیں جھوٹ کا سہارا لیتی ہیں اور دوسروں پرالزام لگاتی ہیں۔
کشمیر کے الیکشن ہمیشہ صاف اور فیئر ہوے ہیں، 2021 کے الیکشن میں پہلی بار ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے کشمیر کے الیکشن میں دھاندلی کا الزام لگایا ہے، کشمیر کی عوام انہتائی سمجھدار اور پڑھی لکھی ہے، وہ سمجھتی یے، جو حکومت وفاق میں حکمرانی کر رہی ہے اسی کو ووٹ دیا جائے، تاکہ کشمیری عوام کے مسائل جلد از جلد حل ہوں، کشمیر کے الیکشن کی تاریخ بتاتی ہے، جو بھی جماعت اسلام آباد میں بر سر اقتدار ہے، اسی کی حکومت آزاد کشمیر میں بنتی ہے۔
تحریک انصاف نے 25 نشستیں جیتی ہیں، پیپلز پارٹی نے 11 ن لیگ نے 6، مسلم کانفرنس اور پیپلز پارٹی آزاد کشمیر 1،1 سیٹ جیتنے میں کامیاب ہوئی ہیں۔
کہا جا سکتا ہے، کشمیریوں نے عمران خان پر بھروسہ کرتے ہوے اپنا قیمتی ووٹ دیا ہے، تاکہ عمران خان کشمیریوں کی آواز کو اقوام عالم تک پہنچائیں اور کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلوانے میں اپنا اہم کردار ادا کریں۔
Please, Like / Comments / Sahre
Comments
Post a Comment
For More Information Please Comments.