دورِ حاضر میں یزیدیوں کی پہچان | فلسطین، کربلا، عرب امارات اور پاکستانی محنت کشوں کی دردناک حقیقت
عید قربان پر جانور ذبح کرنے کے مسائل اور انکا شرعی حکم
Issues of slaughtering animals on Eid-ul-Adha and their Shari'ah ruling
سوال کیا جا رہا ہے، کہ قربانی کے
گوشت کو گھر میں کیسے محفوظ کیا جا سکتا ہے؟
بازار سے دستیاب گوشت زیادہ دیر تک اچھی حالت میں رہتا ہے، جبکہ قربانی کا گوشت گھروں میں فریج میں رکھتے ہیں، تو فریج میں پڑی ہر چیز سے گوشت کی بو آنے لگتی ہے، اور جب گوشت پکایا جاتا ہے، اس وقت بھی ذائقہ تبدیل محسوس ہوتا ہے۔
تفصیل کے ساتھ جواب حاضر خدمت ہے۔
جناب والا! اس سارے عمل کا قصور وار لایا گیا قصائی ہوتا ہے۔
اس نے جانور کو ذبح درست طریقے سے نہیں کیا، گوشت کو کچھ دیر تک لٹکا کر ہوا نہیں لگوائی گئی۔
ذبح کرتے وقت، قصائی کو جانور کی گردن کا منکا کبھی بھی نہ توڑنے دیں، پہلے ساری رگیں اپنے سامنے کٹوائیں، خون کا بہاؤ بتا دے گا کہ جانور درست طریقے سے ذبح ہوا ہے، درست طریقے سے ذبح کرنے پر جانور کا بہت سارا خون نکلے گا۔
پانی کے پائپ سے جانور پر کبھی بھی پانی نہ ڈالا جائے، کہ جانور ٹھنڈا جلدی ہو جائے، اسطرح سارا خون خارج نہیں ہو گا، قصائی کی جلدی میں جانور حرام ہو جاتا ہے۔
جانور کی گردن کا منکا توڑنے سے بھی جانور مر جاتا ہے اور سارا خون خارج نہیں ہو پاتا۔
گردن موڑ کر اس کا منکا توڑنا جانور کو شدید تکلیف میں مبتلا کرنا ہے، بلکہ چاہیے، جانور کو ذبح کرنے کے بعد اس کا تمام خون نکل جائے، مکمل سانس نکلنے کے بعد جب بے حس و حرکت ختم ہونے تک، جانور کی کھال اتارنے میں جلدی نہ کی جائے، جبکہ حرام مغز کاٹ دینے سے جسم دم مسفوح سے پوری طرح پاک نہیں ہوتا، کیونکہ حرام مغز کے ذریعے دماغ اور جسم کا رابطہ قائم رہتا ہے اور اس کے ذریعے بہنے والے خون کی نجاست سے جسم پاک ہو جاتا ہے
اس سلسلے میں علماء کا موقف یہ ہے کہ ذبح کرتے وقت جلد کاٹنے کے بعد مندرجہ ذیل رگیں کاٹی جائیں، جنکی تفصیل نیچے دی گئی ہے۔
حلقوم" اس سے مراد سانس کی رگ ہے، اس کے کاٹنے سے سانس لینے کا سلسلہ ختم ہو جاتا ہے۔
مری" کھانے پینے کی نالی، اس کے ذریعے چارہ اور پانی وغیرہ معدہ میں جاتا ہے، اس کے کاٹنے سے کوئی غذا وغیرہ معدہ میں نہیں جا سکتی، اسے بھی کاٹنا چاہیے۔
الو دجان" اس سے مراد وہ دو رگیں جو حلقوم اور مری کے اردگرد ہوتی ہیں، ان کے ذریعے خون گردش کرتا ہے، اس کے کاٹنے سے دم مسفوح نکل جاتا ہے۔
ان کے بعد گردن کی ہڈی کا جوڑ ہوتا ہے، یہی وہ جوڑ ہے، جسے گردن پیچھے کی طرف موڑ کر کھولا جاتا ہے اور اسے ہم منکا ٹوٹ جانے سے خیال کرتے ہیں۔
پھر سفید دھاگے کی طرح حرام مغز روئی کی بتیوں کی شکل میں نظر آتا ہے، اس کے کٹ جانے سے جسم اور دماغ کا تعلق ختم ہو جاتا ہے۔
ذبح کرتے وقت صرف گردن کی ہڈی تک کاٹنا چاہیے، حرام مغز کو کاٹنا ذبح کے اصولوں کے خلاف ہے، چنانچہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں ایک عنوان ’’نحر اور ذبح کا بیان‘‘ قلم بند کیا ہے۔
انہوں نے اس کے تحت سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے متعلق لکھا ہے کہ وہ حرام مغز کو کاٹنے سے منع کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ جانور کو اس کی گردن کی ہڈی تک کاٹ کر چھوڑ دیا جائے تا کہ وہ ختم ہو جائے، امام بخاری رحمہ اللہ نے سیدنا عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ ذبح کرتے وقت جانور کی رگیں کاٹنا ہوتی ہیں، میں ان کے ساتھ حرام مغز کوکاٹنا اچھا خیال نہیں کرتا.
جب جانور مکمل ٹھنڈا ہو جائے اور سانس باقی نا رہے تب منکے کی ہڈی کو کھولنا چاہیئے اور سر جسم سے جدا کرنا چاہیئے۔
اس وقت تک جانور کے جسم کا سارا خون خارج ہو چکا ہوتا ہے اور ذبح کا مکمل طریقہ بھی یہی ہے۔
کچھ موسمی قصائی اپنے ہاتھ میں موجود چھری کی نوک کو تکبیر کے فوری بعد حرام مغز میں چبھو کر جانور کو بے حس کر دیتے ہیں، یہ طریقہ درست نہیں ہے، کچھ تکبیر پھیرنے کے ساتھ ہی گھٹنا گردن کے پیچھے رکھ کر سر کھینچ کر منکا توڑ دیتے ہیں، یہ بھی اصول ذبح کے خلاف ہے۔
جانور کا مکمل خون خارج نا ہو تو جھٹکے والے مردار جانور اور اس جانور کے گوشت کی بو اور ذائقہ ایک جیسا محسوس ہو گا۔
پکاتے ہوئے بھی مردار جیسی بو دے گا باوجود اسکے کہ اللہ کا نام لے کر ذبح کیا گیا جانور ہو گا۔
قصائی کے پاس وقت بہت کم ہوتا ہے، اس لیے وہ جلدی میں یہ سب کچھ کرتے ہیں، ان سے تکبیر سنیں، کوشش کریں کہ گردن پہ چھری خود چلائیں، اگر یہ کام خود نا کر سکیں تو باآواز بلند تکبیر پڑھیں، تاکہ اگر قصائی تکبیر بھول رہا ہو تو اسے یاد آ جائے۔
وہڑا "بڑا جانور" درست ذبح میں ٹھنڈا ہونے کے قریب ایسے حرکت کرے گا، جیسے بھاگ رہا ہے، اپنے چاروں پاؤں کو حرکت دے گا اور پانچ سات منٹ کے بعد ایسا ہوتا ہے، ذبح کرنے کے بعد، جبکہ چھوٹا جانور یعنی بکرا، چھترا دنبہ، ٹھنڈا ہونے کے قریب کانپے گا اس پہ ہاتھ رکھیں تو ہلکی سی لرزش محسوس ہو گی، یہ دونوں عمل ہمیشہ ہونا ضروری نہیں لیکن ایسا ہو تو سمجھیں جانور درست ذبح ہو گیا۔ با فضل خدا
عید والے دن ہر شخص قصائی بنا ہوتا ہے جو اس کام کو جانتا بھی نہیں۔
اس وجہ سے جب آپ گوشت محفوظ کرتے ہیں، تو اس میں سے بدبو آنے لگتی ہے، کیونکہ وہ ذبح کا نہیں گردن کا منکا توڑ کر جھٹکے کا گوشت ہو چکا ہوتا ہے۔
جانور آپکی حلال کمائی کا ہے، اصلی قصائی جو سارا سال یہ کام کرتا ہو اور دین محمدی کو سمجھتا ہو اس کو ذبح کرنے کی ذمہ داری دیں، انشاءاللہ تعالیٰ سب درست رہے گا۔
بہتر ہے جانور میں آپکا تیسرا حصہ ہو، دو حصے رشتہ داروں اور مساکین میں تقسیم کریں ایک حصہ آپ بچا کر رکھیں تو اس میں کوئی عیب نہیں ہے، فریج میں گوشت محفوظ کرنے میں بھی کوئی عیب نہیں ہے، لیکن ذبح درست طریقے سے کروائیں، تو مشکل پیش نہیں آئے گی۔ بافضل خدا
امید کی جاتی ہے، جانور کو ذبح کرواتے وقت آپ اوپر دی گئی تمام باتوں کا خاص خیال رکھیں گئے اور اپنے جانور کو قصائی کے ہاتھوں مردار ہونے سے بچائیں گے۔
Please, Like / Comments / Share
Comments
Post a Comment
For More Information Please Comments.