دورِ حاضر میں یزیدیوں کی پہچان | فلسطین، کربلا، عرب امارات اور پاکستانی محنت کشوں کی دردناک حقیقت

Image
  دور حاضر میں یزیدیوں کی پہنچان   تحریر:   بشارت موسوی     امام حسینؑ اور اہلِ بیتؑ کی عظیم قربانی  یہ تحریر سانحۂ کربلا، امام حسینؑ کی عظیم قربانی، فلسطین پر جاری مظالم، عرب امارات میں پاکستانی محنت کشوں کے خلاف کارروائیوں اور موجودہ دور میں یزیدی سوچ کے مختلف پہلوؤں پر مبنی ہے۔ میں نے اسلامی تاریخ اور موجودہ عالمی حالات کو جوڑتے ہوئے اپنے خیالات پیش کیے ہیں۔ امام حسین علیہ السلام اور انکے خاندان کو یزید نے کربلا کے مقام پر شہید کیا  امام علیہ السلام کو شہید کرنے کے بعد مختلف جگہوں پر جشن منایا گیا امام علیہ السلام         کے سر مبارک  کو پامال کیا گیا ، اس شہزادے کے سر کی بے حرمتی کی گئی جسے رسول ص اپنے کندھوں پر سوار کرتے  تھےاپنے شہزادوں کو گھوڑ سواری  کرواتے تھے،  امام حسین علیہ السلام کی اس عظییم الشان قربانی کو  تاریخ نے محفوظ کیا ہے، آج پوری دنیا امام حسین  علیہ السلام کی بچوں کے ساتھ دین محمدی ص کے لیے دی گئی عظیم قربانی کو یاد کرتی ہے۔   بیشک     " قتل حسین  ...

Pakistan Cricket Team`s Disappointing Performance for the Tour of England دورہ انگلینڈ کے لیے پاکستان کرکٹ ٹیم کی مایوس کن کارکردگی

 دورہ انگلینڈ کے لیے پاکستان کرکٹ ٹیم کی مایوس کن کارکردگی

Pakistan Cricket Team`s Disappointing Performance for the Tour of England

تحریر: بشارت موسوی 

وبائی مرض کووڈ-19 کے باعث پوری دنیا میں جسمانی سرگرمیاں ختم ہو گئی تھیں اور کسی بھی گیم کا انعقاد نہ ہونے کے برابر تھا۔ 

سن 2021 میں پاکستان کرکٹ  ٹیم نے جون و جولائی میں  دورہ انگلینڈ کا آغاز کیا، دورے کے آغاز میں ہی پاکستانی کرکٹ ٹیم مشکلات میں نظر آئی اور ٹیم کی کارکردگی ایک بار پھر سوالیہ نشان بن گئی؟

اگر پاکستان کرکٹ ٹیم کی  کارکردگی پر نظر ڈالی جائے، تو ٹیم نے ہمیشہ ہی سے ملک و قوم کو مایوس کیا ہے، پاکستان کرکٹ ٹیم میں بے پناہ سفارش پائی جاتی ہے، کرکٹ بورڈ میں کئی دہائیوں تک رشید برادران نے قبضہ کیا اور سفارشی لوگوں کو کرکٹ ٹیم و بورڈ میں شامل کیا گیا، یہ سلسلہ کئی دہائیوں تک چلتا رہا اور ابھی تک جاری ہے۔

جب بھی کوئی ورلڈ کرکٹ ٹورنامنٹ یا سیریز منعقد کی گئی وہاں پر قومی ٹیم نے بری کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوے ملک و قوم کو سخت مایوس کیا۔

سن 1992 کے ورلڈ کپ کے بعد کئی ورلڈ کپ منعقد ہوے، جنھیں پاکستان جیتنے کی پوزیشن میں بھی تھا لیکن ٹیم نے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوے جیتے ہوے میچز ہارے اور ٹیم ٹورنامنٹ سے متعد بار آوٹ  ہوئی، کمزور ممالک کی ٹیمیں اپنی کارکردگی کی بنیاد پر لسٹ میں پاکستان سے قدرے بہتر رئیں، جو پاکستان کرکٹ بورڈ و سلیکٹرز کے لیے شرمندگی کا باعث ہے۔

دنیا کی دیگر چھوٹی ٹیمیں بھر پور کھیل کا مظاہرہ کرتی رئیں، جن میں بنگلہ دیش، سری لنکا اور آئر لینڈ جیسی کمزور  ٹیموں نے عمدہ کھیل کا مظاہرہ کیا، ان ٹیموں نے بڑی ٹیموں کے ساتھ بھر پور مقابلہ کیا، جبکہ پاکستان کرکٹ ٹیم دنیا کی مضبوط ٹیموں میں تصور کی جاتی ہے، لیکن کارکردگی مایوس کن رہی۔

حالیہ دورہ انگلینڈ 2021 میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی مایوس کن کارکردگی جاری ہے، میزبان انگلینڈ نے تین ون ڈے میچز کی سیریز میں تینوں ون ڈے میچ جیت کر سیریز اپنے نام کر لی ہے۔

حالانکہ انگلینڈ کرکٹ ٹیم میں  نامی گرامی کرکٹرز ٹیم کا حصہ نہیں تھے، انگلینڈکرکٹ بورڈ نے زیادہ تر کاونٹی کرکٹ کلب سے کھلاڑی منتخب کیے اور پاکستان کے ساتھ میچز کروا دیئے، جن میں انگلینڈ کا پلہ بھاری رہا اور انکا پاکستانیوں کے لیے کیا گیا تجربہ بھی کامیاب رہا، جبکہ پاکستان کی طرف سے تجربہ کار کھلاڑی کھیل رے تھے، اور تجربہ کار باولنگ و بیٹنگ کوچ بھی موجود تھے۔

تیسرے ون ڈے میچ میں انگلینڈ نے ٹاس جیت کر پاکستان کو پہلے کھیلنے کی دعوت دی، پاکستان نے پہلے کھیلتے ہوے پچاس اوورز میں بابر اعظم کی سینچری اور محمد رضوان کے 74 رنز کی بدولت 331 رنز کا اچھا حدف حاصل کیا۔

بظائر لگ رہا تھا پاکستان آخری ون ڈے میچ بآسانی جیت جائے گا، کیونکہ پاکستان کے پاس اچھے باولرز موجود ہیں جو اپنی بہترین باولنگ سے مخالف ٹیم کو پچھاڑ سکتے ہیں اور ٹیم کو میچ میں کامیابی دلوا سکتے ہیں۔

دوسری اننگز میں انگلینڈ نے رنز کے تعاقب کے لیے اپنی بیٹنگ کا دھواں دار آغاز کیا، انگلینڈ کی ٹیم 10 رنز فی اوور کے حساب سے بنا رہی تھی، حسن علی نے وکٹ گرا دی، لیکن آنے والے بیٹسمینوں نے رنز بنانے کی رفتار کو جاری رکھا اور رنز بناتے گئے، پاکستانی باولرز کی خراب باولنگ سے انگلینڈ کے ناتجربہ کار کھلاڑیوں نے خوب فائدہ اٹھایا، آزادانہ شارٹس کھیلتے رے اور رنز کا تعاقب کرتے رے۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کی فیلڈنگ ہمیشہ سے ہی خراب رہی دورہ انگلینڈ کے دوران خراب فیلڈنگ کا بھرپور مظاہرہ کیا گیا، آخری ون ڈے میچ میں کئی کیچز چھوڑے گئے۔

آخری میچ میں انگلینڈ کے ایک کھلاڑی کا کیچ جو کہ وکٹ کیپر سرفراز کو کرنا چاہیے تھا، جسے   سرفراز آسانی سے پکڑ سکتے تھے،  لیکن اس کیچ کو شاداب خان نے جمپ لگا کر پکڑا، چاہیے تو یہ تھا سرفراز اس کیچ کے لیے کال دیتے اور خود کیچ کرتے لیکن ایسا ہوا نہیں، کیمرے کی آنکھ نے سب دکھایا،ایسے لگا، جیسے سرفراز کا اس کیچ کو پکڑنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔

آخری ون ڈے میچ کا انجام یہ ہوا ٹیم ایک بڑا سکور بورڈ پر سجانے کے بعد انگلینڈ کی ناتجربہ کاونٹی ٹیم سے بآسانی شکست کھا گئی، اس پوری شکست کے ذمہ دار کرکٹ ٹیم کے بیٹنگ اور باولنگ کوچ ہیں، اور سلیکٹرز بھی جوابدہ ہیں،  انھوں نے کیوں پرچی و انفٹ پلئیرز قومی ٹیم میں شامل کیے، جسکے باعث ٹیم کو سیریز میں عبرت ناک شکست ہوئی۔

سرفراز احمد جنکا تعلق کراچی سے ہے، ہمیشہ کوشش کرتے ہیں زیادہ کھلاڑی کراچی سے پاکستان کرکٹ ٹیم میں کھیلیں اور اسی طرح جب کوئی دوسرے صوبوں سے کپتان بنتا ہے، انکی بھی کوشش ہوتی ہے، انکے صوبے کے کھلاڑی ٹیم میں کھیلیں تاکہ کپتان کی من مانیاں قائم رہ سکیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ و ٹیم کے اندر بے پناہ سیاست پائی جاتی ہے اور اس سیاست نے قومی کرکٹ کو تباہ کر دیا ہے، ٹیم کے اندر سفارشی کھلاڑی شامل کیے گئے ہیں، جنکی کارکردگی زیرو ہے، اور سلیکٹرز کے اوپر ایک سوالیہ نشان ہے؟

پاکستان کرکٹ ٹیم میں کئی دہائیوں سے سفارشی کھلاڑی شامل کیے جاتے رے ہیں اور یہ سلسلہ ابھی تک رکا نہیں ہے بلکہ جاری و ساری ہے۔

کرکٹ بورڈ میں کئی سابقہ کھلاڑی مختلف عہدوں پر فائز ہیں جو اپنے خاندان والوں کو پاکستان کرکٹ بورڈ میں اور قومی ٹیم میں شامل کرنے کی بھر سفارش کرتے نظر اتے ہیں، جسکی وجہ سے پاکستان کرکٹ ٹیم میں کمزوریاں پائی جا رہی ہیں اور ایک بہترین ٹیم نہیں بن پا رہی، میرٹ کو بھی نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

کچھ سال قبل قومی ٹیم میں غریب و باصلاحیت کھلاڑیوں کو شامل کیا جاتا رہا، جن میں بے پناہ ٹیلنٹ موجود تھا ان غریب کھلاڑیوں نے پاکستان کے لیے بہترین کرکٹ کھیلی اور پوری دنیا میں بڑا نام و عزت کمائی، جن میں آل راونڈر عبدالرزاق اور محمد یوسف جیسے ہونہار کھلاڑی شامل تھے۔

موجودہ کرکٹ ٹیم انتہائی کمزور اور سفارش پر مبنی ہے، بڑے لوگوں کے بچوں کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے، جنکے اندر انٹر نیشنل کرکٹ کھیلنے کی صلاحیت نہیں ہے، لیکن بورڈ کی سفارش پر کھیل رے ہیں اور قومی ٹیم کی ساکھ کو برباد کر رے ہیں۔

وزیر اعظم پاکستان عمران خان کو چاہیے وہ کرکٹ بورڈ میں اچھے اور باصلاحیت لوگوں کو موقع دیں، جو وطن عزیز کی عزت کے لیے بہترین ٹیم سلیکٹ کریں اور کرکٹ ٹیم ملک و قوم کے لیے بہترین کھیل پیش کرے۔

جیتیں بھی تو بہترین کھیل پیش کر کے جیتیں اور ہاریں بھی تو بہترین فائٹ کر کے ہارے، وزیر اعظم عمران خان خود دنیا کے بہترین آل راونڈر  کرکٹر رے ہیں، ان سے بہتر کرکٹ کو کوئی بھی نہیں سمجھ سکتا۔

حالیہ دورہ انگلینڈ کے لیے ون ڈے میچز تک ٹیم کی کارکردگی مایوس کن رہی جبکہ ٹی۔20 میچز ابھی بقایا ہیں، اگر ٹی۔20 میچز میں بھی ٹیم کی کارکردگی ون ڈے میچز کی طرح رہی تو کرکٹ کے اعلی عہد دران کو سنجیدگی سے سوچنا ہو گا، کیونکہ ٹی۔20 ورلڈ کپ بھی نزدیک ہے، اسکی تیاری کے لیے بہترین کرکٹ ٹیم بنانی ہو گی، ٹیم کی فیلڈنگ جیسی کمزوریاں دور کرنا ہوں گی، ٹیم کی فیلڈنگ پر خصوصی توجہ دینا ہو گی، کیونکہ پاکستان کرکٹ ٹیم کی فیلڈنگ ایک سوالیہ نشان ہے؟ ٹیم نے کئی جیتے میچ ناقص فیلڈنگ کے باعث گنوا دیے ہیں۔

کرکٹ ٹیم کی فیلڈنگ اور بیٹنگ ٹیکنیک کو بہتر کرنے کی اشد ضرورت ہے، پاکستان میں بہترین سابقہ کھلاڑی موجود ہیں جنکی خدمات لی جا سکتی ہیں۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کی کارکردگی مایوس کن ہے، لیکن پاکستان کا سوشل میڈیا کئی سالوں سے ٹیم کی ان الفاظ میں حوصلہ افزائی کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے "تم جیتو یا ہارو، ہمیں تم سے پیار ہے"۔

لیکن کرکٹ  ٹیم اس سلوگن کا ناجائز فائدہ اٹھا رہی ہے، ٹیم جیتنے کی کوشش نہیں کر رہی، صرف ہارنے کی کوشش میں مگن ہے، کیونکہ سلوگن کے مطابق عوام ان سے پیار کرتی ہے، عوام ان سے یہ سوال بھی کرتی ہے ملک و قوم کا لاکھوں روپیہ انکی جیبوں میں جاتا ہے، اور کارکردگی صفر ہے، اس کا جواب کون دیگا؟ ٹیم کے لیے ہائر کیے گئے کوچز کو ماہوار لاکھوں روپے دیئے جاتے ہیں، لیکن انکی کارکردگی بھی مایوس کن ہے۔

دنیا بھر کی لیگ کرکٹ میچز نے کرکٹ کو تباہ و برباد کر دیا ہے، کرکٹ کی دنیا میں بے پناہ پیسہ شامل ہو گیا ہے، جس میں کھلاڑیوں کی کروڑوں روپے میں بولیاں لگتی اور کھلاڑی بکتے ہیں، کھلاڑیوں کے اکاونٹ میں اربوں کھربوں روپے موجود ہیں جسکے باعث کھلاڑیوں میں محنت سے کھیلنے اور پیسہ کمانے کی بھوک ختم ہو چکی ہے، پیسے کی وجہ سے پلئیرز غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کر رے ہیں، انکا خیال ہے ٹیم سے نکال بھی دیئے گئے تو دوسرے ممالک میں کرکٹ لیگ کھیل لیں گئے۔

ایک زمانہ تھا جب صرف انگلینڈ میں کاونٹی کرکٹ کھیلی جاتی تھی، اور ایک پورا سیزن مقرر کیا جاتا تھا، جہاں دنیا بھر کے اچھے کھلاڑیوں کو منتخب کیا جاتا تھا، اور وہ پلئیرز کاونٹی کلب کے لیے جان لگاتے تھے اور کلب کو فتح یاب کرنے میں اہم کردار ادا کرتے تھے، جہاں انھیں عزت کے ساتھ ساتھ اچھی خاصی رقم بطور انعام بھی دی جاتی تھی۔

اب جبکہ پوری دنیا میں کرکٹ لیگ کھیلی جا رہی ہیں، جہاں پر تمام کرکٹ کھیلنے والے ممالک کے کھلاڑی شرکت کر رے ہیں اور پیسہ کما رے ہیں، انھی کرکٹ لیگ کے باعث کھلاڑیوں میں تکبر غرور اور غیر ذمہ داری دیکھنے میں آ رہی ہے، جو کرکٹ کی تبائی کا باعث ہے اور افسوسناک بھی ہے۔

اگر ان لیگ کرکٹ کا سلسلہ پوری دنیا میں اسی طرح جاری و ساری رہا تو کرکٹ کی تبائی کو کوئی بھی نہیں روک سکے گا  اچھے اور محنتی کھلاڑی ملک کےلیے ناپید ہو جائینگے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کو سوچنا ہو گا اور دنیا بھر کی لیگ کھیلنے والے کھلاڑیوں کو محدود کرنا ہو گا، اچھے، محنتی اور ذمہ دار کھلاڑیوں کو میرٹ کی بنیاد پر منتخب کرنا ہو گا، جو ملک و قوم کے وقار و عزت میں اضافے کا باعث بنیں۔

ملک کے اندر بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے، کرکٹ بورڈ کو علاقائی کرکٹ پر بھر پور توجہ دینا ہو گی، جہاں سے ابھرتے ہوئے نوجوان محنتی کھلاڑیوں کا انتخاب کر کے انھیں قومی کرکٹ ٹیم کا حصہ بنایا جا سکے اور ملک و قوم کے لیے بہترین کرکٹ ٹیم کا انتخاب کر کے عملی جامع پہنایا جا سکے، کیونکہ پاکستانی قوم اپنی کرکٹ ٹیم کو جیتنا دیکھنا چاہتی ہے۔

Pakistan Cricket Team Performance

Please, Like / Comments / Share

Comments

Popular posts from this blog

سید محسن رضا کاظمی الحمیدی

تین بہن بھائیوں کی درد ناک داستان

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے لیے فرمایا